WE News:
2026-07-24@08:32:33 GMT

بیوروکریسی کی بیرون ملک منتقلی، پُرتگال پر ہی نظریں کیوں؟

اشاعت کی تاریخ: 6th, August 2025 GMT

بیوروکریسی کی بیرون ملک منتقلی، پُرتگال پر ہی نظریں کیوں؟

وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ملک کی آدھی سے زیادہ بیوروکریسی نے پرتگال میں پراپرٹی خرید لی ہے اور اب وہ وہاں کی شہریت حاصل کرنے کی تیاری کررہی ہے۔

اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر اس موضوع پر گہری بحث شروع ہو گئی ہے۔ قریباً ہر شخص یہ جاننے کی کوشش کررہا ہے کہ پاکستان کی بیوروکریسی پرتگال کو ہی اپنی ترجیح کیوں بنا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ’پرتگال میں جائیدادیں، اربوں کی سلامی‘ خواجہ آصف کا بیوروکریسی پر سنگین الزام

پرتگال میں مقیم عبداللہ اسماعیل نے بتایا کہ پاکستانی بیوروکریسی کی جانب سے پرتگال میں پراپرٹی خریدنے اور وہاں سیٹل ہونے کی بنیادی وجہ گولڈن ویزا اسکیم کی آسان شرائط ہیں۔

انہوں نے کہاکہ گولڈن ویزا اب صرف چند ممالک میں دستیاب ہے اور پرتگال کی شرطیں خاصی آسان ہیں۔ اگر کوئی قریباً اڑھائی لاکھ یورو کی پراپرٹی پرتگال میں خرید لیتا ہے تو اسے گولڈن ویزا مل جاتا ہے، جس کے بعد یورپ میں آنا جانا نہایت آسان ہو جاتا ہے۔ البتہ پرتگال کی شہریت 5 سال کے بعد دی جاتی ہے اور اس حوالے سے کوئی سخت پابندیاں نہیں کہ آپ کو وہاں مستقل رہنا ضروری ہے، بلکہ سال میں صرف ایک بار وہاں آنا کافی سمجھا جاتا ہے۔ اس کے برعکس، دوسرے ممالک جیسے اسپین میں ویزا حاصل کرنے کے لیے کم از کم 5 لاکھ یورو کی سرمایہ کاری ضروری ہوتی ہے۔

عبداللہ اسماعیل کا کہنا ہے کہ پاکستانی بیوروکریسی کو بنیادی طور پر دوسرا پاسپورٹ چاہیے ہوتا ہے، اور چونکہ پرتگال یورپی یونین کا حصہ ہے اور اس کی شرائط نسبتاً آسان ہیں، اس لیے یہی سب سے اہم وجہ ہے کہ وہ پرتگال کی جانب راغب ہو رہے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ پرتگال کا پاسپورٹ دنیا کے مضبوط ترین پاسپورٹس میں پانچویں نمبر پر ہے اور اس کی رینکنگ قریباً برطانیہ کے برابر ہے۔ ان کا خیال ہے کہ زیادہ تر لوگ وہاں مستقل رہائش کا کوئی منصوبہ نہیں بنا رہے بلکہ صرف پاسپورٹ حاصل کرنے کے لیے سرمایہ کاری کررہے ہیں۔

اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز ایسوسی ایشن کے نائب صدر عدنان پراچہ کا کہنا ہے کہ اگرچہ پورے یورپ میں سرمایہ کاری کے مختلف منصوبے دستیاب ہیں، لیکن پاکستانی بیوروکریسی کی جانب سے پرتگال میں کی گئی سرمایہ کاری کا بنیادی مقصد وہاں کی شہریت حاصل کرنا اور ریٹائرمنٹ کے بعد پرتگال میں رہائش اختیار کرنا ہے۔

ان کے مطابق پرتگال کا گولڈن ویزا پروگرام یورپ کے چند آسان ترین سرمایہ کاری پروگراموں میں سے ایک ہے، جس کے تحت مخصوص مالیت کی پراپرٹی خریدنے پر غیر ملکی سرمایہ کاروں کو رہائشی اجازت نامہ (ریذیڈنسی) مل جاتا ہے، اور 5 سال بعد وہ پرتگال کی شہریت کے بھی اہل ہو جاتے ہیں۔

’چونکہ پرتگال یورپی یونین کا رکن ہے، اس لیے اس کا پاسپورٹ دنیا کے طاقتور ترین پاسپورٹس میں شمار ہوتا ہے، اور زیادہ تر یورپی ممالک میں آن آرائیول ویزا یا بغیر ویزہ سفر کی سہولت میسر آجاتی ہے۔‘

عدنان پراچہ نے کہاکہ اس پروگرام کی کشش صرف شہریت ہی نہیں بلکہ آسان طریقے سے سرمایہ کاری، پیسے کی قانونی ترسیل اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے ذریعے معاشی فوائد بھی ہیں۔ تاہم انہوں نے اس جانب توجہ دلائی کہ جن ممالک سے سرمایہ باہر جا رہا ہے جیسا کہ پاکستان، وہاں کی حکومتوں کو اس بات کا مؤثر چیک اینڈ بیلنس رکھنا چاہیے کہ کیا یہ سرمایہ قانونی ذرائع سے جا رہا ہے یا نہیں۔ کیونکہ بیرون ملک انویسٹمنٹ کے ذریعے اگر شہری شہریت حاصل کرتے ہیں تو اس کا اثر نہ صرف ملکی معیشت بلکہ پالیسی سطح پر بھی پڑ سکتا ہے۔

پرتگال میں پاکستانیوں کے لیے پراپرٹی میں سرمایہ کاری کرنے کے لیے کس قسم کے مواقع موجود ہیں؟

رہائشی پراپرٹی:

لزبن، پورٹو اور دیگر بڑے شہروں میں اپارٹمنٹس، فلیٹس اور گھروں کی خریداری کا موقع موجود ہے۔ یہ پراپرٹیز نہ صرف رہائش کے لیے بہترین ہیں بلکہ کرائے پر دینے کے لیے بھی منافع بخش ہوتی ہیں۔ گولڈن ویزا اسکیم کے تحت رہائشی پراپرٹی خرید کر ویزا حاصل کرنا بھی ممکن ہے۔

تجارتی پراپرٹی:

دفاتر، شاپنگ سینٹرز اور دیگر تجارتی مقامات میں سرمایہ کاری کے مواقع دستیاب ہیں، جو کاروباری افراد اور سرمایہ کاروں کے لیے مفید ہیں۔

زرعی زمین:

پرتگال میں زرعی زمین کی خریداری بھی ممکن ہے، خاص طور پر اُن لوگوں کے لیے جو زرعی کاروبار یا فارم ہاؤسز میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

سیاحتی اور تفریحی پراپرٹٹیز:

میڈیرا اور الگارو جیسے سیاحتی علاقوں میں ولاز اور چھوٹے ریزورٹس کی خریداری کے مواقع ہیں، جو موسم کے لحاظ سے اچھے سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کرتے ہیں، کیونکہ پرتگال ایک سیاحتی ملک ہے۔

پرتگال کیسا ملک ہے؟

پرتگال ایک خوبصورت اور ترقی یافتہ ملک ہے جو جنوبی یورپ میں واقع ہے۔ یہ ملک اپنی خوشگوار آب و ہوا، خوبصورت ساحلوں، تاریخی عمارتوں اور پرامن معاشرت کے لیے جانا جاتا ہے۔ پرتگال کی معیشت مستحکم ہے اور یورپی یونین کا رکن ہونے کی وجہ سے اسے یورپی مارکیٹ میں اہم مقام حاصل ہے۔

پاکستان کے مقابلے میں پرتگال میں کئی طرح کی سہولیات بہتر اور جدید ہیں، جن میں صحت کی سہولیات، تعلیم کے ادارے، سیکیورٹی، انفراسٹرکچر اور عوامی سہولیات شامل ہیں۔ یہاں کا نظام انصاف شفاف ہے اور کرائم کی شرح نسبتاً کم ہے، جس سے یہاں زندگی زیادہ محفوظ تصور کی جاتی ہے۔ تعلیم کے شعبے میں پرتگال میں جدید یونیورسٹیاں اور تحقیقاتی ادارے موجود ہیں جو بین الاقوامی معیار کے حامل ہیں۔

پرتگال میں صحت کا نظام بھی بہتر ہے جہاں اسپتالوں اور کلینکس میں جدید ترین سہولیات دستیاب ہیں۔ اس کے علاوہ پرتگال میں عوامی ٹرانسپورٹ کا نظام بھی پاکستان کی نسبت زیادہ منظم اور مؤثر ہے۔ یورپی معیار زندگی کی وجہ سے لوگوں کو روزمرہ کی زندگی میں آسانیاں حاصل ہوتی ہیں اور ماحولیات کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پرتگال میں فاسٹ ٹریک ویزا پروسیسنگ متعارف، پاکستانیوں کے لیے مواقع کہاں ہیں؟

مجموعی طور پر پرتگال ایک ایسا ملک ہے جہاں زندگی کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے وسیع مواقع اور سہولیات موجود ہیں، جو بہت سے پاکستانیوں کو وہاں بسنے اور سرمایہ کاری کرنے کی طرف راغب کرتی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بیرون ملک منتقلی بیوروکریسی پرتگال پر نظریں سوشل میڈیا وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بیرون ملک منتقلی بیوروکریسی پرتگال پر نظریں سوشل میڈیا وی نیوز سرمایہ کاری کے گولڈن ویزا کہ پاکستان پرتگال میں پرتگال کی کے مواقع کی شہریت جاتا ہے کے بعد ہے اور ملک ہے کے لیے

پڑھیں:

یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری

دبئی: یو اے ای ویزا آن ارائیول سے متعلق متحدہ عرب امارات نے نئی شرائط، فیس اور درخواست کے طریقہ کار کی تفصیلات جاری کر دی ہیں۔ نئی ہدایات کے تحت مخصوص ممالک کے اہل شہری امارات پہنچنے پر 14 یا 60 روزہ ویزا حاصل کر سکیں گے، تاہم اس کے لیے مقررہ شرائط پر پورا اترنا لازمی ہوگا۔

دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق بھارت، انڈونیشیا، ویتنام، تھائی لینڈ، فلپائن، کینیا اور جنوبی افریقہ کے شہری، اور ان کے ہمراہ سفر کرنے والے اہل خانہ، اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

حکام کے مطابق درخواست گزار کے پاس کم از کم چھ ماہ کے لیے کارآمد پاسپورٹ، سفید پس منظر والی حالیہ رنگین تصویر اور امریکا، برطانیہ، یورپی یونین، کینیڈا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، جاپان، جنوبی کوریا یا سنگاپور کی جانب سے جاری کردہ قابل قبول رہائشی پرمٹ یا ویزا ہونا ضروری ہے۔

اعلامیے کے مطابق 14 روزہ ویزا آن ارائیول کو صرف ایک مرتبہ مزید 14 دن کے لیے توسیع دی جا سکتی ہے، جبکہ 60 روزہ ویزا میں توسیع کی سہولت دستیاب نہیں ہوگی۔

جی ڈی آر ایف اے نے بتایا کہ ویزا کے لیے درخواست اس کی سرکاری ویب سائٹ یا اسمارٹ ایپ کے ذریعے جمع کرائی جا سکتی ہے۔ درخواست کی منظوری کے بعد ویزا رجسٹرڈ ای میل پر ارسال کیا جائے گا، جبکہ عام طور پر درخواستوں پر 48 گھنٹوں کے اندر کارروائی مکمل کر لی جاتی ہے۔

فیس کے حوالے سے جاری تفصیلات کے مطابق 14 روزہ ویزا آن ارائیول کی فیس 172.50 درہم جبکہ 60 روزہ ویزا کی فیس 422.50 درہم مقرر کی گئی ہے۔

جی ڈی آر ایف اے کا کہنا ہے کہ اس سہولت کا مقصد بین الاقوامی مسافروں کے لیے سفری عمل کو مزید آسان بنانا، سیاحت کو فروغ دینا اور زیادہ سے زیادہ سیاحوں کو متحدہ عرب امارات کی جانب راغب کرنا ہے۔

ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق سال 2026 کے پہلے چھ ماہ کے دوران اس پروگرام کے تحت 73 ہزار 551 ویزے جاری کیے جا چکے ہیں، جو اس سہولت کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کی نشاندہی کرتے ہیں۔

اہم وضاحت: جاری کردہ شرائط میں پاکستانی پاسپورٹ ہولڈرز شامل نہیں ہیں۔ یہ سہولت صرف ان مخصوص ممالک کے شہریوں کے لیے ہے جن کا جی ڈی آر ایف اے نے اعلان کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستانیوں کیلئے سری لنکا نے ویزا فیس ختم کر دی
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری