مارگلہ اور دریائے سواں میں بننے والی سوسائٹیاں اسلام آباد کے زیر آب آنیکی وجہ ہیں، معاملہ قومی اسمبلی میں پیش
اشاعت کی تاریخ: 6th, August 2025 GMT
مارگلہ اور دریائے سواں میں بننے والی سوسائٹیاں اسلام آباد کے زیر آب آنیکی وجہ ہیں، معاملہ قومی اسمبلی میں پیش WhatsAppFacebookTwitter 0 6 August, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی شاہدہ رحمانی نے اسلام آباد کے کئی رہائشی علاقوں کے زیرآب آنے کا معاملہ قومی اسمبلی میں اٹھا دیا۔
پی پی کی شاہدہ رحمانی نے قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد میں مارگلہ پہاڑیوں کے ساتھ اور دریائے سواں میں آبی گزرگاہ میں سوسائٹیاں بن رہی ہیں ، جن کی وجہ سے آج بھی اسلام آباد کے کئی علاقے زیر آب ہیں۔ پیپلزپارٹی کی رکن اسمبلی شاہدہ رحمانی نے سوال کیا کہ کیا حکومت آبی گزرگاہوں میں سوسائٹیزکی تعمیر روکنے کے لیے کوئی اقدامات کر رہی ہے ؟۔
وزیر مملکت برائے موسمیاتی تبدیلی شذرہ منصب علی نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے مشکل صورتحال کا سامنا ہے۔شذرہ منصب علی کا کہنا تھا کہ حکومت سیلابی پانی کو محفوظ بنا کر استعمال کرنے اور تجاوزات کے خاتمے پر کام کر رہی ہے جبکہ بارش کا پانی ذخیرہ کرکے اسے کارآمد بنایا جائے گا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپاکستان اسٹاک میں تاریخی دن، 100انڈیکس ایک لاکھ 45 ہزار کی سطح عبور کرگیا پاکستان اسٹاک میں تاریخی دن، 100انڈیکس ایک لاکھ 45 ہزار کی سطح عبور کرگیا بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کیخلاف توشہ خانہ2کیس کی اڈیالہ جیل میں سماعت 9اگست تک ملتوی وزیرِ اعظم کا اسلام آباد کے متعدد علاقوں میں بارش کے بعد نالوں سے متصل رہائشی علاقوں میں سیلابی کیفیت کا نوٹس چینی وزیرخارجہ رواں ماہ پاکستان کا اہم دورہ کریں گے مخصوص نشستوں پر بحال اراکین کو فی کس کتنے لاکھ روپے ملنے کا امکان ہے؟تفصیلات سب نیوز پر بحریہ ٹاؤن نے جائیدادوں کی نیلامی رکوانے کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع کرلیاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: اسلام آباد کے قومی اسمبلی
پڑھیں:
وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
پاکستانی کرکٹ کے لیجنڈ وسیم اکرم، سابق کپتان مصباح الحق، میزبان و اداکار فخر عالم، سابق کرکٹر سعید انور اور دیگر معروف شخصیات نے اس سال مشترکہ طور پر فریضۂ حج ادا کیا۔ تاہم دورانِ حج سوشل میڈیا پر ان کی بعض ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
وسیم اکرم کی رمی الجمرات کے دوران شیئر کی گئی ایک ویڈیو، جس میں انہوں نے اپنے مخصوص سوئنگ اسٹائل میں شیطان کو کنکریاں مارنے کا انداز اپنایا، خاصی وائرل ہوئی۔ بعد ازاں ایک اور ویڈیو میں وہ مصباح الحق کے لیے کیلے اٹھائے ہوئے دکھائی دیے، جس پر بھی صارفین نے مختلف تبصرے کیے۔
دوسری جانب فخرِ عالم نے اپنے حج سفر کی متعدد جھلکیاں سوشل میڈیا پر شیئر کیں جن میں اداکار بلال عباس خان اور کامیڈین تابش ہاشمی سمیت دیگر شخصیات بھی نظر آئیں۔ ان سرگرمیوں کے باعث بعض سوشل میڈیا صارفین نے اس سفر کو ’’حج کے بجائے پکنک‘‘ قرار دیا۔
@timesofkarachiWhy didn’t Wasim Akram, Fakhar-e-Alam, and Misbah-ul-Haq shave their heads as part of the Hajj ritual? #TOKReports #Hajj #WasimAkram #FakhareAlam #MisbahulHaq
♬ original sound - Times of Karachiحالیہ گفتگو میں وسیم اکرم، فخرِ عالم اور مصباح الحق نے ان تنقیدی تبصروں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگوں نے سوال اٹھایا کہ انہوں نے حج کے بعد سر منڈوانے کے بجائے صرف بال کیوں کٹوائے۔ ان کے مطابق حج پر روانگی سے قبل انہوں نے علماء کرام سے رہنمائی حاصل کی تھی جنہوں نے دو شرعی آپشنز بتائے تھے، یا تو مکمل سر منڈوایا جائے یا پھر قصر کروائی جائے، جس میں بالوں کا ایک حصہ کٹوایا جاتا ہے۔ انہوں نے دوسرا طریقہ اختیار کیا جو شرعی طور پر جائز ہے۔
انہوں نے ’’حج یا پکنک‘‘ سے متعلق تنقید پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حج ایک عظیم عبادت ہے، لیکن اس دوران انسان چوبیس گھنٹے صرف ایک ہی عمل میں مصروف نہیں رہتا۔ عبادت کے ساتھ دوستوں سے ملاقات، گفتگو، دعائیں، مسکراہٹیں اور خوشی کے لمحات بھی اس سفر کا حصہ ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تنقید کرنے سے پہلے لوگوں کو ان معاملات کی مکمل معلومات حاصل کرنی چاہئیں۔
وسیم اکرم اور ان کے ساتھیوں نے بتایا کہ انہوں نے نوجوان نسل کے لیے بھی مختلف ویڈیوز بنائیں تاکہ حج کی ادائیگی سے متعلق رہنمائی فراہم کی جا سکے اور نوجوانوں میں اس مقدس سفر کا شوق پیدا ہو۔ ان کے مطابق ان ویڈیوز کا مقصد صرف معلومات دینا اور لوگوں کو حج کے لیے آمادہ کرنا تھا۔
مدینہ منورہ سے گفتگو کرتے ہوئے فخر عالم نے کہا کہ حج مکمل کرنے کے بعد سب سے زیادہ یہی سوال پوچھا جا رہا ہے کہ آخر انہیں حج پر جانے کی ترغیب کیسے ملی۔ اس سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے کہا کہ انہوں نے پہلے سے کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں کی تھی، بلکہ وہ ہمیشہ یہی سوچتے تھے کہ جب دل سے تیاری محسوس ہوگی تو حج کریں گے۔ ان کے بقول جب انہیں معلوم ہوا کہ فخر عالم اور مصباح الحق بھی حج پر جا رہے ہیں تو انہوں نے بھی اس قافلے میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔
View this post on Instagramوسیم اکرم نے مزید کہا کہ وہ جلد 60 برس کے ہونے والے ہیں اور انہیں محسوس ہوا کہ اب اس مقدس فریضے کی ادائیگی کا بہترین وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے حج کے سفر کو جسمانی طور پر مشکل لیکن یادگار اور قابلِ برداشت قرار دیا۔
مصباح الحق نے بھی اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حج کا یہ سفر ان کی زندگی کے خاص ترین تجربات میں سے ایک ہے۔ ان کے مطابق دوستوں کے ساتھ اس روحانی سفر کو طے کرنے سے اس کی خوبصورتی اور یادیں مزید بڑھ گئیں، اور یہ تجربہ ہمیشہ ان کے دل میں محفوظ رہے گا۔