خیبرپختونخواہ میں بارشوں اور سیلابی ریلوں نے قیامت برپا کردی، مختلف واقعات میں 146 افراد جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 15th, August 2025 GMT
پشاور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 اگست2025ء) خیبرپختونخواہ میں طوفانی بارشوں اور تباہ کن سیلاب نے زندگی کا پہیہ مفلوج کر دیا۔ صوبے کے مختلف اضلاع میں کئی روز سے جاری موسلا دھار بارش کے نتیجے میں ندی نالوں میں طغیانی آگئی، جس سے شدید آبی ریلے آبادیوں میں داخل ہو گئے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق آسمانی بجلی گرنے، مکانات گرنے اور سیلابی پانی میں بہہ جانے کے مختلف واقعات میں 146 افراد جاں بحق جبکہ درجنوں لاپتہ ہوگئے ہیں۔
متعدد زخمیوں کو اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے جہاں کئی کی حالت تشویشناک ہے۔ سیلابی ریلوں نے سینکڑوں گھروں، دکانوں اور کھیتوں کو تباہ کر دیا جبکہ سڑکیں، پل اور دیگر بنیادی ڈھانچہ بری طرح متاثر ہوا ہے۔ ریسکیو ٹیمیں پاک فوج اور مقامی رضاکاروں کے ساتھ مل کر امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں، تاہم خراب موسم اور ٹوٹے ہوئے رابطہ نظام کے باعث ریسکیو آپریشن میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔(جاری ہے)
متاثرہ علاقوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ خیبرپختونخوا کے ضلع بونیر میں طوفانی بارشوں اور سیلابی صورتحال کے باعث جاں بحق افراد کی تعداد 78 ہوگئی۔ ڈی سی بونیر کاشف قیوم کا کہنا ہے کہ ضلع بونیرمیں طوفانی بارشوں سے سیلابی ریلوں کے باعث حادثات میں 78 افرادجان سے گئے، جاں بحق افراد میں سے 56 کی لاشیں نکال لیں۔ کاشف قیوم کا کہنا ہے کہ صورتحال انتہائی خراب،اموات بڑھنےکا خدشہ ہے، پہاڑی علاقوں میں زیادہ نقصان ہوا، ہیلی کاپٹر کی مدد سے پھنسے افراد کو نکال رہے ہیں۔ دوسری جانب چیئرمین تحریک انصاف بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ بونیرمیں سیلاب نے78 افراد کی جانیں لےلیں، تحصیل ڈگر، گدیزئی اور گاگرہ میں نقصانات زیادہ ہیں، کےپی حکومت کےہیلی کاپٹر امدادی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے
پڑھیں:
خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں ہونے والی بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 5 روز کے دوران 22 شہری جاں بحق جبکہ 23 زخمی ہوگئے۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اعلامیے کے مطابق زخمیں میں 11 مرد، 5 خواتین 7 بچے شامل ہیں جبکہ تیز بارشوں اور فلش فلڈ کے باعث مجموعی طور پر 37 گھروں کو نقصان پہنچا جس میں 29 گھروں کو جزوی جبکہ 8 گھر مکمل منہدم ہوگئے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق حادثات پشاور، نوشہرہ، خیبر، مردان , بونیر، باجوڑ، شانگلہ، صوابی، چترال لوئر، دیر لوئر اور اپر، ایبٹ آباد، مانسہرہ،ہری پور، ٹانک، تور غر اور کرم اور شمالی و جنوبی وزیرستان میں پیش آئے۔
اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداراے آپس میں رابطے میں اور امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ متاثرین میں جلد امدادی سامان تقسیم کردے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے نے ضلعی انتظامیہ کو امدادی سرگرمیاں تیز کرنے اور متاثرین کو فوری معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی اور بتایا کہ صوبہ کے تمام دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح اور بہاو معمول کے مطابق ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق تیز بارشوں کا یہ سلسلہ آج تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔ پی ڈی ایم اے نے عوام سے اپیل کی کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور حساس سیاحتی مقامات کا رخ نہ کریں جبکہ حکومتی اداروں کی جانب سے الرٹس/ اور ایڈوائزری پر عمل کریں۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے، عوام کسی بھی نا خوشگوار واقعے کی اطلاع ، موسمی صورتحال سے آگائی اور معلومات کے لیے فری ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کریں۔