جماعت اسلامی پاکستان کا لاہور میں اجتماع عام منعقد کرنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 8th, August 2025 GMT
ویب ڈیسک: جماعت اسلامی پاکستان نے 21 سے 23 نومبر کو لاہور میں اجتماع عام کا اعلان کر دیا۔
منصورہ لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن نے اعلان کرتے ہوئے کہا کہ 21، 22 اور 23 نومبر کو مینار پاکستان گراؤنڈ میں پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا اجتماع ہو گا اور اس موقع پر بڑی تحریک کا آغاز ہوگا۔
امیر جماعت اسلامی پاکستان نے کہا کہ اجتماع عام میں دنیا بھر سے اسلامی تحریکوں کے قائدین کو شرکت کی دعوت دیں گے۔
کوئٹہ سمیت بلوچستان کے بیشترعلاقوں میں موبائل انٹرنیٹ ڈیٹا سروس تیسرے روز بھی معطل
حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ جماعت اسلامی نے طویل جدوجہد کرکے بڑی ٹیم تیار کی ہے، اب جماعت ملک کے لیے ایک بہترین اچھی آپشن بن کر سامنے آئے گی تاکہ گلے سڑے نظام سے جان چھڑوائی جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ نوجوان اس ملک سے مایوس ہیں کیونکہ نوکریاں نہیں کوئی مستقبل نہیں، ملک میں غریب کے لیے تعلیم کے دروازے بند کر دیے ہیں اور ہم تعلیمی طور پر طبقاتی نظام میں تقسیم ہو چکے ہیں، اگر نوجوانوں نے تعلیم بھی حاصل کر لی تو انہیں روزگار ہی نہیں ملتا۔
لاہور: دل کا دورہ پڑنے پر میاں، بیوی فلائی اوور سے گر کر جاں بحق
حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ ملک میں مخصوص طبقہ ہم سے جمہوری آزادی چھینتا اور معیشت کو برباد کرتا ہے، پاکستان میں مزدوروں کو کوئی حقوق حاصل نہیں اور 10 فیصد بھی رجسٹرڈ مزدور نہیں، ملکی آئین میں مزدور کے حقوق تو ہیں لیکن دیے نہیں جاتے اور ان کی تو کوئی آواز ہی نہیں کوئی پارٹی تو مزدور کی ترجمانی نہیں کرتی، صحت و تعلیم کے حقوق ہی نہیں۔
انہوں نے مزید کہا ہے کہ بے نظیر انکم سپورٹ قوم کو بھکاری بنانے اور سیاسی فائدہ حاصل کرنے کا پروگرام ہے، کسانوں کو کوئی حقوق حاصل نہیں ہیں ان کی کم سے کم تنخواہ پر تو بات کرتے ہیں لیکن تنخواہ ہی نہیں ملتی، ٹھیکیداری نظام کے تحت خواتین سے کام لیا جاتا ہے انہیں تو ملازمت کے حقوق بھی حاصل نہیں۔
خاتون سے مبینہ زیادتی کا الزام، پاکستانی کرکٹر حیدر علی ضمانت پر رہا
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی نے کہا کہ ہی نہیں
پڑھیں:
نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان
تل ابیب: اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے لبنان میں فوجی کارروائیوں کو مزید وسعت دینے کا اعلان کرتے ہوئے اسرائیلی فوج کو اپنی موجودگی اور آپریشنز بڑھانے کی ہدایت جاری کر دی۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ بیوفورٹ قلعے پر قبضہ ایک “ڈرامائی قدم” اور اسرائیلی پالیسی میں بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل غزہ، مصر اور لبنان سمیت مختلف محاذوں پر سرگرم ہے۔ اور سرحدوں سے باہر سیکیورٹی زونز قائم کیے جا رہے ہیں تاکہ اسرائیلی آبادی کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیلی فوج کو ہدایت دی گئی ہے کہ لبنان میں اپنی موجودگی کو مزید مضبوط اور وسیع کیا جائے۔ خصوصاً ان علاقوں میں جہاں ماضی میں حزب اللہ کا اثر و رسوخ رہا ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم نے دعویٰ کیا ہے کہ اکتوبر 2023 سے اب تک حزب اللہ کے 8 ہزار جنگجو مارے جا چکے ہیں۔
دوسری جانب رپورٹس کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے اب تک متعدد اسرائیلی ہلاکتیں بھی سامنے آئی ہیں، جن میں حالیہ ڈرون حملے میں مارا گیا ایک فوجی بھی شامل ہے۔