پاکستان نے بھارتی وزارت خارجہ کے فیلڈ مارشل سے منسوب بیانات مسترد کر دیے
اشاعت کی تاریخ: 11th, August 2025 GMT
دفتر خارجہ کے ترجمان شفقت علی خان نے بھارتی وزارت خارجہ کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ بیان بھارت کی دیرینہ عادت کا عکاس ہے، جس میں حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت ہمیشہ بیانات کو سیاق و سباق سے ہٹا کر پیش کرتا ہے۔
شفقت علی خان نے کہا کہ بھارت کا مبینہ ایٹمی بلیک میل کا بیانیہ گمراہ کن اور خود ساختہ دعویٰ ہے۔ پاکستان طاقت کے استعمال یا دھمکی دینے کی پالیسی کی سخت مخالفت کرتا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ایٹمی طاقت ہے جس کا جامع کمانڈ اور کنٹرول نظام مکمل طور پر سول نگرانی میں کام کرتا ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ ان اہم معاملات میں نظم و ضبط اور تحمل کا مظاہرہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی انسداد دہشت گردی کی کوششیں عالمی سطح پر تسلیم کی گئی ہیں اور پاکستان کی سکیورٹی فورسز دہشت گردی کے خلاف ایک مضبوط ڈھال ہیں۔ بھارتی وزارت خارجہ کے الزامات حقیقت سے بے بنیاد اور غیر ذمہ دارانہ ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
وزارتِ خارجہ کی اپوسٹل سروسز کے ٹھیکوں پر سوالات، آڈٹ میں قواعد کی مبینہ خلاف ورزیوں کی نشاندہی
اسلام آباد (رضوان عباسی ) وزارتِ خارجہ کی قونصلر سروسز کے تحت اپوسٹل سروسز کے لیے کوریئر کمپنیوں کے انتخاب کے عمل پر آڈٹ نے کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ آڈٹ رپورٹ کے مطابق خدمات کے حصول میں پبلک پروکیورمنٹ رولز (پیپرا) کے تقاضوں پر مکمل عمل نہیں کیا گیا اور اوپن ٹینڈرنگ کے شواہد بھی ریکارڈ پر موجود نہیں ہیں۔ روزنامہ اوصاف کو حاصل دستاویزات کے مطابق 17 مئی 2024 سے اپوسٹل سروسز کے لیے ٹی سی ایس، لیوپرڈز، جیرینز، ایم اینڈ پی اور ایکسیلنٹ کوریئر سروسز (ECS) سمیت پانچ کوریئر کمپنیوں کو دستاویزات کی وصولی اور ترسیل کی ذمہ داری سونپی گئی۔ تاہم آڈٹ کا کہنا ہے کہ کمپنیوں کے انتخاب کے لیے نہ تو اوپن کمپیٹیٹیو بڈنگ کی گئی اور نہ ہی واضح سلیکشن کرائٹیریا یا کاروباری اہلیت کا مکمل ریکارڈ دستیاب تھا۔آڈٹ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہی طریقہ کار صرف اسلام آباد ہی نہیں بلکہ کراچی، لاہور، پشاور، کوئٹہ اور گجرات میں قائم فارن آفس لیزن دفاتر (FALOs) میں بھی اختیار کیا گیا۔
رپورٹ میں ای سی ایس یعنی ایکسیلینٹ کورئیر سروسز کے انتخاب پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ آڈٹ کے مطابق ای سی ایس کمپنی کے قومی سطح پر متعلقہ تجربے، کاروباری پروفائل اور اہلیت سے متعلق مطلوبہ ریکارڈ دستیاب نہیں تھا۔ اس کے علاوہ کمپنی کی سیلز ٹیکس رجسٹریشن اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP) سے متعلق دستاویزات بھی ریکارڈ پر موجود نہ ہونے کی نشاندہی کی گئی ہے۔آڈٹ رپورٹ میں یہ سفارش کی گئی ہے کہ پورے معاملے کی جامع تحقیقات کی جائیں، ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور آئندہ سرکاری خریداری اور خدمات کے حصول میں پیپرا رولز پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔وزارتِ خارجہ کی جانب سے آڈٹ رپورٹ میں اٹھائے گئے نکات پر تاحال باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔