کراچی؛ آتشزدہ فیکٹری سے خواتین و مرد ملازمین کے خطرناک طریقے سے نکلنے کی ویڈیو سامنے آ گئی
اشاعت کی تاریخ: 7th, August 2025 GMT
کراچی:
شہر قائد میں ایک فیکٹری میں آگ لگنے کے بعد خواتین و مرد ملازمین کے خطرناک طریقے سے نکلنے کی ویڈیو سامنے آ گئی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق لانڈھی ایکسپورٹ پروسیسنگ زون میں ایک فیکٹری میں آگ لگ گئی، تاہم فوری طور پر ملازمین کو نکالنے کے لیے کوئی خاطر خواہ نکلنے کے راستے یا انتظامات نظر نہیں آئے۔
فائر بریگیڈ کی گاڑیاں آگ بجھانے میں مصروف رہیں، جب کہ آگ لگنے کے دوران فیکٹری سے مرد و خواتین ملازمین کو کنسٹرکشن لفٹ سے لٹک کر باہر نکلتے دیکھا جا سکتا ہے۔
ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ خواتین و مرد ملازمین فیکٹری کی کنسٹرکشن لفٹ سے لٹک کر باہر نکلنے میں کامیاب ہوئے۔ آگ لگنے سے متاثرہ فیکٹری پانچ منزلہ ہے، جہاں سے لٹک کر نکلنے کے دوران ممکنہ حادثہ کسی ملازم کی جان بھی لے سکتا تھا۔
آگ لگنے کے بعد کی صورت حال نے فیکٹری میں کسی ممکنہ حادثے کی صورت میں ملازمین کے بچاؤ سے متعلق انتظامات کے حوالے سے کئی سوالات کھڑے کردیے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: آگ لگنے
پڑھیں:
نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹولاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔