WE News:
2026-07-24@12:13:27 GMT

مریم نواز: کلثوم نواز کا حوصلہ، نواز شریف کی تربیت

اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT

مریم نواز: کلثوم نواز کا حوصلہ، نواز شریف کی تربیت

پاکستان کی سیاست میں کئی کردار آئے اور گم ہو گئے، لیکن کچھ نام ایسے ہیں جو اپنے عزم، قربانی اور جدوجہد کی بدولت تاریخ کا حصہ بن جاتے ہیں۔

مریم نواز انہی ناموں میں سے ایک ہیں۔ ان کا سفر محض اقتدار تک پہنچنے کا قصہ نہیں، بلکہ قربانی، صبر اور عوامی خدمت کی ایک داستان ہے۔

سیاست کے میدان میں بہت سے نام آتے ہیں اور وقت کے ساتھ مٹ جاتے ہیں۔ لیکن کچھ کردار ایسے ہوتے ہیں جو اپنی قربانیوں اور جدوجہد کی بدولت لوگوں کے دلوں پر نقش چھوڑ جاتے ہیں۔ مریم نواز انہی کرداروں میں سے ایک ہیں۔

ان کا سیاسی سفر کسی شاہراہ پر ہموار گاڑی کی مانند نہیں رہا بلکہ کانٹوں، رکاوٹوں اور طوفانوں سے بھرا ہوا راستہ رہا ہے۔ مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ ہر مشکل نے انہیں کمزور کرنے کے بجائے اور مضبوط کر دیا۔

مریم نواز نے اپنی سیاست کا آغاز ایک انوکھے طریقے سے کیا۔ وہ براہِ راست ایوانوں یا جلسوں میں جلوہ گر نہیں ہوئیں بلکہ انہوں نے سب سے پہلے سوشل میڈیا کو اپنی آواز بنایا۔ یہ وہ وقت تھا جب سیاست دانوں کے نزدیک یہ پلیٹ فارم محض وقت گزاری کے سوا کچھ نہ تھا۔

لیکن مریم نواز نے اسے ہتھیار بنایا اور اپنے موقف, اپنے خیالات اور اپنے والد نواز شریف کی جدوجہد کو لاکھوں دلوں تک پہنچایا۔ یوں نوجوان نسل اور متوسط طبقہ ان کی طرف متوجہ ہوا اور سیاست میں ان کا پہلا قدم عوام کے دلوں میں جگہ بنانے میں کامیاب رہا۔

یہ سفر آسان نہیں تھا۔ کبھی عدالتوں کے کٹہرے میں کھڑے ہونا پڑا، کبھی جیل کے دروازے پر والد کے ساتھ دکھ سہنا پڑا، اور کبھی میڈیا کی کڑی تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

ایک بیٹی کی حیثیت سے والد کی جدائی کا صدمہ سہنا پڑا اور ایک سیاست دان کے طور پر الزامات اور پروپیگنڈے برداشت کرنے پڑے۔ لیکن شاید سب سے بڑا امتحان وہ تھا جب انہیں اپنی عظیم والدہ بیگم کلثوم نواز کی بیماری اور جدوجہد کے دنوں میں میدان سیاست سنبھالنا پڑا۔ کلثوم نواز نے ایک طویل عرصہ اپنے خاندان اور پارٹی کے لیے قربانیاں دیں۔

انہوں نے آمرانہ دور میں تن تنہا جدوجہد کی اور مسلم لیگ ن کو سہارا دیا۔ مریم نواز نے اپنی والدہ کو اس کٹھن وقت میں دیکھ کر عزم و حوصلے کا وہ سبق سیکھا جس نے ان کی سیاست کو مزید نکھارا۔

وقت گزرا اور پنجاب کی قیادت مریم نواز کے ہاتھ آئی۔ یہ ایک بڑا امتحان تھا، اور ناقدین کی نظریں ان پر جمی ہوئی تھیں۔ لیکن مختصر مدت میں انہوں نے جو اقدامات کیے وہ بتانے کے لیے کافی ہیں کہ وہ محض نام کی لیڈر نہیں، بلکہ عمل کی سیاست دان ہیں۔

عوامی ٹرانسپورٹ میں انقلابی منصوبے شروع ہوئے جن سے عام آدمی کو سہولت ملی۔ تعلیم اور صحت کے شعبے میں بہتری کے لیے فیصلے کیے گئے۔ کسانوں کے لیے ریلیف پیکج اور مزدوروں کے لیے سہولتیں فراہم کی گئیں، تاکہ کمزور طبقے کو سہارا مل سکے۔ یہ سب اس بات کی علامت ہے کہ ان کے نزدیک اقتدار عیش و عشرت کا نہیں بلکہ عوامی خدمت کا ذریعہ ہے۔

پھر قدرت نے پنجاب کو ایک اور امتحان میں ڈالا۔ سیلاب آیا تو لاکھوں خاندان اجڑ گئے، ہزاروں گھر پانی میں بہہ گئے اور لاکھوں لوگ کھلے آسمان کے نیچے بے یار و مددگار ہو گئے۔

ایسے وقت میں اکثر حکمران محفوظ فاصلے سے احکامات جاری کرتے ہیں۔ لیکن مریم نواز نے اپنے رویے سے ایک نئی روایت قائم کی۔ وہ خود سیلاب زدہ علاقوں میں پہنچیں۔ پانی میں اتریں، کچی بستیوں میں بیٹھیں، چٹائی پر متاثرہ عورتوں اور بچوں کے ساتھ کھانا کھایا، ننھے بچوں کو اپنے ہاتھوں سے نوالے کھلائے۔ عورتوں کو گلے لگایا اور بزرگوں کے پاس بیٹھ کر ان کا دکھ بانٹا۔

یہ مناظر صرف امداد بانٹنے کے نہیں تھے، بلکہ ایک جذباتی رشتہ جوڑنے کے تھے۔ عوام نے پہلی بار محسوس کیا کہ کوئی ان کا حکمران صرف حکم دینے والا نہیں، بلکہ ان کے ساتھ کھڑا ہے۔ مریم نواز نے اپنی پوری ٹیم کو بھی خدمت کے اسی جذبے کے ساتھ میدان میں رکھا۔

پنجاب کے ہر کونے میں ان کی موجودگی دکھائی دی.

ان کے چہرے پر ایک عجیب سا سکون جھلکتا رہا، جیسے وہ اپنی ذمہ داری پوری کر رہی ہوں۔

یہی وہ لمحے ہیں جو مریم نواز کی شخصیت کو باقی سیاست دانوں سے الگ کرتے ہیں۔ وہ اب محض نواز شریف کی بیٹی نہیں رہیں بلکہ عوام کی خادم، محافظ اور قائد کے طور پر پہچانی جا رہی ہیں۔ ان کے انداز میں بیگم کلثوم نواز کی جھلک دکھائی دیتی ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ ان کا اپنا منفرد رنگ بھی نمایاں ہے۔

ایک طرف والدہ کے حوصلے اور صبر کا عکس، اور دوسری طرف اپنی والد کی سیاسی وراثت کا تسلسل۔

یقیناً یہ سفر ابھی ختم نہیں ہوا۔ مریم نواز کی کہانی ابھی لکھی جا رہی ہے۔ لیکن آج کی حقیقت یہ ہے کہ ان کی سیاست ایک نئے عہد کی بنیاد ڈال رہی ہے۔ یہ وہ سیاست ہے جس میں نہ پروٹوکول کی دیوار ہے اور نہ فاصلے کی رکاوٹ۔

یہ وہ سیاست ہے جس میں عوام کا دکھ درد سب سے بڑی ترجیح ہے۔ اور یہ وہ سیاست ہے جس میں قیادت صرف منصب نہیں بلکہ لوگوں کے ساتھ جینے مرنے کا عہد ہے۔

اور شاید یہ کوئی اتفاق نہیں کہ مریم نواز کے کردار میں بیگم کلثوم نواز کی قربانیوں اور حوصلے کی جھلک تو نمایاں ہے ہی، مگر ان کے ہر فیصلے اور ہر قدم میں نواز شریف کی تربیت اور سیاسی بصیرت کی روشنی بھی جھلکتی ہے۔

وہ بیٹی جس نے اپنے والد کو بار بار قربانی دیتے دیکھا، اب انہی اصولوں اور انہی روایات کی پاسداری کرتے ہوئے پنجاب کی عوام کی خدمت کر رہی ہے۔

یہی وہ وراثت ہے جو مریم نواز کو نہ صرف اپنی والدہ کی بیٹی بلکہ اپنے والد کی تربیت یافتہ قائد کے طور پر منفرد پہچان عطا کرتی ہے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

شیخ ریحان احمد

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: نواز شریف کی مریم نواز نے کلثوم نواز کی سیاست کے ساتھ نواز کی کے لیے

پڑھیں:

ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر

ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔

پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔

علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • لاہور میں 4 روز کے دوران کتنی ملی میٹر بارش ہوئی؟ پی ڈی ایم اے رپورٹ جاری
  • نواز شریف کا کیا گیا وعدہ پورا، 10 جدید الیکٹرک بسوں کا تحفہ آزاد کشمیر روانہ
  • اسلامی اقدار اور جدید دور
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر پھر مرکز نگاہ
  • آزاد کشمیر میں سیاسی سرگرمیاں تیز، نواز شریف آج میرپور میں جلسے سے خطاب کریں گے
  • لاہور ڈی ایچ اے میں بارش کے بعد پانی بھرگیا، رابی پیرزادہ کا مریم نواز سے شکوہ
  • نواز شریف کل میرپور میں انتخابی جلسے سے خطاب کریں گے
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم