وادی نیلم: سیلابی ریلوں میں 6 رابطہ پل بہہ گئے، 400 سے زائد مکانات کو نقصان پہنچا
اشاعت کی تاریخ: 15th, August 2025 GMT
فوٹو: اے ایف پی
آزاد کشمیر کی وادی نیلم میں سیلابی ریلے دریا پر بنے 6 رابطہ پل بہا لے گئے، مختلف حادثات میں 11 افراد جاں بحق ہوگئے۔
کلاؤڈ برسٹ اور سیلابی ریلوں سے 400 سے زیادہ مکانات کو نقصان پہنچا، 100 سے زائد مکان مکمل تباہ ہوگئے، رتی گلی جانے والی سڑک مختلف مقامات پر بہنے سے بیس کیمپ میں پھنسے 800 سیاحوں کو ریسکیو کرلیا گیا۔
ڈپٹی کمشنر بونیر کا کہنا ہے کہ ہیلی کاپٹر کی مدد سے سیلاب میں پھنسے افراد کو نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
لینڈ سلائیڈنگ کے باعث کشمیر کو راولپنڈی سے ملانے والی شاہراہ کوہالہ اور شاہراہ نیلم بھی متعدد مقامات پر بند ہے۔
سری نگر مظفرآباد سیکشن متعدد مقامات اور لیپہ مظفرآباد شاہراہ مٹی کی تودے گرنے سے بند ہوگئی۔
دوسری جانب وزیرِ اعظم شہباز شریف نے سیلابی صورتحال پر ہنگامی اجلاس طلب کرکے ریسکیو اور ریلیف آپریشن میں تعاون فراہم کرنے اور تمام وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت کی۔
وزیرِ اعظم نے چیئرمین این ڈی ایم اے کو خیبر پختونخوا حکومت سے امدادی سرگرمیوں کیلئے رابطے مربوط کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت کو خیمے، ادویات، اشیاء خورونوش اور دیگر امدادی سامان فوری پہنچایا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
جےیوآئی کے سینئررہنما حافظ حمداللہ لاپتہ ہوگئے
کوئٹہ(نیوز ڈیسک) جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے مرکزی رہنما حافظ حمداللہ سے کئی گھنٹوں تک رابطہ نہ ہونے کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد سیاسی حلقوں اور پارٹی کارکنوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔
تفصیلات کے مطابق حافظ حمداللہ کے صاحبزادے حافظ خلیل نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے والد کا موبائل فون بند آ رہا ہے اور ان کے ساتھ موجود ساتھیوں سے بھی رابطہ نہیں ہو پا رہا۔
انہوں نے کہا کہ حافظ حمداللہ آج بلوچستان کے علاقے سنجاوی میں ایک پروگرام میں شرکت کیلئے گئے تھے، تاہم چند گھنٹوں سے ان سے کوئی رابطہ قائم نہیں ہو سکا جس کے باعث اہل خانہ اور پارٹی رہنماؤں میں تشویش پیدا ہوئی۔
دوسری جانب جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری نے صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے ڈپٹی کمشنر زیارت سے رابطہ کیا۔
پارٹی ذرائع کے مطابق ڈپٹی کمشنر زیارت نے مولانا عبدالغفور حیدری کو آگاہ کیا کہ حافظ حمداللہ محفوظ مقام پر موجود ہیں اور ان کی خیریت سے متعلق کوئی تشویش کی بات نہیں۔
واقعے کی اطلاع سامنے آنے کے بعد جے یو آئی کے کارکنوں اور رہنماؤں کی جانب سے حافظ حمداللہ کی جلد از جلد عوامی سطح پر موجودگی اور رابطے کی بحالی کی خواہش کا اظہار کیا گیا ہے۔
پارٹی حلقوں کا کہنا ہے کہ رابطہ منقطع ہونے کی وجہ سے مختلف قیاس آرائیاں جنم لے رہی تھیں، تاہم انتظامیہ کے بیان کے بعد صورتحال کسی حد تک واضح ہو گئی ہے۔
مزید تفصیلات اور سرکاری وضاحت سامنے آنے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں۔بجلی صارفین متوجہ ہوں،اہم اعلان سامنے آگیا