جاپانی کارسازکمپنی ٹویوٹا نے امریکی ٹیرف کے باعث سالانہ منافع کے تخمینہ میں 14 فیصد کمی کر دی
اشاعت کی تاریخ: 7th, August 2025 GMT
ٹوکیو (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 07 اگست2025ء) جاپانی کارساز کمپنی ’’ ٹویوٹا‘‘ نے امریکی ٹیرف کے باعث اپنے سالانہ منافع کے تخمینہ میں 14 فیصد کمی کر دی ہے۔اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق نئے امریکی ٹیرف کے باعث ٹویوٹا نے جمعرات کو اپنے سالانہ خالص منافع کے تخمینہ میں 14 فیصد کمی کر دی ہے اور گاڑیوں کی فروخت کے لحاظ سے دنیا کی سب سے بڑی کار ساز کمپنی نے اب رواں مالی سال کے لیے 2.
(جاری ہے)
ٹویوٹا کی رواں سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران آمدنی میں 3.5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تاہم خالص منافع میں 36.9 فیصد کی نمایاں کمی ہوئی۔
اپریل میں ٹرمپ انتظامیہ نے جاپان سے درآمد کی جانے والی گاڑیوں پر 25 فیصد محصول عائد کیا جس سے جاپانی معیشت اور اس کے اہم آٹو سیکٹر کو شدید دھچکا پہنچا۔ جولائی میں ٹوکیو اور واشنگٹن کے درمیان ایک تجارتی معاہدہ ہوا تھا، جس کے تحت اس شرح کو 15 فیصد تک کم کرنے پر اتفاق کیا گیا، تاہم یہ ابھی واضح نہیں کہ یہ کمی کب سے نافذ العمل ہو گی۔مزید یہ کہ اس وقت ابہام برقرار ہے کہ آیا گاڑیوں پر یہ نیا 15 فیصد محصول آخری حد ہے یا اسے پہلے سے موجود محصولات پر مزید شامل کیا جائے گا۔امریکی ٹیرف نے دیگر کمپنیوں کو بھی متاثر کیا ہے اور ووکس ویگن اور مرسڈیز بینز جیسی جرمن کمپنیاں سالانہ منافع کی اپنی پیش گوئیوں میں کمی کر چکی ہیں۔ادھر فورڈ نے بھی پیش گوئی کی ہے کہ محصولات کے باعث اس کے سالانہ منافع میں 2 ارب ڈالر تک کی کمی واقع ہو سکتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے سالانہ منافع امریکی ٹیرف کے باعث
پڑھیں:
امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
امریکا کے ریپبلکن اکثریتی ایوان نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں روکنے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کر لی جسے کانگریس کی جانب سے صدر ٹرمپ کے لیے ایک اور علامتی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر حملہ ہوا تو ایران کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کردیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی
قرارداد 214 کے مقابلے میں 208 ووٹوں سے منظور ہوئی جبکہ چار ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے اس کی حمایت کی۔
یہ قرارداد واشنگٹن سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال نے پیش کی جس میں صدر ٹرمپ کو ہدایت دی گئی ہے کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف امریکی مسلح افواج کی کارروائیاں بند کی جائیں۔
تاہم ماہرین کے مطابق اس قرارداد کی حیثیت زیادہ تر علامتی ہے، کیونکہ حالیہ مہینوں میں بھی کانگریس اس نوعیت کی متعدد قراردادیں منظور کر چکی ہے مگر ان کے نتیجے میں جنگی کارروائیاں نہیں رک سکیں۔
مزید پڑھیے: ایران مذاکرات کے لیے بے تاب، لیکن بامعنی بات چیت ہی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ
قرارداد کی حمایت کرنے والے چار ریپبلکن ارکان میں ٹام بیریٹ (مشی گن)، برائن فٹزپیٹرک (پنسلوانیا)، وارن ڈیوڈسن (اوہائیو) اور تھامس میسی (کینٹکی) شامل ہیں۔
Today, the House PASSED my bipartisan War Powers Resolution to end the war in Iran by a vote of 214-208.
This is a big victory for the vast majority of Americans who want President Trump to end this illegal war and focus on their lives right here at home. pic.twitter.com/ZaE3NtTJdP
— Rep. Pramila Jayapal (@RepJayapal) July 23, 2026
اگرچہ ریپبلکن پارٹی کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں معمولی برتری حاصل ہے تاہم اس قرارداد کی منظوری کو صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر اپنی ہی جماعت کے بعض ارکان کے تحفظات کی علامت بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
ادھر امریکی سینیٹ میں بھی ایران سے متعلق ایک علیحدہ مگر ملتی جلتی قرارداد پر ووٹنگ متوقع تھی۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں مزید شدت لانے کا اعلان کیا ہے اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی بھی تصدیق کی ہے۔
مزید پڑھیں: ایران کو ایک امریکی فوجی کے قتل کی کئی گنا زیادہ قیمت چکانی پڑےگی، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو وارننگ
صدر ٹرمپ نے جمعرات کو ایران اور اس کے اتحادی یمنی حوثی گروپ کو بڑی فوجی سزا دینے کا عندیہ دیا۔ دوسری جانب، عارضی جنگ بندی کے مؤثر طور پر ختم ہونے کے 2 ہفتے بعد امریکی فوج نے ایران پر ایک اور رات فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے پڑوسی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا امریکی ایوان نمائندگان ایران امریکا کشیدگی ٹرمپ کو جنگ روکنے کی ہدایت ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز