عتیقہ اوڈھو کومذاق میں شوہر سے علیحدگی کا بیان دینا مہنگا پڑگیا، رشتوں کی لائنیں لگ گئیں
اشاعت کی تاریخ: 8th, August 2025 GMT
معروف سینئر اداکارہ عتیقہ اوڈھو کی جانب سے مذاق میں شوہر سے علیحدگی سے متعلق بیان اس وقت مہنگا پڑگیا جب انہیں سوشل میڈیا پر شادی کی آفرز کی لائنیں لگ گئیں۔شوہر سے ممکنہ علیحدگی کی بے بنیاد خبروں کے بعد اداکارہ کو شادی کی آفرز موصول ہونے لگیں اور ان کا ان باکس "رشتوں کی فرمائشوں" سے بھرچکا ہے۔عتیقہ اوڈھو نے ایک شو میں ہنستے ہوئے بتایا کہ میں نے مذاق میں کہا تھا کہ میری شادی خطرے میں ہے کیونکہ میں بہت زیادہ ڈرامے دیکھ رہی ہوں… اور شوہر کو مجھ سے شکایت ہے‘انھوں نے مزید کہا کہ یہ بیان وائرل ہوگیا اور لوگوں نے اسے سنجیدہ سمجھا۔ اب میرا ڈی ایم شادی کی آفرز سے بھرا ہوا ہے، میں واقعی لطف اندوز ہو رہی ہوں۔ کبھی کبھار شوہروں کو تھوڑی ٹینشن دینا بھی ضروری ہوتا ہے۔عتقیہ اوڈھو نے مزید کہا کہ خواتین کو سیکھنا چاہیے کہ شوہروں کو کب اور کیسے دباؤ میں رکھنا ہے اور ہاں، کبھی سرخ جوڑا پہن لینا بھی کام آتا ہے۔اداکارہ نے سوشل میڈیا کی طاقت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اب سمجھ آگیا ہے کہ تھوڑا مزاح، تھوڑی ہوشیاری اور سوشل میڈیا بہت کچھ بدل سکتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
قانون میں کم عمری کی شادی کیخلاف سزا کا ذکر ہے نکاح منسوخی کا نہیں، جج آئینی عدالت
وفاقی آئینی عدالت میں اسلام قبول کرکے شادی کرنے والی ماریہ شہباز نظرثانی درخواست پر سماعت ہوئی، عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کردیے۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ عدالتی فیصلے میں غلطی کیا ہے؟ وکیل درخواست گزار نے جواب دیا کہ عدالت نے کم سن بچی کے نکاح کو درست قرار دیا، ماریہ شہباز کم عمر ہے اسے ورغلا کر مذہب تبدیلی کرائی گئی۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ عمر کم بھی ہو تو ایک شادی اگر ہوجائے تو قانون میں اس کا حل کیا ہے؟ وکیل درخواست گزار نے جواب دیا کہ شادی کیلئے 18 سال کی عمر کا قانون ہے، قانون کی خلاف ہونے والی شادی برقرار نہیں رہ سکتی۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ قانون میں کم عمری کی شادی کیخلاف سزا کا ذکر ہے نکاح منسوخی کا نہیں، بچی نے ڈسٹرکٹ کورٹ سے آئینی عدالت تک کہیں نہیں کہا کہ اس کیساتھ زبردستی ہوئی،
آپ کا اسرار ہے تو اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل سے معاونت لے لیتے ہیں۔
عدالت نے مقدمہ کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی، جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے سماعت کی۔
آئینی عدالت نے 26 مارچ کو ماریہ شہباز کی والد کو حوالگی کی درخواست خارج کی تھی، عدالت نے قرار دیا تھا کہ بچی کے تنسیخ نکاح کیلئے سول کورٹ سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق حبس بیجا اور حوالگی کے کیس میں تنسیخ نکاح کی کارروائی نہیں ہوسکتی