امریکی ماہرِ معیشت کی مودی کو تنبیہ: چین مخالف امریکی ایجنڈے کا مہرہ نہ بنیں
اشاعت کی تاریخ: 15th, August 2025 GMT
عالمی شہرت یافتہ امریکی ماہرِ معاشیات پروفیسر جیفری ڈی ساکس نے خبردار کیا ہے کہ بھارت کو امریکا کی چین مخالف تجارتی جنگ میں استعمال ہونے سے گریز کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ امریکی پالیسی کبھی بھی اپنے اتحادیوں کے حق میں مستقل اور سنجیدہ نہیں رہی، اور حالیہ 50 فیصد ٹیرف کا نفاذ اس حقیقت کو عیاں کرتا ہے۔
ان کے مطابق نئی دہلی کو صرف امریکی مارکیٹ پر انحصار کرنے کے بجائے روس، چین، آسیان اور افریقی ممالک کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنے چاہئیں۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ پیوٹن مذاکرات ناکام ہوئے تو بھارت پر مزید ٹیرف لگائیں گے، امریکا کی مودی سرکار کو وارننگ
کولمبیا یونیورسٹی کے پروفیسر ساکس نے این ڈی ٹی وی سے گفتگو میں کہا کہ امریکا یکطرفہ اور غیر قانونی فیصلوں کے ذریعے ممالک کو دباؤ میں لاتا ہے، اور ٹرمپ کا ٹیرف اقدام امریکا کے آئین اور بین الاقوامی قانون دونوں کی خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات نہ صرف بھارت کے لیے نقصان دہ ہیں بلکہ اسے یہ احساس بھی دلانا چاہیے کہ واشنگٹن کسی کا دیرپا دوست نہیں۔
مزید پڑھیں: امریکی ٹیرف: بھارت قدرے ضدی رویہ اختیار کیے ہوئے ہے، امریکی وزیر خزانہ
پروفیسر ساکس نے بھارت اور چین کے درمیان مضبوط تجارتی، تکنیکی اور سرمایہ کاری تعلقات کو دونوں کے لیے انتہائی مفید قرار دیتے ہوئے کہا کہ گرین انرجی، ڈیجیٹل، اے آئی اور جدید چپس جیسے شعبوں میں چین بھارت کا بہترین شراکت دار ہو سکتا ہے۔ اختلافات ختم کریں، کیونکہ یہ تعلقات دونوں ممالک اور دنیا کے لیے فائدہ مند ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کی حالیہ پالیسیوں نے دراصل برازیل، روس، بھارت اور چین کو قریب لا دیا ہے، اور یہ عمل امریکہ کی سوچ کے برخلاف عالمی طاقتوں کے درمیان نئے اتحاد کی راہ ہموار کر رہا ہے۔
مزید پڑھیں: صدر ٹرمپ نے کمپیوٹر چپس پر 100 فیصد ٹیرف لگانے کا اعلان کر دیا
ان کا کہنا تھا کہ یوکرین جنگ دراصل 30 سالہ امریکی اشتعال انگیزی اور نیٹو کے توسیعی عزائم کا نتیجہ ہے، اور اب بھارت کو اس پالیسی کا حصہ بن کر خود کو نقصان نہیں پہنچانا چاہیے۔
پاکستانی سفارتی ماہرین کے مطابق ساکس کے بیانات اس تاثر کو تقویت دیتے ہیں کہ بھارت کو چین اور روس کے ساتھ تعاون بڑھانے پر مجبور ہونا پڑے گا، جو بالآخر خطے میں طاقت کے توازن کو پاکستان کے حق میں لے جا سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: ’بھارت سے خوش نہیں ہوں‘، ٹرمپ کا انڈیا پر مزید ٹیرف آئندہ 24 گھنٹوں میں لگانے کا اعلان
اگر بھارت بیجنگ کے ساتھ تعلقات بہتر بناتا ہے تو نئی دہلی کا پاکستان مخالف اتحاد کمزور پڑے گا اور جنوبی ایشیا میں سفارتی منظر نامہ تبدیل ہو جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا بھارت پروفیسر جیفری ڈی ساکس عالمی شہرت یافتہ امریکی ماہرِ معاشیات.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا بھارت مزید پڑھیں کے لیے کہا کہ
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔