گلگت اور آزاد کشمیر میں شدید بارش اور گلیشیئر پھٹنے سے تباہی، 17 افراد جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 15th, August 2025 GMT
ویب ڈیسک: گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں شدید بارش اور گلیشیئر پھٹنے سے مختلف علاقوں میں تباہی مچ گئی، ندی نالوں میں طغیانی، سیلابی ریلے اور رابطہ سڑکوں کی بندش نے نظامِ زندگی مفلوج کر دیا، حادثات میں 17 افراد جاں بحق ہوگئے۔
گلگت بلتستان کے ضلع غذر کی تحصیل گوپس کے گاؤں خلتی میں 8 افراد سیلاب کی زد میں آگئے، دیامر میں دو افراد ریلوں میں بہہ گئے، ہنزہ، نگر اور سکردو میں متعدد افراد لاپتہ ہوگئے، درجنوں گھر، سرکاری عمارتیں، پل اور شاہراہیں تباہ ہوئیں، کھڑی فصلیں اور درخت ریلے میں بہہ گئے۔
جشن آزادی:پنجاب کے 41 اضلاع میں بیک وقت آتشبازی
شاہراہ قراقرم، شاہراہ بابو سر اور گلگت سکردو شاہراہ پر کئی رابطہ سڑکیں بند ہوگئیں۔
اس کے علاوہ آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد کی تحصیل نصیر آباد میں بادل پھٹنے سے ایک ہی خاندان کے 6 افراد سمیت 7 افراد جاں بحق ہوگئے، آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں موسلا دھار بارشوں اور فلیش فلڈنگ سے ندی نالوں میں طغیانی آگئی۔
وادی نیلم میں بھی لینڈ سلائیڈنگ سے پل اور سڑکیں تباہ ہوگئیں، رتی گلی میں سیکڑوں سیاح پھنس گئے، 100 کو بچا لیا گیا، دیگر کو ریسکیو کرنے کیلئے آپریشن جاری ہے۔
پنجاب میں جشنِ آزادی پر 41 اضلاع میں بیک وقت آتشبازی
دوسری جانب آزاد کشمیر میں شدید بارشوں کے پیش نظر وزیراعظم چودھری انوارالحق کی زیر صدارت ہنگامی اجلاس ہوا جس میں دریاؤں کے قریب آبادی کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
محکمہ موسمیات نے آئندہ چند روز کے دوران مزید بارشوں کی پیش گوئی کی ہے، جبکہ ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو ادارے ہنگامی بنیادوں پر امدادی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔