اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) خیبرپختونخوا میں بارش اور سیلاب سے ہونے والی تباہی کے پیش نظر وزیراعظم ہاؤس میں خصوصی سیل قائم کردیا گیا ہے اور وزیراعظم شہباز شریف نے کے پی اور آزاد کشمیر سمیت بارش سے متاثرہ علاقوں میں فوری اور بھرپور امدادی کارروائی کی ہدایت کردی ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات عطا اللہ تارڑ نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے این ڈی ایم اے کو آزاد جموں و کشمیر اور خیبر پختونخوا میں سیلاب اور بارشوں سے متاثرہ علاقوں میں بھرپور امدادی کارروائیاں کرنے کی ہدایت کی ہے۔وزیراعظم شہباز شریف سیلابی صورت حال سے مکمل طور پر آگاہ ہیں اور امدادی کارروائیوں کے لیے ہدایات جاری کر رہے ہیں اور انہوں نے چیئرمین ایم ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر کو خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر کی حکومتوں سے مسلسل رابطہ رکھنے اور امدادی سرگرمیوں کو تیز کرنے کی ہدایت کی ہے۔

امریکی ٹیرف کے جواب میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا خود انحصاری کا عزم

وزیر اطلاعات نے کہا کہ وزیراعظم ہاؤس میں ایک خصوصی سیل بھی قائم کیا گیا ہے جو این ڈی ایم اے سے 24 گھنٹے رابطے میں ہے۔حالیہ بارشوں اور سیلابی صورت حال کے دوران وزیراعظم نے تین مرتبہ این ڈی ایم اے کا دورہ کر کے ذاتی طور پر ریسکیو اور ریلیف اقدامات کا جائزہ لیا، حکومت کا فوکس ریلیف اور ریسکیو اقدامات پر ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں جاری ریسکیو اور ریلیف آپریشن میں تمام ادارے وسائل بروئے کار لا رہے ہیں، خیبر پختونخوا میں انسانی جانوں کو محفوظ بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں، این ڈی ایم اے کے پیشگی آگاہی نظام سے خیبر پختونخوا سمیت تمام صوبائی حکومتوں کو باقاعدگی سے آگاہی فراہم کی جا رہی ہے۔

کراچی میں لڑکی کے اغوا، گینگ ریپ اور بلیک میلنگ کے مجرم کو 50 سال قید 16 لاکھ روپے جرمانہ

عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ این ڈی ایم اے کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر 24 گھنٹے فعال ہے اور صورت حال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے۔

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: خیبر پختونخوا ڈی ایم اے پختونخوا میں کی ہدایت

پڑھیں:

کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔

اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔ 

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔ 

خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔ 

خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔  

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن