پاکستان نے ٹرمپ کے سامنے اپنے پتے بہترین طریقے سے استعمال کیے، بلوم برگ
اشاعت کی تاریخ: 8th, August 2025 GMT
امریکی جریدے بلوم برگ کا کہنا ہے کہ پاکستان ڈونلڈ ٹرمپ کا پسندیدہ ملک بنا ہوا ہے جبکہ بھارت کو دباؤ کا سامنا ہے، پاکستان نے ٹرمپ کے سامنے اپنے پتے بہترین طریقے سے استعمال کیے ہیں۔
اپنی رپورٹ میں امریکی جریدے نے کہا کہ پاکستان ان چند ملکوں میں شامل ہے جن کا امریکا سے تجارتی معاہدہ طے پایا ہے، ٹرمپ انتظامیہ اور پاکستان کے درمیان رابطوں کا آغاز پاک بھارت جنگ کے دوران ہوا۔
جنگ کے آخری دنوں میں ایران نے اسرائیل کی بہت مار لگائی، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے بیلاسٹک میزائلوں نے اسرائیل میں کافی تباہی مچائی، بہت عمارتیں تباہ کیں۔
بلوم برگ کا کہنا ہے کہ پاکستان نے ٹرمپ کے جنگ بندی اعلان کا خیر مقدم کیا، بھارت نے جنگ بندی کروانے کی تردید کی۔
امریکی جریدے نے مزید کہا کہ پاکستان کے پاس ایسے اثاثے موجود ہیں جو امریکی مفادات کیلئے مفید ہوسکتے ہیں، پاکستان کے پاس دنیا کے سب سے بڑے سونے اور تانبے کے اب تک دریافت نہ کیے گئے ذخائر موجود ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ ہونے والے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کے دوبارہ انعقاد کا فیصلہ
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ کر دیے گئے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کو دوبارہ منعقد کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ تقریب اب 24 جولائی کو منعقد ہوگی اور صدر ٹرمپ اس میں شرکت کریں گے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تقریب میں شرکت کی دعوت قبول کر لی ہے۔ یہ تقریب واشنگٹن میں صحافیوں اور میڈیا نمائندوں کے اعزاز میں منعقد کی جاتی ہے اور امریکی سیاسی و میڈیا حلقوں کی اہم تقریبات میں شمار ہوتی ہے۔
صدر ٹرمپ نے اس حوالے سے اپنے بیان میں کہا کہ وہ ’پاگل عناصر‘ کو اپنی طرزِ زندگی یا اپنے شیڈول میں تبدیلی لانے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی سرگرمیاں اور سرکاری تقریبات معمول کے مطابق جاری رہیں گی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ فی الحال یہ کہنا مشکل ہے کہ آیا وہ تقریب میں پہلے کی طرح سخت اور دوٹوک انداز میں خطاب کریں گے یا نہیں، تاہم اس بارے میں جلد ہی صورتحال واضح ہو جائے گی۔
صدر ٹرمپ کے مطابق یہ تقریب پنسلوانیا ایونیو پر واقع والڈورف آسٹوریا کے بال روم میں منعقد ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اس مقام کی تعمیر میں ان کا بھی کردار رہا ہے۔
یاد رہے کہ رواں سال اپریل میں واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے میڈیا نمائندوں کے اعزاز میں منعقدہ عشائیے کے دوران فائرنگ کا واقعہ پیش آیا تھا۔ اس واقعے میں صدر ٹرمپ محفوظ رہے جبکہ حملہ آور کو موقع پر گرفتار کر لیا گیا تھا۔
بعد ازاں امریکی حکام نے ملزم پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قتل کرنے کی کوشش کا باضابطہ الزام عائد کیا تھا، جس کے بعد سکیورٹی خدشات کے پیش نظر پریس ڈنر کو منسوخ کر دیا گیا تھا۔
اب تقریب کی دوبارہ میزبانی کے اعلان کو صدر ٹرمپ کی معمول کی سرگرمیوں کی بحالی اور سکیورٹی اداروں کے اعتماد کا اظہار قرار دیا جا رہا ہے۔