پاکستان نے ٹرمپ کے سامنے اپنے پتے بہترین طریقے سے استعمال کیے، بلوم برگ
اشاعت کی تاریخ: 8th, August 2025 GMT
امریکی جریدے بلوم برگ کا کہنا ہے کہ پاکستان ڈونلڈ ٹرمپ کا پسندیدہ ملک بنا ہوا ہے جبکہ بھارت کو دباؤ کا سامنا ہے، پاکستان نے ٹرمپ کے سامنے اپنے پتے بہترین طریقے سے استعمال کیے ہیں۔
اپنی رپورٹ میں امریکی جریدے نے کہا کہ پاکستان ان چند ملکوں میں شامل ہے جن کا امریکا سے تجارتی معاہدہ طے پایا ہے، ٹرمپ انتظامیہ اور پاکستان کے درمیان رابطوں کا آغاز پاک بھارت جنگ کے دوران ہوا۔
جنگ کے آخری دنوں میں ایران نے اسرائیل کی بہت مار لگائی، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے بیلاسٹک میزائلوں نے اسرائیل میں کافی تباہی مچائی، بہت عمارتیں تباہ کیں۔
بلوم برگ کا کہنا ہے کہ پاکستان نے ٹرمپ کے جنگ بندی اعلان کا خیر مقدم کیا، بھارت نے جنگ بندی کروانے کی تردید کی۔
امریکی جریدے نے مزید کہا کہ پاکستان کے پاس ایسے اثاثے موجود ہیں جو امریکی مفادات کیلئے مفید ہوسکتے ہیں، پاکستان کے پاس دنیا کے سب سے بڑے سونے اور تانبے کے اب تک دریافت نہ کیے گئے ذخائر موجود ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔