قرآن و سنہ موومنٹ کے زیر اہتمام استحکامِ پاکستان سیمینار
اشاعت کی تاریخ: 14th, August 2025 GMT
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 اگست 2025ء) قرآن و سنہ موومنٹ پاکستان کے زیر اہتمام ملک کے مختلف شہروں میں استحکامِ پاکستان سیمینارز منعقد کیے گئے۔ اس سلسلے کا ایک اہم سیمینار جامعہ لاہورالاسلامیہ مرکز بیت العتیق میں ہوا جس میں قرآن وسنہ موومنٹ کے مرکزی و صوبائی قائدین اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ تقریب سے چیئرمین قرآن و سنہ موومنٹ پاکستان علامہ ابتسام الٰہی ظہیر، وائس چیئرمین ڈاکٹر حمزہ مدنی، ڈپٹی سیکرٹری قیم الٰہی ظہیر، چیئرمین پنجاب ڈاکٹر شفیق الرحمن زاہد، سرپرست پنجاب شیخ محمد سلمان، سیکرٹری اطلاعات پنجاب قاری محمد احمد قمر، ناظم تبلیغ پروفیسر کوثر زمان، مولانا اسحاق طاہر اور قاری ظہیر ادریس سمیت دیگر رہنماؤں نے خطاب کیا۔
علامہ ابتسام الٰہی ظہیر نے کہا کہ قیام پاکستان کی بنیاد دو قومی نظریہ تھا۔(جاری ہے)
قیام پاکستان کا مقصد ایک ایسے وطن کا حصول تھا جس میں کتاب و سنت کی عملداری ہو۔ پاکستان کے آئین میں قرارداد مقاصد شامل ہے جو اللہ کی حاکمیت کی یقین دہانی کرواتی ہے۔ اسی طرح آئین پاکستان میں کتاب و سنت کی عملداری کی ضمانت دی گئی ہے لیکن اس کے باوجود ملک میں کئی مقامات پر اصلاحات کی ضرورت ہے۔
بینکوں میں سودی لین دین، بڑے ہوٹلوں میں شراب کی خرید وفروخت اور ملک کے مختلف مقامات پر قحبہ گری کے اڈوں کا بند ہونا ضروری ہے۔قائد اعظم، علامہ اقبال اور علماء اسلام کی جہدوجہد کا مقصد ایک اسلامی فلاحی ریاست کا قیام تھا جس میں ہر شخص کیلئے یکساں قانون اور سہولیات میسر ہوں لیکن اس حوالے سے پاکستان میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔ جرم و سزا کا نظام ہمہ گیر ہونا چاہیے۔ بااثر افراد اور عام لوگوں کیلئے قانون برابر ہونا چاہیے۔ ملک کی معاشی ترقی کیلئے سود کا خاتمہ ناگزیر ہے۔ اسی طرح پاکستان کے داخلی اور خارجی دشمنوں کا مقابلہ کرنے کیلئے ملک کے تمام طبقات اور جماعتوں کا ایک پیج پر آنا ضروری ہے۔ اس حوالے سے قرآن و سنہ موومنٹ ملک کے دیگر مذہبی طبقات کے ساتھ ملکر ہر طرح کی قربانیاں دینے کیلئے تیار ہے۔ شعائر اللہ کا دفاع کرنا ہر مسلمان کی زمہ داری ہے۔حرمت رسول اللہ، عقیدہ ختم نبوت، عظمت صحابہ و اہلبیت اور مساجد کے تحفظ کیلئے حکومت اور عوام کو اپنی زمہ داریوں کو ادا کرنا چاہیے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے قیم الٰہی ظہیر نے کہا پاکستان دو قومی نظریے کی بنیاد پر بنایا گیا تھا اور پاکستان کے تحفظ کیلئے ہر طرح کی قربانی دینے کیلئے تیار ہیں۔ ڈاکٹر حمزہ مدنی نے کہا پاکستان ایک نظریاتی ریاست ہے اور اس کے نظریے پر کسی بھی قسم کے سمجھوتے کی گنجائش نہیں۔ ڈاکٹر شفیق الرحمن زاہد نے کہا قیام پاکستان کیلئے علماء اور اہل دین نے بھرپور قربانیاں دی تھیں اور دفاع وطن کیلئے بھی ہر طرح کی قربانیاں دینے کیلئے تیار ہیں۔ اس موقع پر عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور پرجوش انداز میں نعرے لگائے گئے اور پاکستان کی ترقی اور استحکام کیلئے تجدید عزم کیا۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے قرا ن و سنہ موومنٹ پاکستان کے ال ہی ظہیر ملک کے نے کہا
پڑھیں:
محبوبہ مفتی کا نئی دلی سے مذاکرات کیلئے متحدہ سیاسی محاذ بنانے پر زور
انہوں نے لداخ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں لہہ اور کارگل کے رہنمائوں نے علاقائی اور مذہبی اختلافات کے باوجود مشترکہ طور پر اپنے حقوق اور آئینی تحفظات کے لیے آواز بلند کی۔ اسلام ٹائمز۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے سیاسی جماعتوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر ایک مشترکہ پلیٹ فارم تشکیل دیں تاکہ نئی دہلی کے ساتھ سیاسی مذاکرات کے لیے سازگار فضا قائم ہو سکے۔ذرائع کے مطابق سرینگر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ جموں و کشمیر کے سیاسی مسائل کے حل کا واحد راستہ بامعنی سیاسی مذاکرات اور مسلسل رابطہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو مشترکہ حکمتِ عملی اپناتے ہوئے ایک متحد موقف اختیار کرنا چاہیے۔ انہوں نے لداخ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں لہہ اور کارگل کے رہنمائوں نے علاقائی اور مذہبی اختلافات کے باوجود مشترکہ طور پر اپنے حقوق اور آئینی تحفظات کے لیے آواز بلند کی۔ انہوں نے کہا کہ اسی طرز پر جموں و کشمیر میں بھی ایک اجتماعی سیاسی نقطہ نظر اپنانے کی ضرورت ہے۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن جیسے پلیٹ فارمز کی طرز پر دوبارہ سیاسی اتحاد قائم کیا جانا چاہیے تاکہ مودی حکومت کے ساتھ مذاکرات شروع کئے جا سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مشکل اور کشیدہ حالات میں بھی سیاسی رابطے اور بات چیت کے دروازے کھلے رکھنے کی کوششیں جاری رہنی چاہیں۔ کشمیری عوام چاہتے ہیں کہ منتخب عوامی نمائندے ان کے سیاسی حقوق اور وقار کی بحالی کے لیے بھی کردار ادا کریں۔ محبوبہ مفتی نے کشمیری نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی مایوسی اور بیگانگی پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور اعتماد سازی کے اقدامات پر زور دیا۔ انہوں نے شہری علاقوں میں تعینات قابض بھارتی فورسز کی تعداد کم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کشمیری نظربندوں کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ریلیف فراہم کرنے کی بھی اپیل کی۔