سعودی شہری حميدان التركی بالآخر وطن واپس پہنچ گئے جو تقریباً 2 دہائیوں پر محیط قانونی اور سفارتی جدوجہد کا نتیجہ ہے۔ ان کی واپسی ایک ایسی کہانی کا اختتام ہے جو برسوں تک نہ صرف سعودی عوام بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی توجہ کا مرکز بنی رہی۔

یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب میں تعلیمی نظام میں بڑی تبدیلی، 2 سیمسٹر کا ماڈل دوبارہ نافذ العمل

حميدان التركی کو سنہ 2006 میں امریکی ریاست کولوراڈو میں اپنی انڈونیشی گھریلو ملازمہ کے ساتھ مبینہ بدسلوکی اور غیرقانونی حراست کے الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔ اسی برس اگست میں عدالت نے انہیں 28 برس قید کی سزا سنائی اور وہ ریاست کولوراڈو کی جیل (لايمن) میں قید رہے جہاں سے ان کی رہائی 19 سال بعد ممکن ہو سکی۔

یہ کیس وقت کے ساتھ ساتھ میڈیا، انسانی حقوق کے حلقوں اور عوامی سطح پر نمایاں ہوتا گیا، خصوصا جب حميدان الترکی نے اپنی بے گناہی پر اصرار کرتے ہوئے اسے 11 ستمبر کے بعد مسلمانوں کے خلاف تعصب سے تعبیر کیا۔ ان کے وکلا اور اہل خانہ کی جانب سے مسلسل قانونی پیروی کی گئی یہاں تک کہ رواں برس مئی میں کولوراڈو کی عدالت نے بالآخر انہیں الزامات سے بری کر دیا۔

سعودی سفارت خانے کے قانونی نمائندے کی موجودگی میں فیصلہ سنایا گیا اور عدالت نے کیس بند کرتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم دیا۔ 3 ماہ بعد، وہ امریکا سے روانہ ہو کر سعودی عرب پہنچے جہاں ان کا گرمجوشی سے استقبال کیا گیا۔

: سعودی عرب کی جانب سے پرتگال کے فلسطین کو تسلیم کرنے کی تیاری کا خیر مقدممزید پڑھیے

حميدان التركی کی عمر اب 56 برس ہے اور ان کا وطن واپسی کا سفر ان تمام افراد کے لیے امید کی علامت ہے جو قانون وانصاف کے حصول کے لیے پرعزم ہیں۔ ان کی رہائی ایک طویل اور صبر آزما عدالتی لڑائی کا اختتام اور انسانی جذبے کی فتح کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا انڈونیشیا حمیدان الترکی حمیدان الترکی رہا سعودی عرب.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکا انڈونیشیا حمیدان الترکی حمیدان الترکی رہا حمیدان الترکی

پڑھیں:

جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی

تہران:

ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔

 

ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔

مزید پڑھیں

مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل

انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔

ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔

عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ، شہری پھٹ پڑے
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل