Daily Mumtaz:
2026-06-03@05:41:55 GMT

’’شنگنس لمحہ‘‘: شائستگی کی فتح

اشاعت کی تاریخ: 13th, August 2025 GMT

’’شنگنس لمحہ‘‘: شائستگی کی فتح

بیجنگ :چین کے شہر چھنگ ڈو میں منعقد ہونے والی ورلڈ گیمز میں، لیٹویا سے تعلق رکھنے والے 55 سالہ اسپورٹ ڈانس مقابلے کے جج سرگئی شنگنس اپنی متوازن باڈی لینگویج اور چہرے کے شائستہ تاثرات کے باعث غیر متوقع طور پر مقبول ہو گئے۔ ان کی ویڈیوز نے مختصر وقت میں لاکھوں لائکس اور شیئرز حاصل کیے، جو اس سال کی ورلڈ گیمز کا سب سے نمایاں لمحہ بن گیا۔ چینی روایتی ’’چھ ہنر‘‘ (لیو ای) کی تعلیم میں، کھیل ہمیشہ سے شخصیت کی تعمیر کا اہم ذریعہ رہا ہے، اور یہ بین الاقوامی جج جنھیں صارفین نے’’چلتا پھرتا گولڈن ریشو‘‘کا نام دیا، اپنی شائستہ شخصیت سے چینی قدیم حکمت کی عصری اہمیت کو اجاگر کر رہے ہیں۔ چین کے قدیم تعلیمی نظام میں “چھ ہنر’’ آداب، موسیقی، تیر اندازی،بگھی چلانا، خطاطی اور حساب کھیل اور فن کو ہم آہنگ کرتے ہیں۔ ’’تیر اندازی‘‘اور ’’ بگھی چلانا ‘‘ نہ صرف جسمانی مہارتیں ہیں بلکہ ’’اعلیٰ شخصیت” کی روحانی تربیت بھی سمجھی جاتی ہیں۔ چین میں کہا جاتا ہے کہ’’تیر اندازی رحمت کا راستہ ہے‘‘، چینی قدیم لوگ تیر اندازی کے ذریعے ’’دل کی استقامت اور جسمانی پختگی‘‘کی صفات پیدا کرتے تھے، جو شنگنس کے سات سال کی عمر سے شروع ہونے والے 50 سالہ رقص کے سفر میں پروان چڑھی شائستگی سے مماثلت رکھتا ہے۔ جب صارفین نے اس کی “شائستگی جو کبھی پرانی نہیں ہوتی” کی تعریف کی، تو درحقیقت انہوں نے چینی ثقافت میں “ظاہر اور باطن کے ہم آہنگ” ہونے کے اصول کو دہرایا کھیل محض جسمانی صلاحیت کا میدان نہیں بلکہ روحانی ارتقاء کا ذریعہ بھی ہے۔ شنگنس کا متوازن انداز کوئی عام بات نہیں بلکہ طویل پیشہ ورانہ تربیت سے حاصل شدہ شخصیت کی عکاسی ہے۔ یہ ہمیں چینی روایتی تعلیمی حکمت کی جانب رجوع کراتا ہے: کھیل کو شخصیت سازی کا اہم ذریعہ ہونا چاہیے، جیسے قدیم مدرسے نہ صرف ادب بلکہ تیر اندازی پر بھی زور دیتے تھے، “علم اور جنگجو صفات” کی حامل مکمل شخصیت کے حصول کے لیے۔ جب شنگنس نے نادانستہ طور پر اسپورٹ ڈانس کو مقابلے کے میدان سے عوامی نظروں تک پہنچایا، تو ہم نے نہ صرف مہارت کا مقابلہ دیکھا بلکہ کنفیوشس کے الفاظ “رحمت پر مبنی، فن میں رچا ہوا” کی جدید تعبیر بھی دیکھی۔ چھنگ ڈو ورلڈ گیمز، ثقافتی تبادلے کے پلیٹ فارم کے طور پر، یہ ظاہر کرتی ہیں کہ کھیل کیسے سرحدوں سے بالاتر ہو کر تہذیبوں کے درمیان پل بن سکتا ہے، اور انسانی جسمانی اظہار کی مشترکہ زبان بن سکتا ہے۔ شنگنس کی غیر متوقع مقبولیت کھیل کے مقابلے سے روزمرہ کی جمالیات تک پھیلاؤ کی علامت ہے۔ چین کی ایک سپورٹس ڈرنک کمپنی نے فوری طور پر شنگنس کو اپنا برانڈ ایمبیسیڈر بنا لیا؛ چھنگ ڈو کلچرل ٹورزم بیورو نے “جج جمالیات” کے ٹورزم روٹس تیار کیے؛ شنگھائی ڈانس اکیڈمی میں داخلے کی درخواستیں 40% بڑھ گئیں۔ یہ رجحانات ظاہر کرتے ہیں کہ جب پیشہ ورانہ مہارت اور انسانی پرکشش شخصیت ملتی ہے تو ثقافتی کشش خود بخود جنم لیتی ہے۔ شنگنس کی مقبولیت نے نہ صرف ورلڈ گیمز کے لیے عالمی توجہ بڑھائی ہے بلکہ میزبان شہر چھنگ ڈو کے لیے ایک منفرد یادگار بھی چھوڑی ہے، اور ہمیں یہ سبق دیا ہے کہ: کھیل کو نہ صرف منفرد اور شاندار کارناموں کی ضرورت ہے بلکہ ان “جسمانی و ذہنی شائستگیوں” کی قدر بھی کی جانی چاہیے۔ یہ چینی روایتی کھیل کی روح کی جانب واپسی بھی ہے اور عصری تعلیم کے لیے اہم پیغام بھی: کھیل کا مقصد، تعلیم کا مقصد، آخرکار انسان کی تکمیل ہے،اور شائستگی کی فتح ہے۔

Post Views: 5.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: تیر اندازی ورلڈ گیمز چھنگ ڈو کے لیے

پڑھیں:

شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟

پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے حکومت سے ایک بار پھر فاضل چینی کی فوری برآمد کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا ہے اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ اضافی چینی بیرون ملک فروخت کرنے سے ملک کو قریباً 50 کروڑ ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ حاصل ہو سکتا ہے۔

ماہرین اور صارفین کے حلقوں میں اس مطالبے پر تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے کیونکہ گزشتہ برس بھی چینی کی برآمد کی اجازت کے بعد ملک میں چینی کی قیمتوں میں 50 سے 60 روپے فی کلو کا نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔

مزید پڑھیں: فاضل چینی برآمد کرنے کی اجازت دی جائے، ملک کو 50 کروڑ ڈالر زرمبادلہ مل سکتا ہے: شوگر ملز ایسوسی ایشن

پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین چوہدری ذکا اشرف نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کو ارسال کیے گئے خط میں کہا ہے کہ 26-2025 کے کرشنگ سیزن کے اختتام پر ملک میں چینی کے مجموعی ذخائر 79 لاکھ میٹرک ٹن تک پہنچ گئے ہیں، جبکہ ملک کی سالانہ ضرورت قریباً 66 لاکھ میٹرک ٹن ہے، اس طرح ملک میں 13 لاکھ میٹرک ٹن چینی سرپلس موجود ہے۔

ایسوسی ایشن کے مطابق ایک ماہ کا تزویراتی ذخیرہ محفوظ رکھنے کے باوجود قریباً 7 لاکھ 60 ہزار میٹرک ٹن چینی اضافی رہے گی، جسے برآمد کرکے ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ فروخت نہ ہونے والے ذخائر کی وجہ سے شوگر ملوں کو شدید مالی دباؤ کا سامنا ہے جبکہ گنے کے کاشتکاروں کی ادائیگیوں اور بینک قرضوں کی واپسی میں بھی مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔

پی ایس ایم اے کا کہنا ہے کہ گزشتہ 2 برسوں کے دوران گنے کے کاشتکاروں کو بہتر نرخوں پر ادائیگی کی گئی جس کے باعث گنے کی کاشت اور فی ایکڑ پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا۔

ایسوسی ایشن نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو آئندہ سیزن میں مزید ریکارڈ گنے کی فصل پیدا ہونے کا امکان ہے جس کے نتیجے میں قریباً 20 لاکھ میٹرک ٹن اضافی چینی مارکیٹ میں آ سکتی ہے۔

دوسری جانب صارفین اور معاشی ماہرین شوگر ملز کے اس مؤقف کو تنقیدی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ مالی سال کے دوران بھی حکومت نے چینی برآمد کرنے کی اجازت دی تھی اور اس وقت حکومتی اور صنعتی حلقوں کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ برآمدات سے مقامی مارکیٹ میں قیمتوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور چینی کی دستیابی برقرار رہے گی۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 25-2024 کے دوران 67 شوگر ملوں نے مجموعی طور پر 7 لاکھ 49 ہزار ٹن چینی برآمد کی جس سے قریباً 40 کروڑ ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہوا۔ تاہم برآمدات کے بعد ملک میں چینی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

مارکیٹ ذرائع کے مطابق 2 ماہ قبل پرچون سطح پر چینی کی قیمت قریباً 140 روپے فی کلو تھی جبکہ تھوک مارکیٹ میں 50 کلوگرام کا تھیلا قریباً 6 ہزار 200 روپے میں فروخت ہو رہا تھا۔

موجودہ صورتحال میں پرچون قیمت 190 سے 200 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے جبکہ 50 کلوگرام کے تھیلے کی قیمت بڑھ کر 9 ہزار 100 روپے تک جا پہنچی ہے۔

قیمتوں میں اس غیر معمولی اضافے کے بعد گزشتہ سال حکومت نے ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف کارروائیوں کا اعلان بھی کیا تھا۔

تاہم صارفین کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کے باوجود مارکیٹ میں چینی کی قیمتوں کو مؤثر طور پر کنٹرول نہیں کیا جا سکا۔

شوگر ملز ایسوسی ایشن کا مؤقف ہے کہ چینی کو ذخیرہ کرنے کی مدت قریباً 2 سال ہوتی ہے اور اگر گزشتہ سال 7 لاکھ 49 ہزار ٹن چینی برآمد نہ کی جاتی تو اس کے ضائع ہونے کا خدشہ تھا۔

تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک جانب اضافی ذخائر کا دعویٰ کیا جاتا ہے جبکہ دوسری جانب برآمدات کے فوراً بعد مقامی مارکیٹ میں قیمتوں میں نمایاں اضافہ سامنے آ جاتا ہے، جس کی وجہ سے برآمدی پالیسی پر سوالات جنم لیتے ہیں۔

مزید پڑھیں: چینی کی قیمتوں میں اضافہ: کس شوگر مل کے پاس کتنی چینی اسٹاک ہے؟

اب جبکہ شوگر ملز ایسوسی ایشن نے ایک مرتبہ پھر چینی برآمد کرنے کی اجازت مانگی ہے، حکومت کو ایک ایسے فیصلے کا سامنا ہے جس میں ایک طرف زرمبادلہ کمانے کا امکان موجود ہے تو دوسری طرف عوام کو سستی چینی کی فراہمی اور قیمتوں کو قابو میں رکھنے کا چیلنج بھی درپیش ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر برآمدات کی اجازت دی جاتی ہے تو حکومت کو سخت نگرانی، شفاف اسٹاک آڈٹ اور قیمتوں کے مؤثر کنٹرول کے لیے جامع حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی تاکہ گزشتہ سال کی صورتحال دوبارہ پیدا نہ ہو۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟