مصنوعی ذہانت کی پالیسی کے آغاز سے ہر شعبے میں نمایاں بہتری کی امید ہے، بلال اظہر کیانی
اشاعت کی تاریخ: 7th, August 2025 GMT
وزیرِ مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی جی ایس ایم اے ڈیجیٹل نیشن سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئی ٹی، ٹیلی کام اور ڈیجیٹائزیشن حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں، حکومت نے مصنوعی ذہانت (AI) کی پالیسی کا آغاز کیا ہے جس سے ہر شعبے میں نمایاں بہتری کی امید ہے۔
بلال اظہر کیانی کا کہنا تھا کہ حکومت نے بجٹ میں کیش اور ڈیجیٹل پیمنٹس سے متعلق اہم اصلاحات متعارف کرائی ہیں، تاکہ ملک میں کیش لیس اکانومی کو فروغ دیا جا سکے۔
انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم پاکستان کا وژن ہے کہ معیشت کو مکمل طور پر ڈیجیٹل بنیادوں پر استوار کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ آئی ٹی کا شعبہ ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کر رہا ہے، اور گزشتہ سال اس شعبے کی ایکسپورٹس میں 18 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
بلال اظہر کیانی نے بتایا کہ حکومت نے مصنوعی ذہانت (AI) کی پالیسی کا آغاز کیا ہے جس سے ہر شعبے میں نمایاں بہتری کی امید ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ "اقتصادی استحکام حکومت کی کامیابی ہے، ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر 20 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں، اور کوشش ہے کہ اس بہتری کا فائدہ عام آدمی تک پہنچے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بلال اظہر کیانی
پڑھیں:
بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔