پاکستان کے 78ویں یومِ آزادی کے موقع پر چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے پوری قوم اور قانونی برادری کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دن ہمارے اُن بزرگوں کی قربانیوں اور عزم کا یادگار ہے جنہوں نے ایک ایسی خودمختار مملکت کا خواب دیکھا جہاں عدل، مساوات اور قانون کی حکمرانی قائم ہو۔

یہ بھی پڑھیں:ملک بھر میں یومِ آزادی کی تقریبات، معرکہ حق کی فتح کی مرکزی تقریب میں مسلح افواج کی شاندار پریڈ

چیف جسٹس نے کہا کہ آزادی محض ایک تاریخی موقع نہیں بلکہ ایک ذمہ داری کی تجدید ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آئینِ پاکستان عوام کی امنگوں کا آئینہ دار ہے جو بنیادی حقوق کی ضمانت دیتا ہے، آزادیوں کا تحفظ کرتا ہے اور انصاف کو معاشرے کی بنیاد بناتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تمام اداروں خصوصاً عدلیہ پر لازم ہے کہ وہ دیانتداری، غیر جانبداری اور جرات کے ساتھ ان اصولوں کو برقرار رکھیں۔ آگے بڑھتے ہوئے ہمیں جمہوری طرزِ حکمرانی کو مضبوط بنانے، کمزور طبقات کے حقوق کے تحفظ اور اس امر کو یقینی بنانے کے لیے پُرعزم رہنا ہوگا کہ کوئی بھی قانون سے بالاتر نہ ہو۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان کے 78ویں یومِ آزادی پر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا پیغام، معاشی تعاون بڑھانے کی خواہش کا اظہار

چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں ایک ایسا معاشرہ تشکیل دینا ہے جہاں تنازعات منصفانہ طریقے سے حل ہوں، سچائی بے خوفی سے قائم رکھی جائے اور ہر شہری اپنی روزمرہ زندگی میں انصاف کی موجودگی کو محسوس کرے۔

انہوں نے یومِ آزادی کے موقع پر تمام پاکستانیوں پر زور دیا کہ وہ اتحاد، نظم و ضبط اور ملک کی خدمت کے عزم کو تازہ کریں تاکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک منصف، پُرامن اور خوشحال پاکستان قائم کیا جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

جسٹس یحییٰ آفریدی چیف جسٹس سپریم کورٹ یوم آزادی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: جسٹس یحیی ا فریدی چیف جسٹس سپریم کورٹ یوم ا زادی چیف جسٹس

پڑھیں:

سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب

فائل فوٹو 

سپریم کورٹ نے اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا۔

کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ درخواست 25 دن تاخیر سے دائر کی گئی۔

پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر توہین عدالت کی درخواست شہداء کےلواحقین کی جانب سے دائر کی گئی تھی، پشاور ہائیکورٹ نے توہین عدالت کی درخواست خارج کردی تھی۔

درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ شہداء کے لواحقین کو اعلان کردہ پیکیج نہیں ملا۔

جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر کوئی پیکیج ملا ہے تو سب کو دیں،  وفاقی حکومت بتائے کہ پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر عملدرآمد ہوا یا نہیں۔

کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور