جب امریکا افغانستان سے انخلا کے بعد یوریشیا میں اپنی پالیسی کو نئے سرے سے ترتیب دے رہا ہے، تو پاکستان ایک ایسے زمینی پُل کے طور پر اُبھر کر سامنے آیا ہے جو وسطی ایشیا اور افغانستان جیسے خطوں تک رسائی فراہم کرتا ہے، جو کہ براہِ راست امریکی اثر سے باہر رہے ہیں۔ پاکستان ایک محفوظ اور توسیع پذیر زمینی راہداری مہیا کرتا ہے، جو ایران جیسے بلند خطرے والے راستوں یا شمالی غیر مستحکم گزرگاہوں سے بچنے کا ذریعہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان امریکا تعلقات کو پاک چین دوستی کے تناظر میں نہ دیکھا جائے، اسحاق ڈار

پاکستان اور عالمی بینک کے باہمی تعاون سے 482.

75 ملین ڈالر لاگت کا خیبر پاس اکنامک کوریڈور ایک نمایاں منصوبہ ہے جو پشاور سے طورخم اور وہاں سے وسطی ایشیائی ریاستوں تک رسائی کو بہتر بناتا ہے۔

یہ منصوبہ پاکستان کی بندرگاہوں سے مربوط ہے اور کم وقت میں ترسیل کو ممکن بناتا ہے۔ اندازہ ہے کہ یہ راہداری ایک لاکھ سے زیادہ ملازمتیں پیدا کرے گی اور ازبکستان، تاجکستان اور افغانستان کے ساتھ تجارتی راستے کھولے گی۔

گوادر اور پورٹ قاسم امریکی برآمدات اور انسانی امداد کے لیے متبادل رسائی فراہم کرتے ہیں، جس سے ان جغرافیائی طور پر حساس راستوں پر انحصار کم ہوتا ہے۔ تجارت سے ہٹ کر اس راہداری میں استحکام انسانی امداد کی فراہمی کو ممکن بناتا ہے۔

امریکی لاجسٹکس اور ٹیکنالوجی کی کمپنیاں ان راستوں پر کسٹمز، گوداموں اور ڈیجیٹل بارڈر سسٹمز میں سرمایہ کاری کے لیے وسیع گنجائش رکھتی ہیں، تاکہ بلوچستان اور افغانستان سے معدنی وسائل کی آمدورفت سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔ علاقائی توانائی منصوبوں جیسے CASA-1000 اور تاپی کو دوبارہ فعال کرنا، جن میں پاکستان مرکزی حیثیت رکھتا ہے، امریکا کی وسطی ایشیا میں توانائی کی موجودگی کو بحال کر سکتا ہے۔

پاکستان صرف ایک سیکیورٹی پارٹنر نہیں، بلکہ اس کا جغرافیائی محلِ وقوع اسٹریٹجک ہے، جس میں بے شمار امکانات پوشیدہ ہیں۔ پاکستان علاقائی انضمام اور رسائی کا ایک اہم ذریعہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان امریکا کے ساتھ معاشی تعاون بڑھانے کا خواہاں ہے، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب

پاکستان کے جغرافیے سے فائدہ اٹھا کر امریکا اپنے معاشی مفادات کو کارز اور افغانستان میں بہتر طور پر فروغ دے سکتا ہے۔ یہ ربط صرف اقتصادی فوائد تک محدود نہیں، بلکہ یہ ٹرانزٹ معیشتوں کو استحکام دیتا ہے اور امریکا کی طویل مدتی انخلا پالیسی سے بھی ہم آہنگ ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews امریکا امریکی سرمایہ کاری پاک امریکا تعلقات پاکستان پاکستان گیٹ وے وی نیوز

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکا امریکی سرمایہ کاری پاک امریکا تعلقات پاکستان پاکستان گیٹ وے وی نیوز اور افغانستان کے لیے

پڑھیں:

طالبان نے خواتین و بچوں کی فلاحی تنظیم کا دفتر سیل کر دیا، 6 اہلکار لاپتا

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں طالبان حکام نے خواتین اور بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ویمن اینڈ چلڈرن لیگل ریسرچ فاؤنڈیشن کے دفتر پر چھاپہ مار کر تنظیم کے 6 ملازمین کو حراست میں لے لیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق، کارروائی کے دوران طالبان اہلکاروں نے تنظیم کے کمپیوٹرز، دستاویزات اور دیگر دفتری سامان بھی قبضے میں لے لیا۔

یہ بھی پڑھیں: افغانستان: طالبان حکومت کا ایک اور متنازع فیصلہ، خواتین کو صحت کی تعلیم سے روکنے کا حکم

تاہم اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ گرفتار کیے گئے ملازمین کو کہاں منتقل کیا گیا ہے اور ان کی موجودہ حالت کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں 2 افراد تنظیم کی سربراہ زرقا یفتلی کے قریبی رشتہ دار ہیں، جو اس وقت افغانستان سے باہر مقیم ہیں۔

Sources in Kabul told Afghanistan International on Wednesday that Taliban agents raided the office of the Women and Children Legal Research Foundation (WCLRF) earlier this week and detained six staff members.https://t.co/ly2WtJb202 pic.twitter.com/fQ8qbUdHiN

— Afghanistan International English (@AFIntl_En) July 23, 2026

زرقا یفتلی خواتین کے حقوق کی معروف کارکن ہیں اور گزشتہ سال انہیں متحدہ عرب امارات کی جانب سے 2026 زاید ایوارڈ فار ہیومن فریٹرنٹی سے نوازا گیا تھا۔

ذرائع کے مطابق زیرِ حراست افراد کے اہلِ خانہ نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے طالبان حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے عزیزوں کی حراست کی جگہ، قانونی حیثیت اور صحت کے بارے میں فوری طور پر آگاہ کیا جائے۔

مزید پڑھیں: کرکٹ اسٹارز سے ملاقاتوں اور لباس کے معاملے پر طالبان رہنماؤں میں اختلافات بڑھ گئے

ویمن اینڈ چلڈرن لیگل ریسرچ فاؤنڈیشن تعلیم، خواتین اور بچوں کے حقوق کی وکالت، تحقیقی سرگرمیوں اور تحقیقاتی رپورٹس کی تیاری کے شعبوں میں کام کرتی رہی ہے۔

طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان میں سول سوسائٹی کی متعدد تنظیموں، خصوصاً خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں، پر سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔

اس عرصے کے دوران کئی سماجی کارکنوں کو حراست میں لیا گیا، جبکہ متعدد تنظیمیں اپنی سرگرمیاں محدود کرنے یا مکمل طور پر بند کرنے پر مجبور ہو چکی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

افغانستان سول سوسائٹی طالبان فلاحی تنظیم کابل کمپیوٹرز متحدہ عرب امارات ویمن اینڈ چلڈرن لیگل ریسرچ فاؤنڈیشن

متعلقہ مضامین

  • مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
  • ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی
  • طالبان نے خواتین و بچوں کی فلاحی تنظیم کا دفتر سیل کر دیا، 6 اہلکار لاپتا
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • سعودی ایپ ’ہُدہُد‘ عمرہ زائرین کے لیے جدید رہنما بن گئی، مکہ کے مذہبی و تاریخی مقامات تک رسائی آسان
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی