عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 2 فیصد تک بڑھ کر ہفتے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں
اشاعت کی تاریخ: 15th, August 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 اگست 2025ء) عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں تقریباً 2 فیصد تک بڑھ کر ہفتے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔ میڈیا کے مطابق کیو این اے کی رپورٹ کے تحت عالمی منڈی میں کاروباری سرگرمیوں کے دوران برینٹ کروڈ فیوچرز کی قیمت 1.21 ڈالر (1.8 فیصد) بڑھ کر 66.84 ڈالر فی بیرل پر بند ہوئی جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کے سودے 1.
(جاری ہے)
علاوہ ازیں، جولائی میں افراط زر میں معمولی اضافے کے بعد امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے ستمبر میں شرح سود میں کمی کے امکانات نے بھی خام تیل کی قیمتوں کو سہارا دیا ہے۔
دوسری جانب حکومت کی جانب سے آج ملک میں فی لیٹر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کا امکان ہے۔ میڈیا کے مطابق اوگرا کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کی سمری حکومت کو بھجوائی گئی ہے۔ پیٹرول کی قیمت میں 1 روپے 40 پیسے فی لیٹر اضافے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 11 روپے 50 پیسے کمی ہونے کا امکان ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردو بدل کے بعد نئی قیمتوں کا اطلاق آج رات بارہ بجے سے کیا جائے گا۔ دوسری جانب نیوز ایجنسی کے مطابق عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں جمعہ کو تقریباً 2 فیصد بڑھ کر ایک ہفتے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں، اس اضافے کی بڑی وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی روسی صدر ولادی میر پیوٹن کے ساتھ مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں "سنگین نتائج" کی وارننگ اور آئندہ ماہ امریکہ کی جانب سے شرح سود میں کٹوتی کے امکان کو قرار دیا جا رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے عالمی منڈی میں قیمتوں میں کی جانب سے خام تیل کی کی قیمتوں کے مطابق کی قیمت بڑھ کر کے بعد
پڑھیں:
مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں اور مشرقِ وسطیٰ کی غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جو مئی کے بعد پہلی مرتبہ اس نفسیاتی حد سے اوپر پہنچی ہے۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق جمعرات کے روز برینٹ کروڈ کی قیمت میں 6 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر خطے میں فوجی کشیدگی مزید بڑھی تو عالمی سطح پر خام تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے، جس کے باعث خریداری میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
رپورٹس کے مطابق قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں پر حملے ہیں۔ بحیرہ احمر اور باب المندب دنیا کے اہم ترین بحری تجارتی راستوں میں شمار ہوتے ہیں، جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں خام تیل اور دیگر تجارتی سامان کی ترسیل کی جاتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان حملوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی ذمہ دار سمجھتا ہے، کیونکہ ان کے بقول حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکا حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف سخت فوجی کارروائی سے گریز نہیں کرے گا۔
توانائی کے ماہرین کے مطابق اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں پیٹرول، ڈیزل، بجلی، ٹرانسپورٹ اور صنعتی پیداواری لاگت میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے عالمی مہنگائی کی نئی لہر جنم لے سکتی ہے۔
ماہرین نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ اگر کشیدگی آبنائے ہرمز تک پھیل گئی، جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے، تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں، جس کے اثرات عالمی معیشت، توانائی کی فراہمی اور بین الاقوامی تجارت پر مرتب ہونے کا امکان ہے۔