امریکی ریاست جارجیا میں فورٹ اسٹیورٹ آرمی بیس کو شدید حفاظتی اقدامات کے تحت لاک ڈاؤن کر دیا گیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ اقدام اُس وقت اُٹھایا گیا جب فوجی اڈے پر نامعلوم مسلح افراد نے اندھا دھند فائرنگ کی جس میں متعدد زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

پولیس اور دیگر متعلقہ ادارے فائرنگ کی اطلاع پر موقع پر پہنچ گئے۔ ایک مشتبہ شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔

مشتبہ ملزم کو تھانے منتقل کرکے تفتیش کی جا رہی ہے۔ تاحال ملزم کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی نہ ہی واقعے کا محرک کا تعین ہوسکا ہے۔

زخمیوں کی تعداد غیر واضح ہے۔ تاہم انتظامیہ نے تصدیق کی ہے کہ 5 فوجیوں کی حالت نازک ہے۔

فوری طور پر فوجی اڈے پر موجود افراد کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے کمروں میں رہیں اور دروازے اور کھڑکیاں بند رکھیں۔

فورٹ اسٹیورٹ کے فیس بک پیج پر بھی جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ "صورتحال ابھی غیر واضح ہے" اور حکام واقعے کی مزید تفصیلات حاصل کرنے میں مصروف ہیں۔

یہ واقعہ امریکی فوجی اڈے کی سلامتی کے حوالے سے تشویش کا باعث بنا ہے اور متعلقہ حکام واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: فوجی اڈے

پڑھیں:

ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی

امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔

رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔

خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔

اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔

ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • ایران کا بحرین میں ایمیزون کے ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنانے کا بڑا دعویٰ
  • بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورس کے ہیڈکوارٹر میں اہلکار کی اندھا دھند فائرنگ، 2 اہلکار ہلاک، تیسرے کی حالت نازک
  • بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی