یوم آزادی پر مزار قائد و اقبال پر گارڈز تبدیلی کی پروقار تقاریب
اشاعت کی تاریخ: 14th, August 2025 GMT
پاکستان کے 78 ویں یوم آزادی کے موقع پر کراچی میں مزار قائد اور لاہور میں مزار اقبال پر گارڈز کی تبدیلی کی پروقار تقاریب ہوئیں۔آج ملک بھر میں 78 واں یوم آزادی انتہائی جوش و خروش اور قومی جذبے کے ساتھ منایا جا رہا ہے، دن کے آغاز پر توپوں کی سلامی دی دی گئی، نماز فجر میں ملکی ترقی، یکجہتی، امن اور خوشحالی کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔اس موقع پر کراچی میں بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے مزار پرگارڈ کی تبدیلی کی تقریب ہوئی جس میں پاکستان نیول اکیڈمی کے چاق و چوبند 91 کیڈٹس نے مزار قائد پر فرائض سنبھال لیے۔اعزازی گارڈز 2 دستوں پر مشتمل ہیں، ایک دستہ پاک بحریہ کے سیلرز اور دوسرا دستہ پاکستان نیوی کے کیڈٹس پر مشتمل ہے جبکہ گارڈ میں 4 خواتین کیڈٹ بھی شامل ہیں۔مزار قائد پر گارڈز کی تبدیلی کے بعد مہمان خصوصی کموڈور تصور اقبال کی جانب سے فاتحہ خوانی بھی کی گئی، مہمان خصوصی نے مہمانوں کی کتاب میں تاثرات قلم بند کیے۔اس کے علاوہ لاہور میں مزار اقبال پر بھی گاڈرز کی تبدیلی کی پروقار تقریب ہوئی جس میں پنجاب رینجرز کے چاق و چوبند دستے نے پاکستان آرمی کو چارج دے دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔