یومِ آزادی پر چیف جسٹس کا پیغام: آزادی عدل، مساوات اور قانون کی حکمرانی کی ضمانت ہے
اشاعت کی تاریخ: 14th, August 2025 GMT
پاکستان کے 78ویں یومِ آزادی کے موقع پر چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے پوری قوم اور قانونی برادری کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دن ہمارے اُن بزرگوں کی قربانیوں اور عزم کا یادگار ہے جنہوں نے ایک ایسی خودمختار مملکت کا خواب دیکھا جہاں عدل، مساوات اور قانون کی حکمرانی قائم ہو۔
یہ بھی پڑھیں:ملک بھر میں یومِ آزادی کی تقریبات، معرکہ حق کی فتح کی مرکزی تقریب میں مسلح افواج کی شاندار پریڈ
چیف جسٹس نے کہا کہ آزادی محض ایک تاریخی موقع نہیں بلکہ ایک ذمہ داری کی تجدید ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آئینِ پاکستان عوام کی امنگوں کا آئینہ دار ہے جو بنیادی حقوق کی ضمانت دیتا ہے، آزادیوں کا تحفظ کرتا ہے اور انصاف کو معاشرے کی بنیاد بناتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تمام اداروں خصوصاً عدلیہ پر لازم ہے کہ وہ دیانتداری، غیر جانبداری اور جرات کے ساتھ ان اصولوں کو برقرار رکھیں۔ آگے بڑھتے ہوئے ہمیں جمہوری طرزِ حکمرانی کو مضبوط بنانے، کمزور طبقات کے حقوق کے تحفظ اور اس امر کو یقینی بنانے کے لیے پُرعزم رہنا ہوگا کہ کوئی بھی قانون سے بالاتر نہ ہو۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان کے 78ویں یومِ آزادی پر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا پیغام، معاشی تعاون بڑھانے کی خواہش کا اظہار
چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں ایک ایسا معاشرہ تشکیل دینا ہے جہاں تنازعات منصفانہ طریقے سے حل ہوں، سچائی بے خوفی سے قائم رکھی جائے اور ہر شہری اپنی روزمرہ زندگی میں انصاف کی موجودگی کو محسوس کرے۔
انہوں نے یومِ آزادی کے موقع پر تمام پاکستانیوں پر زور دیا کہ وہ اتحاد، نظم و ضبط اور ملک کی خدمت کے عزم کو تازہ کریں تاکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک منصف، پُرامن اور خوشحال پاکستان قائم کیا جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
جسٹس یحییٰ آفریدی چیف جسٹس سپریم کورٹ یوم آزادی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: جسٹس یحیی ا فریدی چیف جسٹس سپریم کورٹ یوم ا زادی چیف جسٹس
پڑھیں:
حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیراعظم کے اپنا گھر پروگرام کے تحت اپنا ذاتی گھر حاصل کرنے کے خواہشمند شہریوں کے لیے بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ پروگرام کے تحت کمرشل بینک اب تک 160 ارب روپے مالیت کے ہاؤسنگ قرضے منظور کر چکے ہیں جبکہ کامیاب درخواست گزاروں کو قرضوں کی فراہمی کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے۔
یہ بات وزیر خزانہ کے مشیر عدنان پاشا نے کراچی میں منعقدہ فرسٹ انٹرنیشنل انشورنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا اپنا گھر پروگرام ملک میں تقریباً ایک کروڑ (10 ملین) گھروں کی کمی کو پورا کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے اور اس کے ذریعے کم آمدنی والے خاندانوں کو رعایتی شرائط پر اپنے گھر کا مالک بننے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔
عدنان پاشا نے بتایا کہ اس اسکیم کے تحت شہریوں کو صرف 5 فیصد رعایتی مارک اپ پر ہاؤسنگ قرض فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ وزارت خزانہ اس منصوبے میں شامل بینکوں کے ممکنہ قرض نقصان کا 10 فیصد تک بوجھ خود برداشت کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت پہلے 10 سال تک مارک اپ سبسڈی بھی فراہم کر رہی ہے تاکہ ہاؤسنگ فنانس زیادہ سے زیادہ سستا اور عوام کی پہنچ میں رہ سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ مستحق خاندان اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں، جس سے نہ صرف رہائشی مسائل میں کمی آئے گی بلکہ تعمیراتی شعبے، سیمنٹ، اسٹیل، ٹائلز، الیکٹریکل مصنوعات اور دیگر متعلقہ صنعتوں میں بھی معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔
اس موقع پر عدنان پاشا نے حکومت کے الیکٹرک موٹرسائیکل پروگرام پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت آئندہ برسوں میں 20 لاکھ الیکٹرک موٹرسائیکلیں متعارف کرانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں تقریباً 30 لاکھ رجسٹرڈ موٹرسائیکلیں ہر سال قریب 8 ارب ڈالر مالیت کا درآمدی پٹرول استعمال کرتی ہیں، جس سے نہ صرف قیمتی زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت شہریوں کو الیکٹرک بائیکس کی خریداری پر سبسڈی اور بلاسود فنانسنگ فراہم کر رہی ہے تاکہ ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے، تاہم ملک میں الیکٹرک بائیکس کی پیداوار اور سپلائی کے مسائل اب بھی موجود ہیں، جنہیں دور کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
عدنان پاشا نے زرعی شعبے کے حوالے سے بتایا کہ حکومت نے حال ہی میں زرخیزی اسکیم بھی متعارف کرائی ہے جس کے تحت 21 بینکوں پاکستان بینکس ایسوسی ایشن اور سپارکو کے تعاون سے کسانوں کو ڈیجیٹل زرعی قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے میں سیٹلائٹ مانیٹرنگ اور ریئل ٹائم ڈیٹا کے ذریعے قرضوں کے استعمال کی نگرانی کی جائے گی تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور زرعی پیداوار میں اضافہ ہو۔
حکومتی حکام کے مطابق اپنا گھر پروگرام اور دیگر مالیاتی اسکیموں کا مقصد کم آمدنی والے طبقات کو سہولت فراہم کرنے معیشت کو متحرک کرنے، تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور ملک میں پائیدار ترقی کی راہ ہموار کرنا ہے۔
مزید پڑھیں۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ