اسرائیل نے بیت المقدس کے مفتی اعظم پر پابندی لگادی
اشاعت کی تاریخ: 6th, August 2025 GMT
اسرائیلی حکام نے بیت المقدس اور فلسطینی علاقوں کے مفتی اعظم شیخ محمد حسین پر مسجد اقصیٰ میں داخلے کی پابندی میں مزید 6 ماہ کی توسیع کر دی ہے۔ یہ اقدام غزہ سے متعلق ان کے خطبہ جمعہ کے بعد اٹھایا گیا ہے۔
شیخ حسین کے وکیل کے مطابق پہلے آٹھ روزہ پابندی عائد کی گئی تھی، جو اب بڑھا کر چھ ماہ کر دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:اسرائیل نے مسجد اقصیٰ کے امام شیخ عکرمہ صبری کو گرفتار کر لیا
فلسطینی خبر ایجنسی وفا کے مطابق جولائی کے آخر میں دیے گئے خطبے میں شیخ حسین نے غزہ میں فلسطینیوں کی امداد بند کرنے پر اسرائیل پر تنقید کی تھی، جس کے بعد اسرائیلی فورسز نے انہیں طلب کر کے 8 دن کے لیے مسجد اقصیٰ میں داخلے سے روک دیا تھا، جسے اب بڑھا کر 6 ماہ کردیا گیا ہے۔
فلسطینی اتھارٹی کی وزارتِ اوقاف و مذہبی امور نے اسرائیلی اقدام کی شدید مذمت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیلی آبادکاروں نے مسجد اقصیٰ پر دھاوا بول دیا، ایک دن میں 88 فلسطینی شہید
اپنے بیان میں وزارت نے کہا ’مفتی اعظم پر پر پابندی واضح طور پر قابض اسرائیل کی جانب سے مسجد اقصیٰ کو ان مذہبی شخصیات سے خالی کرانے کی کوشش ہے جو اس کی پالیسیوں کا سامنا کرتی ہیں اور یہ غزہ کی پٹی، مغربی کنارے اور خاص طور پر مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی خلاف ورزیوں کی شدت اور وسعت کو ظاہر کرتی ہے۔‘
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news اسرائیل پابندی شیخ محمد حسین غزہ فلسطین فلسطینی اتھارٹی مفتیٰ اعظم.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل پابندی فلسطین فلسطینی اتھارٹی مفتی اعظم
پڑھیں:
مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔
فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔
حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔
ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘
ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔
یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔