WE News:
2026-06-03@07:02:17 GMT

زراعت کا ڈیجیٹل سفر، جنگلات نظر انداز

اشاعت کی تاریخ: 15th, August 2025 GMT

زراعت کا ڈیجیٹل سفر، جنگلات نظر انداز

زراعت فصلوں، مال مویشی اور جنگلات کا مجموعہ ہے، پاکستان نے حال ہی میں ایک ایسا سنگِ میل عبور کیا ہے جو مستقبل میں ملکی معیشت، خوراک کے تحفظ اور کسانوں کی فلاح میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتا ہے۔

وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے پہلی ڈیجیٹل زرعی مردم شماری کے نتائج جاری کرتے ہوئے اسے ’ڈیٹا پر مبنی زرعی انقلاب کا نقطۂ آغاز‘ قرار دیا۔

یہ دعویٰ محض رسمی جملہ نہیں، بلکہ اس کے پسِ منظر میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے حاصل ہونے والی وہ معلومات ہیں جو پالیسی سازی، سرمایہ کاری اور پیداوار میں نیا باب کھول سکتی ہیں۔

یہ زراعت شماری اپنے دائرۂ کار اور طریقۂ کار دونوں اعتبار سے ماضی کی شماریات سے مختلف ہے۔ 2010 میں زیرِ کاشت زمین کا رقبہ 4 کروڑ 26 لاکھ ایکڑ تھا، جو اب بڑھ کر 5 کروڑ 28 لاکھ ایکڑ ہو چکا ہے۔

لیکن اس خوش آئند اضافے کے ساتھ ایک توجہ طلب حقیقت یہ بھی سامنے آئی کہ اوسط زرعی رقبہ 6.

6 ایکڑ سے گھٹ کر 5.1 ایکڑ رہ گیا ہے۔ اس سے زمین کی ملکیت میں مسلسل تقسیم اور بڑھتی آبادی کا دباؤ واضح ہوتا ہے۔

ڈیجیٹل زراعت شماری کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ ملک کے تمام صوبوں پہاڑی اور دور دراز علاقوں میں بیک وقت یہ عمل مکمل ہوا ہزاروں تربیت یافتہ اہلکاروں نے GPS سے لیس آلات کے ذریعے زمین کے استعمال  آبپاشی، فصلوں، مویشیوں، زرعی مشینری اور کسانوں کی معاشی و سماجی صورت حال کا  ڈیٹا جمع کیا۔

اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں مویشیوں کی آبادی 25 کروڑ 13 لاکھ تک پہنچ گئی ہے، جن میں گائے، بھینسیں، بکریاں، بھیڑیں، اونٹ اور گدھے شامل ہیں۔

فصلوں کے زیرِ کاشت رقبے کا تجزیہ صوبائی سطح پر پالیسی سازی میں مدد فراہم کر سکتا ہے، مثلاً پنجاب میں گندم کی کاشت 41.5 فیصد، جبکہ سندھ میں 40 فیصد ہے۔ یہ اعداد و شمار سبسڈی، قرضہ اسکیموں جدید بیجوں اور موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ فصلوں کے فروغ میں براہِ راست مددگار ثابت ہوں گے۔

ڈیجیٹل ڈیٹا پورٹل اس عمل کو مزید شفاف اور بروقت بنا دے گا، جہاں پالیسی ساز اور کاشتکار دونوں بر وقت معلومات تک رسائی حاصل کر سکیں گے، یہی وہ پہلو ہے جو روایتی زراعت شماری میں ہمیشہ کمزور رہا۔

روایتی زراعت شماری سے حکومت کو زمین کے استعمال فصلوں کی پیداوار کسانوں کی ضروریات اور وسائل کی تقسیم کے بارے میں عمومی نقشہ ملتا ہے، اس سے خوراک کے تحفظ سرمایہ کاری اور عالمی اداروں سے تکنیکی و مالی معاونت حاصل کرنے میں مدد ملتی ہے۔

ڈیجیٹل زراعت شماری نے اس عمل میں رفتار درستی اور بر وقت معلومات کا اضافہ کر دیا ہے۔ جی آئی ایس میپنگ مصنوعی ذہانت پر مبنی تجزیے اور کسانوں تک براہِ راست رسائی جیسے اقدامات پالیسی سازی کو نہ صرف تیز بلکہ ہدف کے عین مطابق بناتے ہیں۔

زراعت کا ایک اہم شعبہ ذیلی شعبہ جنگلات اس ڈیجیٹل شماریات میں عدم توجہ کا مظہر رہا، پاکستان میں جنگلات کا رقبہ عالمی معیار 25 فیصد کے مقابلے میں نہایت کم ہے۔ اقوام متحدہ کا کم از کم ہدف خشک/نیم خشک ممالک کے لیے 12 فیصد ہے، حالانکہ پاکستان ایسے ممالک میں شمار نہیں ہوتا مگر ہمارا موجودہ رقبہ اس حد سے بھی کم 4 سے 5 فیصد ہے۔

جنگلات صرف لکڑی یا ایندھن کا ذریعہ نہیں بلکہ یہ بارش کے نظام مٹی کے تحفظ آبی گزرگاہوں کے تحفظ اور فضا سے کاربن جذب کرنے میں بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

پاکستان جیسے موسمیاتی خطرات سے دوچار ملک میں جہاں گلیشیئر پگھلنے بارشوں کے رجحان میں تغیر اور سیلابوں کا خطرہ بڑھ رہا ہے، جنگلات کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ مزید یہ کہ لکڑی، شہد، جڑی بوٹیاں اور دیگر جنگلی مصنوعات دیہی معیشت کا حصہ ہوتی ہیں۔

جنگلات کے رقبے اقسام اور سالانہ کمی یا اضافے کا ڈیٹا ریموٹ سینسنگ ڈرون سرویلنس اور جی آئی ایس میپنگ کے ذریعے حاصل شدہ تفصیلات کو بھی حکومتی سطح پر نمایاں کرنا چاہیے، تاکہ ماحولیاتی تحفظ  جنگلات کی کٹائی روکنے نئے جنگلات لگانے اور موسمیاتی تبدیلی کے خلاف مؤثر اقدامات کے لیے ٹھوس ڈیٹا دستیاب ہو۔

 مزید یہ کہ گرین اکنامی عالمی کاربن کریڈٹ مارکیٹ میں تسلیم شدہ شمولیت ممکن ہو سکے، جس سے پاکستان کو قیمتی زرمبادلہ حاصل ہو سکتا ہے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

راحیل نواز سواتی

جنگلات ڈیجیٹل زراعت گرین اکانومی

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: جنگلات ڈیجیٹل گرین اکانومی کے تحفظ

پڑھیں:

عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی

بین الاقوامی سیاست کے افق پر بعض لمحات ایسے طلوع ہوتے ہیں جو محض روزمرہ سفارتی سرگرمیوں کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے میں ایک معنی خیز موڑ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اسی نوع کی بے یقینی، اضطراب اور کشمکش سے دوچار ہے۔

ایک طرف جنگ کے بادل ہیں جو لبنان، غزہ اور خطے کے دیگر حساس مقامات پر مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں، دوسری طرف سفارت کاری کی وہ نحیف مگر روشن کرن بھی موجود ہے جو انسانیت کو ایک بڑے تصادم سے بچانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ ایسے نازک ماحول میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی نہ صرف قومی سفارت کاری کی کامیابی کا اعتراف ہے بلکہ اس حقیقت کی علامت بھی ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو ایک ذمے دار، متوازن اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنا بظاہر ایک بیان ہے، مگر اس کے مضمرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ عالمی سیاست میں تعریف کے الفاظ اکثر مفادات کے پردے میں لپٹے ہوتے ہیں، لیکن جب کسی ملک کی ثالثی کی صلاحیت، اس کی قائدانہ بصیرت اور امن کے لیے اس کی سنجیدہ کوششوں کا اعتراف مختلف بین الاقوامی حلقوں سے ہونے لگے تو یہ محض سفارتی آداب نہیں رہتے بلکہ ایک نئی حقیقت کا اظہار بن جاتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی گزشتہ نصف صدی سے عالمی سیاست کے حساس ترین موضوعات میں شمار ہوتی رہی ہے۔

ان دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی صرف دو ریاستوں کا تنازع نہیں بلکہ اس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی اقتصادی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر پاکستان نے متعدد مواقع پر دونوں فریقوں کو جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں کردار ادا کیا ہے تو یہ ایک ایسی کامیابی ہے جسے محض رسمی تعریف کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت کی تعریف تبدیل ہو رہی ہے۔

ماضی میں عسکری قوت کو ریاستی برتری کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر آج دنیا بتدریج اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ مستقل اثر و رسوخ صرف وہی ریاست حاصل کر سکتی ہے جو تنازعات کے حل میں معاون ثابت ہو، جو پل تعمیر کرے، دیواریں نہیں؛ جو رابطے پیدا کرے، فاصلے نہیں۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اسی نئے تصور قوت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ روابط کی راہیں ہموار کرنا، مختلف سطحوں پر اعتماد سازی کے عمل کو زندہ رکھنا اور کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کرنا درحقیقت ایک ایسی ذمے داری ہے جس کے نتائج پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف لبنان کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہے۔

اسرائیلی حملوں، حزب اللہ کے ساتھ جاری محاذ آرائی اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت نے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر عدم استحکام کے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔ لبنان ایک ایسا معاشرہ ہے جو پہلے ہی معاشی بحران، سیاسی تقسیم اور سماجی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں مسلسل عسکری کارروائیاں نہ صرف اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کے مستقبل کو بھی تاریکی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے رابطہ اور بیروت میں ممکنہ کارروائی کو روکنے کی کوشش اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن بھی اس بحران کے ممکنہ نتائج سے پوری طرح آگاہ ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان ہمیشہ ایک وسیع فاصلہ موجود رہا ہے۔ ایک جانب جنگ بندی کے اعلانات ہوتے ہیں، دوسری جانب گولہ باری، فضائی حملے اور عسکری پیش قدمی جاری رہتی ہے۔ یہی تضاد عالمی سفارت کاری کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے اور متحارب فریقوں کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔

 نیتن یاہو کی جانب سے جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کے اعلانات دراصل اسی پیچیدہ حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اسرائیل اپنی سلامتی کے نام پر عسکری اقدامات کو ناگزیر قرار دیتا ہے، جب کہ لبنان اور خطے کی دیگر قوتیں انھیں جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ہر فریق اپنی کارروائی کو دفاع اور دوسرے کے عمل کو جارحیت قرار دینے لگے تو پھر امن کا راستہ مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بین الاقوامی اداروں اور ثالث ریاستوں کا کردار فیصلہ کن اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔

 لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار محض شماریاتی معلومات نہیں بلکہ انسانی المیوں کی ایک طویل داستان ہیں۔ ہزاروں جانوں کا ضیاع اور لاکھوں انسانوں کی بے یقینی اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کبھی بھی صرف فوجیوں کے درمیان نہیں ہوتی، اس کا سب سے بھاری بوجھ ہمیشہ عام شہریوں کے کندھوں پر آتا ہے۔ ایک ماں کی آغوش اجڑتی ہے، ایک بچے کا مستقبل تاریک ہوتا ہے، ایک خاندان اپنے سہارے سے محروم ہو جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ عالمی سیاست میں اکثر انسانی دکھ کو جغرافیائی مفادات کے شور میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

 ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو معطل کرنے کی اطلاعات اسی بگڑتی ہوئی صورتحال کا منطقی نتیجہ معلوم ہوتی ہیں، اگرچہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر مکمل وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم ایرانی قیادت کے بیانات واضح کرتے ہیں کہ لبنان میں جاری کارروائیاں اعتماد کے ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔

سفارت کاری کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مذاکرات طاقت کے استعمال کا متبادل ہوتے ہیں، لیکن جب میدانِ جنگ مسلسل گرم رہے تو مذاکراتی میز پر سنجیدہ پیش رفت تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ ایران کا یہ مؤقف کہ جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پر ہونا چاہیے، بین الاقوامی اصولوں کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتا ہے، اگر ایک معاہدہ صرف مخصوص علاقوں تک محدود رہے اور دوسرے مقامات پر عسکری کارروائیاں جاری رہیں تو اس کی حیثیت ایک عارضی سیاسی انتظام سے زیادہ نہیں رہتی۔ اس پورے بحران نے اقوام متحدہ کے کردار پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس، تشویش کے بیانات اور قراردادوں کے مسودے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی ادارے اکثر طاقتور ریاستوں کے سیاسی مفادات کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔

بین الاقوامی قانون کی بالادستی کا تصور اسی وقت معتبر رہ سکتا ہے جب اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو، اگر بعض ریاستوں کے لیے ایک معیار اور دوسروں کے لیے دوسرا معیار اختیار کیا جائے تو عالمی نظام کی اخلاقی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل میں اختیار کیا گیا مؤقف خاص اہمیت رکھتا ہے۔ لبنان کی صورتحال کو ایک انسانی بحران قرار دینا دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جنگوں کو محض عسکری زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انسانی جانوں کا تحفظ، بنیادی حقوق کی پاسداری اور شہری آبادی کا امن ہر قسم کی سیاسی مصلحت سے بالاتر ہونا چاہیے۔

پاکستان نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ یہی مؤقف آج خطے کی ضرورت بھی ہے اور عالمی امن کا تقاضا بھی۔ اس پوری صورتحال کو اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ مسلسل عسکری تصادم، انتقامی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی نفرت کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا راستہ مکالمے، مفاہمت اور سیاسی حل کی جانب لے جاتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جنگ کا راستہ ہمیشہ زیادہ شور پیدا کرتا ہے جب کہ امن کی کوششیں خاموشی سے آگے بڑھتی ہیں۔ میڈیا کی شہ سرخیوں میں بمباری کی آواز زیادہ سنائی دیتی ہے، مگر سفارت کاری کی خاموش محنت اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں بالآخر مذاکراتی میز پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ کوئی بھی تنازع مستقل طور پر بارود کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکا۔ انسانی تہذیب کی بقا، اقتصادی ترقی اور عالمی استحکام کا انحصار بالآخر مکالمے پر ہی ہوتا ہے۔ آج لبنان، ایران، امریکا اور اسرائیل کے گرد گھومتا بحران اسی ابدی حقیقت کی ایک نئی یاد دہانی ہے، اگر عالمی قیادت نے دانش کا راستہ اختیار کیا تو یہ خطہ ایک اور بڑے سانحے سے بچ سکتا ہے، لیکن اگر طاقت کے استعمال کو ہی واحد حل سمجھا گیا تو اس کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو عدم استحکام کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایسے میں پاکستان کی آواز، جو جنگ کے شور میں امن، مفاہمت اور مذاکرات کی بات کر رہی ہے، محض ایک سفارتی مؤقف نہیں بلکہ ایک اخلاقی ضرورت اور بین الاقوامی ذمے داری کی علامت بن چکی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو تباہی کے اندھیروں سے نکل کر امن، استحکام اور مشترکہ انسانی مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • گھر کے شیر باہر ڈھیر، ویمنز ٹیم ٹرائنگولر سیریز میں مشکلات کا شکار
  •   جی بی الیکشن: مسلم لیگ ن نے اسکردو سے بڑی کامیابی حاصل کر لی
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا نے پاکستان کو 41 رنز سے شکست دے دی
  • فیفا ورلڈ کپ 2026 نے تاریخ کے سب سے بڑے فٹبال ایونٹ کا اعزاز حاصل کر لیا
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا نے پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف دے دیا
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں