WE News:
2026-06-03@00:45:12 GMT

مریم نواز: کلثوم نواز کا حوصلہ، نواز شریف کی تربیت

اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT

مریم نواز: کلثوم نواز کا حوصلہ، نواز شریف کی تربیت

پاکستان کی سیاست میں کئی کردار آئے اور گم ہو گئے، لیکن کچھ نام ایسے ہیں جو اپنے عزم، قربانی اور جدوجہد کی بدولت تاریخ کا حصہ بن جاتے ہیں۔

مریم نواز انہی ناموں میں سے ایک ہیں۔ ان کا سفر محض اقتدار تک پہنچنے کا قصہ نہیں، بلکہ قربانی، صبر اور عوامی خدمت کی ایک داستان ہے۔

سیاست کے میدان میں بہت سے نام آتے ہیں اور وقت کے ساتھ مٹ جاتے ہیں۔ لیکن کچھ کردار ایسے ہوتے ہیں جو اپنی قربانیوں اور جدوجہد کی بدولت لوگوں کے دلوں پر نقش چھوڑ جاتے ہیں۔ مریم نواز انہی کرداروں میں سے ایک ہیں۔

ان کا سیاسی سفر کسی شاہراہ پر ہموار گاڑی کی مانند نہیں رہا بلکہ کانٹوں، رکاوٹوں اور طوفانوں سے بھرا ہوا راستہ رہا ہے۔ مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ ہر مشکل نے انہیں کمزور کرنے کے بجائے اور مضبوط کر دیا۔

مریم نواز نے اپنی سیاست کا آغاز ایک انوکھے طریقے سے کیا۔ وہ براہِ راست ایوانوں یا جلسوں میں جلوہ گر نہیں ہوئیں بلکہ انہوں نے سب سے پہلے سوشل میڈیا کو اپنی آواز بنایا۔ یہ وہ وقت تھا جب سیاست دانوں کے نزدیک یہ پلیٹ فارم محض وقت گزاری کے سوا کچھ نہ تھا۔

لیکن مریم نواز نے اسے ہتھیار بنایا اور اپنے موقف, اپنے خیالات اور اپنے والد نواز شریف کی جدوجہد کو لاکھوں دلوں تک پہنچایا۔ یوں نوجوان نسل اور متوسط طبقہ ان کی طرف متوجہ ہوا اور سیاست میں ان کا پہلا قدم عوام کے دلوں میں جگہ بنانے میں کامیاب رہا۔

یہ سفر آسان نہیں تھا۔ کبھی عدالتوں کے کٹہرے میں کھڑے ہونا پڑا، کبھی جیل کے دروازے پر والد کے ساتھ دکھ سہنا پڑا، اور کبھی میڈیا کی کڑی تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

ایک بیٹی کی حیثیت سے والد کی جدائی کا صدمہ سہنا پڑا اور ایک سیاست دان کے طور پر الزامات اور پروپیگنڈے برداشت کرنے پڑے۔ لیکن شاید سب سے بڑا امتحان وہ تھا جب انہیں اپنی عظیم والدہ بیگم کلثوم نواز کی بیماری اور جدوجہد کے دنوں میں میدان سیاست سنبھالنا پڑا۔ کلثوم نواز نے ایک طویل عرصہ اپنے خاندان اور پارٹی کے لیے قربانیاں دیں۔

انہوں نے آمرانہ دور میں تن تنہا جدوجہد کی اور مسلم لیگ ن کو سہارا دیا۔ مریم نواز نے اپنی والدہ کو اس کٹھن وقت میں دیکھ کر عزم و حوصلے کا وہ سبق سیکھا جس نے ان کی سیاست کو مزید نکھارا۔

وقت گزرا اور پنجاب کی قیادت مریم نواز کے ہاتھ آئی۔ یہ ایک بڑا امتحان تھا، اور ناقدین کی نظریں ان پر جمی ہوئی تھیں۔ لیکن مختصر مدت میں انہوں نے جو اقدامات کیے وہ بتانے کے لیے کافی ہیں کہ وہ محض نام کی لیڈر نہیں، بلکہ عمل کی سیاست دان ہیں۔

عوامی ٹرانسپورٹ میں انقلابی منصوبے شروع ہوئے جن سے عام آدمی کو سہولت ملی۔ تعلیم اور صحت کے شعبے میں بہتری کے لیے فیصلے کیے گئے۔ کسانوں کے لیے ریلیف پیکج اور مزدوروں کے لیے سہولتیں فراہم کی گئیں، تاکہ کمزور طبقے کو سہارا مل سکے۔ یہ سب اس بات کی علامت ہے کہ ان کے نزدیک اقتدار عیش و عشرت کا نہیں بلکہ عوامی خدمت کا ذریعہ ہے۔

پھر قدرت نے پنجاب کو ایک اور امتحان میں ڈالا۔ سیلاب آیا تو لاکھوں خاندان اجڑ گئے، ہزاروں گھر پانی میں بہہ گئے اور لاکھوں لوگ کھلے آسمان کے نیچے بے یار و مددگار ہو گئے۔

ایسے وقت میں اکثر حکمران محفوظ فاصلے سے احکامات جاری کرتے ہیں۔ لیکن مریم نواز نے اپنے رویے سے ایک نئی روایت قائم کی۔ وہ خود سیلاب زدہ علاقوں میں پہنچیں۔ پانی میں اتریں، کچی بستیوں میں بیٹھیں، چٹائی پر متاثرہ عورتوں اور بچوں کے ساتھ کھانا کھایا، ننھے بچوں کو اپنے ہاتھوں سے نوالے کھلائے۔ عورتوں کو گلے لگایا اور بزرگوں کے پاس بیٹھ کر ان کا دکھ بانٹا۔

یہ مناظر صرف امداد بانٹنے کے نہیں تھے، بلکہ ایک جذباتی رشتہ جوڑنے کے تھے۔ عوام نے پہلی بار محسوس کیا کہ کوئی ان کا حکمران صرف حکم دینے والا نہیں، بلکہ ان کے ساتھ کھڑا ہے۔ مریم نواز نے اپنی پوری ٹیم کو بھی خدمت کے اسی جذبے کے ساتھ میدان میں رکھا۔

پنجاب کے ہر کونے میں ان کی موجودگی دکھائی دی.

ان کے چہرے پر ایک عجیب سا سکون جھلکتا رہا، جیسے وہ اپنی ذمہ داری پوری کر رہی ہوں۔

یہی وہ لمحے ہیں جو مریم نواز کی شخصیت کو باقی سیاست دانوں سے الگ کرتے ہیں۔ وہ اب محض نواز شریف کی بیٹی نہیں رہیں بلکہ عوام کی خادم، محافظ اور قائد کے طور پر پہچانی جا رہی ہیں۔ ان کے انداز میں بیگم کلثوم نواز کی جھلک دکھائی دیتی ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ ان کا اپنا منفرد رنگ بھی نمایاں ہے۔

ایک طرف والدہ کے حوصلے اور صبر کا عکس، اور دوسری طرف اپنی والد کی سیاسی وراثت کا تسلسل۔

یقیناً یہ سفر ابھی ختم نہیں ہوا۔ مریم نواز کی کہانی ابھی لکھی جا رہی ہے۔ لیکن آج کی حقیقت یہ ہے کہ ان کی سیاست ایک نئے عہد کی بنیاد ڈال رہی ہے۔ یہ وہ سیاست ہے جس میں نہ پروٹوکول کی دیوار ہے اور نہ فاصلے کی رکاوٹ۔

یہ وہ سیاست ہے جس میں عوام کا دکھ درد سب سے بڑی ترجیح ہے۔ اور یہ وہ سیاست ہے جس میں قیادت صرف منصب نہیں بلکہ لوگوں کے ساتھ جینے مرنے کا عہد ہے۔

اور شاید یہ کوئی اتفاق نہیں کہ مریم نواز کے کردار میں بیگم کلثوم نواز کی قربانیوں اور حوصلے کی جھلک تو نمایاں ہے ہی، مگر ان کے ہر فیصلے اور ہر قدم میں نواز شریف کی تربیت اور سیاسی بصیرت کی روشنی بھی جھلکتی ہے۔

وہ بیٹی جس نے اپنے والد کو بار بار قربانی دیتے دیکھا، اب انہی اصولوں اور انہی روایات کی پاسداری کرتے ہوئے پنجاب کی عوام کی خدمت کر رہی ہے۔

یہی وہ وراثت ہے جو مریم نواز کو نہ صرف اپنی والدہ کی بیٹی بلکہ اپنے والد کی تربیت یافتہ قائد کے طور پر منفرد پہچان عطا کرتی ہے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

شیخ ریحان احمد

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: نواز شریف کی مریم نواز نے کلثوم نواز کی سیاست کے ساتھ نواز کی کے لیے

پڑھیں:

بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی ہے جو بارود سے زیادہ نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

صوبائی وزرا علی مدد جتک اور عاصم کرد گیلو کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ دشمن پاکستان اور بلوچستان کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں بشیر زیب نے جب ایک کالعدم تنظیم کی کمان سنبھالی تو حالات مزید خراب ہوئے، جبکہ جنید بشیر زیب کا رائٹ ہینڈ ہے۔

انہوں نے کہاکہ آج کی جنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لڑی جا رہی ہے اور کالعدم تنظیموں کے کارندے زنگی ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں سنگل ایپ کے ذریعے آپریشنل منصوبہ بندی جبکہ ڈیلٹا چیٹ کے ذریعے خفیہ بھرتیاں کرتی ہیں۔

نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ آج دشمن صرف گولی کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر بھی اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کریں۔

انہوں نے دعویٰ کیاکہ کالعدم تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں میں خواتین کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ شہناز بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں شرکت کرتی تھیں اور ان کا باہوٹ کے ذریعے کالعدم تنظیم سے رابطہ ہوا۔

نوابزادہ جمال رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کی قیادت ڈاکٹر صبیحہ کر رہی ہیں اور ان کا بھائی ایک کالعدم تنظیم کا حصہ ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کراچی سیل کی قیادت فوزیہ شاہوانی کررہی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بلوچستان سیاست خاموش جنگ نوابزادہ جمال رئیسانی وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • صدرمسلم لیگ (ن) نواز شریف کل گلگت بلتستان کا ایک روزہ دورہ کریں گے
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف