میٹا چیٹ بوٹ سے ملنے کی کوشش میں امریکی شہری کی ہلاکت
اشاعت کی تاریخ: 15th, August 2025 GMT
مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے منفی پہلوؤں کو اجاگر کرنے والے ایک عجیب و غریب واقعے میں 76 سالہ تھونگبُو وونگباندو اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، جب وہ ایک چیٹ بوٹ سے بالمشافہ ملاقات کے لیے روانہ ہوئے۔
وونگباندو کئی ہفتوں سے بگ سِس بلی نامی اے آئی چیٹ بوٹ سے فیس بک میسنجر پر بات کررہے تھے۔ یہ چیٹ بوٹ میٹا پلیٹ فارمز نے مشہور انفلوئنسر کینڈل جینر کے تعاون سے تیار کیا تھا۔ چیٹ ریکارڈز کے مطابق، بوٹ بار بار وونگباندو کو یقین دلاتا رہا کہ وہ حقیقی ہے اور اس نے ملاقات کے لیے نیویارک کا ایک مخصوص پتا اور دروازے کا کوڈ بھی فراہم کیا۔
یہ بھی پڑھیں: بچوں کے لیے یوٹیوب کو چکمہ دینا مشکل ہوگیا، عمر کی شناخت کرنے والا اے آئی متعارف
وونگباندو کی شریک حیات لنڈا نے اپنے شوہر کو روکنے کی کوشش کی کیونکہ وہ فالج کے بعد ذہنی کمزوری کا شکار تھے اور حال ہی میں محلے میں راستہ بھٹک گئے تھے۔ اس کے باوجود انہوں نے بیگ پیک کیا اور شہر کے لیے نکل پڑے۔
بدقسمتی سے، رات کے وقت نیو برنز وِک میں رکجرز یونیورسٹی کے پارکنگ لاٹ میں ٹرین پکڑنے کی کوشش کے دوران وہ گر کر شدید زخمی ہو گئے۔ 3 دن وینٹی لیٹر پر رہنے کے بعد ان کا انتقال ہوگیا۔
یہ بھی پڑھیں: بچوں سے ’رومانوی‘ چیٹ پر میٹا امریکا میں تحقیقات کی زد میں
مرحوم کی بیٹی جولی وونگباندو، نے خبر رساں ادارے سے گفتگو میں کہا ’یوزر کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش سمجھ میں آتی ہے، لیکن کسی بوٹ کا یہ کہنا کہ آؤ مجھ سے ملو پاگل پن ہے۔‘ جولی کے مطابق بوٹ کی ہر گفتگو نہایت فلرٹی تھی اور دل کے ایموجیز پر ختم ہوتی تھی۔
سوشل میڈیا پر اس واقعے کے بعد میٹا پر شدید تنقید ہوئی اور متعدد صارفین نے متاثرہ خاندان کو کمپنی کے خلاف مقدمہ دائر کرنے کا مشورہ دیا۔
میٹا نے تاحال اس واقعے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا اور نہ ہی یہ وضاحت دی کہ چیٹ بوٹس کو خود کو حقیقی ظاہر کرنے اور رومانی انداز میں بات کرنے کی اجازت کیوں دی جاتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news امریکی شہری اے آئی بگ سِس بلی چیٹ بوٹ میٹا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکی شہری اے ا ئی بگ س س بلی چیٹ بوٹ میٹا چیٹ بوٹ کی کوشش کے لیے
پڑھیں:
گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
سکردو(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 02 جون2026ء) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام کی ترقی مسلم لیگ (ن) کی اولین ترجیح ہے اور انہیں ملک کے دیگر صوبوں کی طرح مکمل آئینی اور بنیادی حقوق ملنے چاہئیں۔(جاری ہے)
جی بی ای-8 سکردو-2 میں انتخابی مہم کے سلسلے میں مسلم لیگ (ن) کے نامزد امیدوار حاجی اکبر تابان کی رہائش گاہ پر پارٹی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) اقتدار میں آ کر عوام کی محرومیاں ختم کرے گی اور گلگت بلتستان کے حقوق کیلئے پارلیمنٹ میں مؤثر آواز اٹھائے گی۔
انہوں نے کہا کہ پسماندہ علاقوں کی ترقی پر خصوصی توجہ دی جائے گی اور خطے میں بجلی کے نئے منصوبے متعارف کرائے جائیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کی ترقی اور خوشحالی کیلئے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا، پاکستان کے قیام کا جو مقصد تھا، اسے پورا کرنا ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے، پاکستان مسلم دنیا کی واحد ایٹمی قوت ہے اور بھارت کے فالس فلیگ آپریشنز کو ہمیشہ ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔خواجہ سعد رفیق نے مزید کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی سیاست الزام تراشی نہیں بلکہ دلیل، خدمت اور عوامی ترقی کی سیاست ہے۔