WE News:
2026-06-03@06:32:07 GMT

بیوروکریسی کی بیرون ملک منتقلی، پُرتگال پر ہی نظریں کیوں؟

اشاعت کی تاریخ: 6th, August 2025 GMT

بیوروکریسی کی بیرون ملک منتقلی، پُرتگال پر ہی نظریں کیوں؟

وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ملک کی آدھی سے زیادہ بیوروکریسی نے پرتگال میں پراپرٹی خرید لی ہے اور اب وہ وہاں کی شہریت حاصل کرنے کی تیاری کررہی ہے۔

اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر اس موضوع پر گہری بحث شروع ہو گئی ہے۔ قریباً ہر شخص یہ جاننے کی کوشش کررہا ہے کہ پاکستان کی بیوروکریسی پرتگال کو ہی اپنی ترجیح کیوں بنا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ’پرتگال میں جائیدادیں، اربوں کی سلامی‘ خواجہ آصف کا بیوروکریسی پر سنگین الزام

پرتگال میں مقیم عبداللہ اسماعیل نے بتایا کہ پاکستانی بیوروکریسی کی جانب سے پرتگال میں پراپرٹی خریدنے اور وہاں سیٹل ہونے کی بنیادی وجہ گولڈن ویزا اسکیم کی آسان شرائط ہیں۔

انہوں نے کہاکہ گولڈن ویزا اب صرف چند ممالک میں دستیاب ہے اور پرتگال کی شرطیں خاصی آسان ہیں۔ اگر کوئی قریباً اڑھائی لاکھ یورو کی پراپرٹی پرتگال میں خرید لیتا ہے تو اسے گولڈن ویزا مل جاتا ہے، جس کے بعد یورپ میں آنا جانا نہایت آسان ہو جاتا ہے۔ البتہ پرتگال کی شہریت 5 سال کے بعد دی جاتی ہے اور اس حوالے سے کوئی سخت پابندیاں نہیں کہ آپ کو وہاں مستقل رہنا ضروری ہے، بلکہ سال میں صرف ایک بار وہاں آنا کافی سمجھا جاتا ہے۔ اس کے برعکس، دوسرے ممالک جیسے اسپین میں ویزا حاصل کرنے کے لیے کم از کم 5 لاکھ یورو کی سرمایہ کاری ضروری ہوتی ہے۔

عبداللہ اسماعیل کا کہنا ہے کہ پاکستانی بیوروکریسی کو بنیادی طور پر دوسرا پاسپورٹ چاہیے ہوتا ہے، اور چونکہ پرتگال یورپی یونین کا حصہ ہے اور اس کی شرائط نسبتاً آسان ہیں، اس لیے یہی سب سے اہم وجہ ہے کہ وہ پرتگال کی جانب راغب ہو رہے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ پرتگال کا پاسپورٹ دنیا کے مضبوط ترین پاسپورٹس میں پانچویں نمبر پر ہے اور اس کی رینکنگ قریباً برطانیہ کے برابر ہے۔ ان کا خیال ہے کہ زیادہ تر لوگ وہاں مستقل رہائش کا کوئی منصوبہ نہیں بنا رہے بلکہ صرف پاسپورٹ حاصل کرنے کے لیے سرمایہ کاری کررہے ہیں۔

اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز ایسوسی ایشن کے نائب صدر عدنان پراچہ کا کہنا ہے کہ اگرچہ پورے یورپ میں سرمایہ کاری کے مختلف منصوبے دستیاب ہیں، لیکن پاکستانی بیوروکریسی کی جانب سے پرتگال میں کی گئی سرمایہ کاری کا بنیادی مقصد وہاں کی شہریت حاصل کرنا اور ریٹائرمنٹ کے بعد پرتگال میں رہائش اختیار کرنا ہے۔

ان کے مطابق پرتگال کا گولڈن ویزا پروگرام یورپ کے چند آسان ترین سرمایہ کاری پروگراموں میں سے ایک ہے، جس کے تحت مخصوص مالیت کی پراپرٹی خریدنے پر غیر ملکی سرمایہ کاروں کو رہائشی اجازت نامہ (ریذیڈنسی) مل جاتا ہے، اور 5 سال بعد وہ پرتگال کی شہریت کے بھی اہل ہو جاتے ہیں۔

’چونکہ پرتگال یورپی یونین کا رکن ہے، اس لیے اس کا پاسپورٹ دنیا کے طاقتور ترین پاسپورٹس میں شمار ہوتا ہے، اور زیادہ تر یورپی ممالک میں آن آرائیول ویزا یا بغیر ویزہ سفر کی سہولت میسر آجاتی ہے۔‘

عدنان پراچہ نے کہاکہ اس پروگرام کی کشش صرف شہریت ہی نہیں بلکہ آسان طریقے سے سرمایہ کاری، پیسے کی قانونی ترسیل اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے ذریعے معاشی فوائد بھی ہیں۔ تاہم انہوں نے اس جانب توجہ دلائی کہ جن ممالک سے سرمایہ باہر جا رہا ہے جیسا کہ پاکستان، وہاں کی حکومتوں کو اس بات کا مؤثر چیک اینڈ بیلنس رکھنا چاہیے کہ کیا یہ سرمایہ قانونی ذرائع سے جا رہا ہے یا نہیں۔ کیونکہ بیرون ملک انویسٹمنٹ کے ذریعے اگر شہری شہریت حاصل کرتے ہیں تو اس کا اثر نہ صرف ملکی معیشت بلکہ پالیسی سطح پر بھی پڑ سکتا ہے۔

پرتگال میں پاکستانیوں کے لیے پراپرٹی میں سرمایہ کاری کرنے کے لیے کس قسم کے مواقع موجود ہیں؟

رہائشی پراپرٹی:

لزبن، پورٹو اور دیگر بڑے شہروں میں اپارٹمنٹس، فلیٹس اور گھروں کی خریداری کا موقع موجود ہے۔ یہ پراپرٹیز نہ صرف رہائش کے لیے بہترین ہیں بلکہ کرائے پر دینے کے لیے بھی منافع بخش ہوتی ہیں۔ گولڈن ویزا اسکیم کے تحت رہائشی پراپرٹی خرید کر ویزا حاصل کرنا بھی ممکن ہے۔

تجارتی پراپرٹی:

دفاتر، شاپنگ سینٹرز اور دیگر تجارتی مقامات میں سرمایہ کاری کے مواقع دستیاب ہیں، جو کاروباری افراد اور سرمایہ کاروں کے لیے مفید ہیں۔

زرعی زمین:

پرتگال میں زرعی زمین کی خریداری بھی ممکن ہے، خاص طور پر اُن لوگوں کے لیے جو زرعی کاروبار یا فارم ہاؤسز میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

سیاحتی اور تفریحی پراپرٹٹیز:

میڈیرا اور الگارو جیسے سیاحتی علاقوں میں ولاز اور چھوٹے ریزورٹس کی خریداری کے مواقع ہیں، جو موسم کے لحاظ سے اچھے سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کرتے ہیں، کیونکہ پرتگال ایک سیاحتی ملک ہے۔

پرتگال کیسا ملک ہے؟

پرتگال ایک خوبصورت اور ترقی یافتہ ملک ہے جو جنوبی یورپ میں واقع ہے۔ یہ ملک اپنی خوشگوار آب و ہوا، خوبصورت ساحلوں، تاریخی عمارتوں اور پرامن معاشرت کے لیے جانا جاتا ہے۔ پرتگال کی معیشت مستحکم ہے اور یورپی یونین کا رکن ہونے کی وجہ سے اسے یورپی مارکیٹ میں اہم مقام حاصل ہے۔

پاکستان کے مقابلے میں پرتگال میں کئی طرح کی سہولیات بہتر اور جدید ہیں، جن میں صحت کی سہولیات، تعلیم کے ادارے، سیکیورٹی، انفراسٹرکچر اور عوامی سہولیات شامل ہیں۔ یہاں کا نظام انصاف شفاف ہے اور کرائم کی شرح نسبتاً کم ہے، جس سے یہاں زندگی زیادہ محفوظ تصور کی جاتی ہے۔ تعلیم کے شعبے میں پرتگال میں جدید یونیورسٹیاں اور تحقیقاتی ادارے موجود ہیں جو بین الاقوامی معیار کے حامل ہیں۔

پرتگال میں صحت کا نظام بھی بہتر ہے جہاں اسپتالوں اور کلینکس میں جدید ترین سہولیات دستیاب ہیں۔ اس کے علاوہ پرتگال میں عوامی ٹرانسپورٹ کا نظام بھی پاکستان کی نسبت زیادہ منظم اور مؤثر ہے۔ یورپی معیار زندگی کی وجہ سے لوگوں کو روزمرہ کی زندگی میں آسانیاں حاصل ہوتی ہیں اور ماحولیات کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پرتگال میں فاسٹ ٹریک ویزا پروسیسنگ متعارف، پاکستانیوں کے لیے مواقع کہاں ہیں؟

مجموعی طور پر پرتگال ایک ایسا ملک ہے جہاں زندگی کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے وسیع مواقع اور سہولیات موجود ہیں، جو بہت سے پاکستانیوں کو وہاں بسنے اور سرمایہ کاری کرنے کی طرف راغب کرتی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بیرون ملک منتقلی بیوروکریسی پرتگال پر نظریں سوشل میڈیا وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بیرون ملک منتقلی بیوروکریسی پرتگال پر نظریں سوشل میڈیا وی نیوز سرمایہ کاری کے گولڈن ویزا کہ پاکستان پرتگال میں پرتگال کی کے مواقع کی شہریت جاتا ہے کے بعد ہے اور ملک ہے کے لیے

پڑھیں:

کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ

مسافر کے مطابق اس نے ویزا اور سفری دستاویزات کے حصول کیلئے ایجنٹ کو 3 لاکھ 80 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ ایف آئی اے امیگریشن نے دبئی جانے والے مسافر سید ظل اللہ احسان الزمان کو جعلی یو اے ای ریزیڈنس، ورک ویزا پر سفر کی کوشش کے دوران آف لوڈ کر دیا۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق دورانِ بورڈنگ عملے کو ٹکٹ کی تفصیلات ایئرلائن سسٹم میں نہ ملنے پر مسافر کو مزید جانچ کیلئے روکا گیا، تفصیلی جانچ کے دوران پیش کردہ یو اے ای ورک ویزا جعلی اور بوگس پایا گیا۔ ابتدائی تحقیقات میں مسافر نے انکشاف کیا کہ اس نے سوشل میڈیا کے ذریعے رابطہ کرنے والے ایجنٹ ملک شہباز اعوان سے بیرون ملک ملازمت کے انتظامات کروائے تھے، مذکورہ ایجنٹ مبینہ طور پر ’’مَلک اوورسیز‘‘ کے نام سے جوہرآباد، خوشاب میں کام کر رہا ہے۔

مسافر کے مطابق اس نے ویزا اور سفری دستاویزات کے حصول کیلئے ایجنٹ کو 3 لاکھ 80 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ ادائیگیاں مختلف جاز کیش اور بینک اکاؤنٹس میں منتقل کی گئیں۔ مسافر نے مؤقف اختیار کیا کہ اسے ویزا کے جعلی ہونے کا علم نہیں تھا اور وہ خود بھی ویزا فراڈ کا شکار ہوا ہے۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق مسافر کو تمام متعلقہ دستاویزات سمیت مزید قانونی کارروائی اور تحقیقات کیلئے ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کراچی منتقل کر دیا گیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • وفاقی بجٹ 2026-27: پراپرٹی اور ریئل اسٹیٹ سیکٹر کو کتنے بڑے ٹیکس ریلیف کا امکان؟
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • پاکستان اور اٹلی کے سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کیلئے ویزا ختم کرنے کا معاہدہ
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر