جنوبی کوریا کی سابق خاتونِ اوّل کرپشن الزامات پر گرفتار؛ شوہر پہلے ہی جیل میں ہیں
اشاعت کی تاریخ: 13th, August 2025 GMT
جنوبی کوریا میں کرپشن کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کے دوران سابق صدر یون سک یول کی اہلیہ کم کیون کو سنگین مالی جرائم کے الزامات میں گرفتار کر لیا گیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق جنوبی کوریا کی عدالت نے سابق خاتونِ اوّل کو گرفتار کرنے کا حکم عدالت دیتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا کہ کم کیون شواہد ضائع کرسکتی ہیں۔
عدالت میں پراسیکیوشن نے بتایا کہ کم کیون پر کئی سنگین الزامات عائد ہیں جن میں قیمتی زیورات، تحائف اور نقد رقوم کی وصولی، خفیہ معلومات حاصل کرکے اسٹاک مارکیٹ میں ہیرا پھیری، اثر و رسوخ کے ذریعے انتخابی عمل میں مداخلت اور اپنے عہدے کا ناجائز فائدہ اُٹھا کر غیر قانونی سرمایہ کاری کرنا شامل ہے۔
عدالتی دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ سابق خاتونِ اوّل کے تمام جرائم جنوبی کوریا کے انسداد بدعنوانی قوانین کی سنگین خلاف ورزیاں ہیں۔
یاد رہے کہ جنوبی کوریا کے سابق صدر یون سک یول پہلے ہی مارشل لاء نافذ کرنے کی ناکام کوشش اور دیگر الزامات کے باعث زیر حراست ہیں اور اب ان کی اہلیہ کی گرفتاری سے ان کے سیاسی مستقبل شدید خطرے میں ہے۔
جنوبی کوریا ماضی میں بھی اپنی قیادت کے خلاف شفاف تحقیقات اور قانونی کارروائیوں کے لیے جانا جاتا رہا ہے۔ اس سے قبل بھی کئی صدور اور اعلیٰ حکام کو بدعنوانی کے مقدمات میں سزائیں ہو چکی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: جنوبی کوریا
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔