UrduPoint:
2026-06-02@22:35:33 GMT
مزدورکی کم ازکم تنخواہ کا نوٹیفکیشن جاری نہ کرنے پرسیکرٹری لیبرسے جواب طلب
اشاعت کی تاریخ: 6th, August 2025 GMT
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 06 اگست2025ء) لاہورہائیکورٹ نے عام مزدور کی کم از کم تنخواہ 37000 روپے مقرر کرنے کے حکومتی اعلان پر نوٹیفکیشن جاری نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سیکرٹری لیبر اینڈ ہیومن ریسورس ڈیپارٹمنٹ پنجاب سے جواب طلب کر لیا۔جسٹس خالد اسحاق نے منوں انڈسٹریز سمیت دیگر درخواستوں پر سماعت کی۔
(جاری ہے)
سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ حکومت جلد نوٹیفکیشن جاری کرے گی اور سماعت ملتوی کرنے کی استدعا کی، جس پر عدالت نے سماعت چند روز کے لیے ملتوی کر دی۔
درخواست گذاروں کا موقف تھا کہ حکومت پنجاب نے بجٹ میں مزدور کی کم از کم تنخواہ 37000 روپے مقرر کرنے کا اعلان کیا مگر اس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن تاحال جاری نہیں کیا گیا۔ انڈسٹریز حکومتی اعلان کے مطابق ادائیگیاں کر رہی ہیں، لیکن سرکاری نوٹیفکیشن کے بغیر وہ اس تنخواہ کی پابند نہیں۔درخواست گذاروں نے استدعا کی کہ مہنگائی کے اس دور میں 22000 روپے ماہانہ اجرت ناکافی ہے، لہذا عدالت صوبائی حکومت کو فوری نوٹیفکیشن جاری کرنے کا حکم دے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے نوٹیفکیشن جاری
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔