زراعت کا ڈیجیٹل سفر، جنگلات نظر انداز
اشاعت کی تاریخ: 15th, August 2025 GMT
زراعت فصلوں، مال مویشی اور جنگلات کا مجموعہ ہے، پاکستان نے حال ہی میں ایک ایسا سنگِ میل عبور کیا ہے جو مستقبل میں ملکی معیشت، خوراک کے تحفظ اور کسانوں کی فلاح میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتا ہے۔
وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے پہلی ڈیجیٹل زرعی مردم شماری کے نتائج جاری کرتے ہوئے اسے ’ڈیٹا پر مبنی زرعی انقلاب کا نقطۂ آغاز‘ قرار دیا۔
یہ دعویٰ محض رسمی جملہ نہیں، بلکہ اس کے پسِ منظر میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے حاصل ہونے والی وہ معلومات ہیں جو پالیسی سازی، سرمایہ کاری اور پیداوار میں نیا باب کھول سکتی ہیں۔
یہ زراعت شماری اپنے دائرۂ کار اور طریقۂ کار دونوں اعتبار سے ماضی کی شماریات سے مختلف ہے۔ 2010 میں زیرِ کاشت زمین کا رقبہ 4 کروڑ 26 لاکھ ایکڑ تھا، جو اب بڑھ کر 5 کروڑ 28 لاکھ ایکڑ ہو چکا ہے۔
لیکن اس خوش آئند اضافے کے ساتھ ایک توجہ طلب حقیقت یہ بھی سامنے آئی کہ اوسط زرعی رقبہ 6.
ڈیجیٹل زراعت شماری کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ ملک کے تمام صوبوں پہاڑی اور دور دراز علاقوں میں بیک وقت یہ عمل مکمل ہوا ہزاروں تربیت یافتہ اہلکاروں نے GPS سے لیس آلات کے ذریعے زمین کے استعمال آبپاشی، فصلوں، مویشیوں، زرعی مشینری اور کسانوں کی معاشی و سماجی صورت حال کا ڈیٹا جمع کیا۔
اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں مویشیوں کی آبادی 25 کروڑ 13 لاکھ تک پہنچ گئی ہے، جن میں گائے، بھینسیں، بکریاں، بھیڑیں، اونٹ اور گدھے شامل ہیں۔
فصلوں کے زیرِ کاشت رقبے کا تجزیہ صوبائی سطح پر پالیسی سازی میں مدد فراہم کر سکتا ہے، مثلاً پنجاب میں گندم کی کاشت 41.5 فیصد، جبکہ سندھ میں 40 فیصد ہے۔ یہ اعداد و شمار سبسڈی، قرضہ اسکیموں جدید بیجوں اور موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ فصلوں کے فروغ میں براہِ راست مددگار ثابت ہوں گے۔
ڈیجیٹل ڈیٹا پورٹل اس عمل کو مزید شفاف اور بروقت بنا دے گا، جہاں پالیسی ساز اور کاشتکار دونوں بر وقت معلومات تک رسائی حاصل کر سکیں گے، یہی وہ پہلو ہے جو روایتی زراعت شماری میں ہمیشہ کمزور رہا۔
روایتی زراعت شماری سے حکومت کو زمین کے استعمال فصلوں کی پیداوار کسانوں کی ضروریات اور وسائل کی تقسیم کے بارے میں عمومی نقشہ ملتا ہے، اس سے خوراک کے تحفظ سرمایہ کاری اور عالمی اداروں سے تکنیکی و مالی معاونت حاصل کرنے میں مدد ملتی ہے۔
ڈیجیٹل زراعت شماری نے اس عمل میں رفتار درستی اور بر وقت معلومات کا اضافہ کر دیا ہے۔ جی آئی ایس میپنگ مصنوعی ذہانت پر مبنی تجزیے اور کسانوں تک براہِ راست رسائی جیسے اقدامات پالیسی سازی کو نہ صرف تیز بلکہ ہدف کے عین مطابق بناتے ہیں۔
زراعت کا ایک اہم شعبہ ذیلی شعبہ جنگلات اس ڈیجیٹل شماریات میں عدم توجہ کا مظہر رہا، پاکستان میں جنگلات کا رقبہ عالمی معیار 25 فیصد کے مقابلے میں نہایت کم ہے۔ اقوام متحدہ کا کم از کم ہدف خشک/نیم خشک ممالک کے لیے 12 فیصد ہے، حالانکہ پاکستان ایسے ممالک میں شمار نہیں ہوتا مگر ہمارا موجودہ رقبہ اس حد سے بھی کم 4 سے 5 فیصد ہے۔
جنگلات صرف لکڑی یا ایندھن کا ذریعہ نہیں بلکہ یہ بارش کے نظام مٹی کے تحفظ آبی گزرگاہوں کے تحفظ اور فضا سے کاربن جذب کرنے میں بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
پاکستان جیسے موسمیاتی خطرات سے دوچار ملک میں جہاں گلیشیئر پگھلنے بارشوں کے رجحان میں تغیر اور سیلابوں کا خطرہ بڑھ رہا ہے، جنگلات کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ مزید یہ کہ لکڑی، شہد، جڑی بوٹیاں اور دیگر جنگلی مصنوعات دیہی معیشت کا حصہ ہوتی ہیں۔
جنگلات کے رقبے اقسام اور سالانہ کمی یا اضافے کا ڈیٹا ریموٹ سینسنگ ڈرون سرویلنس اور جی آئی ایس میپنگ کے ذریعے حاصل شدہ تفصیلات کو بھی حکومتی سطح پر نمایاں کرنا چاہیے، تاکہ ماحولیاتی تحفظ جنگلات کی کٹائی روکنے نئے جنگلات لگانے اور موسمیاتی تبدیلی کے خلاف مؤثر اقدامات کے لیے ٹھوس ڈیٹا دستیاب ہو۔
مزید یہ کہ گرین اکنامی عالمی کاربن کریڈٹ مارکیٹ میں تسلیم شدہ شمولیت ممکن ہو سکے، جس سے پاکستان کو قیمتی زرمبادلہ حاصل ہو سکتا ہے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: جنگلات ڈیجیٹل گرین اکانومی کے تحفظ
پڑھیں:
جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا ؛علیمہ خانم
سٹی 42: علیمہ خانم نے فیکٹری ناکہ پر میڈیا ٹاک کرتے ہوئے کہا آج بھی بانی سے ملاقات کے لئے آئے ہیں یہ ہمارا آئینی قانونی حق ہے
علیمہ خانم نے کہااگر آج ملاقات نہ ہوئی تو دیکھیں گے ،اگر بانی کے لئے کھڑے نہ ہوں تو کیا کریں آپکا خیال ہے یہاں کچھ قانون کی مطابق چل رہا ہے،کونسا قانون ہے۔ہم عدلیہ اور آزاد میڈیا کے لئے کھڑے ہیں۔ہم اپنے دفاع میں آپ لوگوں(میڈیا)کو پیش کریں گے۔انکو تو جیل میں ڈالنے کا بہانہ چاہیئے،کس کس کو ڈالیں گے جیل میں۔بانی کہہ چکے کہ پاکستان اسی طرف جا رہا ہے جس طرف نیپال،بنگلہ دیش اور سری لنکا گئے۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
بانی سے سابق آرمی چیف کی ملاقات کے بارے میں بیرسٹر گوہر سے پوچھا تھا ۔بانی سے ملنے کوئی نہیں گیا،یہ فیک ہے،جان بوجھ کر دیا انفارمیشن پھیلا رہے ہیں ۔
جب انکو لگتا ہے ٹمپریچر اوپر جا رہا ہے،اسکو ٹھنڈا کرنے کے لئے یہ باتیں شروع ہو جاتی ہیں ڈیل کی ۔میں نے بیرسٹر گوہر سے محسن نقوی کی ملاقات کا پوچھا تھا تو انھوں نے کہا تھا کہ ملے ہیں ۔
بیرسٹر گوہر ن نے کہا محسن نقوی کہتے ہیں کہ کل آپ کی ملاقات کروا دیتے ہیں ۔میں نے کہا وہ جھوٹ بولتے ہیں آپ ان کو کہیں کہ وہ بانی کو اسپتال میں علاج کروائیں۔بیرسٹر گوہر کو کہا تھا کہ آپ نے ملاقات کرنی ہوتو ہم سب کو بتا دو،اسی طرح ہونا چاہیئے ۔کچھ نہیں ہو رہا،اپکو نظر آرہا ہے کہ کچھ ہو رہا ہے ۔یہ خوف سے بھرے ہوئے ہیں،یہ خوف نظر نہیں آرہا،اج سڑک پر کرفیو لگا دیا ہے ۔وہ کہتے ہیں بشری بی بی کی بیٹی سے ملاقات کے بعد سوال میں پوچھنا ۔انکا مطلب یہ ہے کہ بانی کی صحت کے بارے میں نہیں پوچھنا ۔مجھے نہیں پتہ یہ ملاقاتیں کس مقصد کے لئے ہوتی ہیں۔ہمیں یہ پتہ ہے یہ ڈرے ہوئے ہیں،حکومت یہ چیزیں کرکے اپنا خوف دکھا رہی ہے ۔نئی سیاست بانی کو رہا کروانا ہے،جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
جب آپ ووٹ چوری کرو گے تو اسکے نتائج کیا ہوں گے؟جب وہ بے بسی محسوس کریں گے آپ جان جان کے جھوٹے الیکشن کروا گے،لاٹھی چارج کرو،یہ ڈرامہ کر رہے ہو،ظلم کر رہے ہیں۔آپ انکے امیدواروں کو مار رہے ہو یہ خوفزدہ لوگ کرتے ہیں ۔یہ پی ٹی آئی کا نہیں لوگوں کا حق ہے،آپ نے کسی کو گرفتار کرلیا،کسی کو جہاز نہیں چڑھنے دیا کیا فرق پڑا ۔ان کے پیچھے عوام نہ کھڑی ہو وہ یہی کرتے ہیں ۔ظلم وہ کرتا ہے جسکے ساتھ عوام نہیں ہوتی ۔وہ بانی کو کہہ رہے ہیں منہ بند رکھو،
نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ
ایران کو دیکھ لیں لیڈر قربانیاں دے رہے یہ انکے لئے نارمل چیز ہے ۔بانی اپنی جان کی قربانی دینے کو تیار ہے،وہ ان لوگوں کے ساتھ کیا ڈیل کرکے نکلے گا ۔ڈیل ایک ہی ہے آزاد عدلیہ،ازاد اور منصفانہ انتخابات ۔آپ عدلیہ ازاد کریں،ازاد منصوبہ انتخابات کون یقینی بناتا ہے آزاد عدلیہ۔
افغانستان اور پاکستان کے دونوں اطراف رشتے دار ہیں ،بانی کہتے ہیں یہ حکومت انکے فیور میں ہے،یہ جان جان کر اس حکومت سے چھیڑا چھاڑی کررہے ہیں ۔اپنے ہمسائے کے ساتھ بہت اچھا بنا کر رکھنی چاہیئے۔
آزاد کشمیر:تعلیمی اداروں میں گرمیوں کی چھٹیوں کا اعلان
افغانستان اپنی زاد خارجہ پالیسی کے تحت روس،چین کے ساتھ معاہدے کرکے ملک کر ترقی کی جانب لیکر جا رہے ہیں ۔آپ نے بارڈر اور ایکسپورٹ بند کرکے ملک بلین ڈالرز کا نقصان کردیا۔ ہم انکے ساتھ ایکسپورٹ بند کریں گے وہ ایران سے لے لیں گے،ایران کی ایکسپورٹ بڑھ جائے گی ۔وہ پارٹیاں نہیں لوٹ مار کی کمپنیاں ہیں،
ہم بھائی کے لئے کھڑے ہیں ہر چیز کریں گے ۔اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کو بانی سے سلیکٹ کیا،کہ وہ میچور سیاستدان ہیں ۔سیدھی سے بات ہے جو انکا قانونی حق ہے وہ دے دیں ۔ بانی کو بھی پتہ ہے ان پر پریشر ڈالیں گے تو میز پر بیٹھیں گے
لاہور بورڈ کا بڑا فیصلہ، داخلہ فارم مکمل طور پر آن لائن کرنے کی تجویز