اربعین، دراصل پیغام عاشورہ، فتحِ زینبی اور انقلابِ حسینی کی تکمیل ہے، علامہ مقصود ڈومکی
اشاعت کی تاریخ: 15th, August 2025 GMT
مجلس عزا سے خطاب میں ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی رہنما نے کہا کہ اربعین ظلم کے خلاف اُٹھنے کا نام ہے، بکھری ہوئی قوم کو دوبارہ منظم کرنے کا نام ہے اور دشمن کو مایوس کرنے اور دوست کو امید دلانے کا پیغام ہے، اربعین صرف ایک مذہبی رسم نہیں بلکہ عالمی سطح پر بے مثال اجتماع ہے جو حسینی شعائر کی سب سے بڑی علامت ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی رہنما علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ "چہلم" قرآن و سنت کی ایک معروف اصطلاح ہے، اربعین ایک قرآنی حقیقت ہے جس کا ذکر انبیاء علیہم السلام کے واقعات میں مسلسل ملتا ہے۔ گوٹھ بنگل خان چانڈیو میں سالانہ مجلسِ عزا سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اربعین، پیغام عاشورہ و کربلا کی تکمیل ہے، فتحِ زینبی اور انقلابِ حسینی کی تکمیل ہے، اربعین ظلم کے خلاف اُٹھنے کا نام ہے، بکھری ہوئی قوم کو دوبارہ منظم کرنے کا نام ہے اور دشمن کو مایوس کرنے اور دوست کو امید دلانے کا پیغام ہے۔ علامہ ڈومکی نے کہا کہ اربعین صرف ایک مذہبی رسم نہیں بلکہ عالمی سطح پر بے مثال اجتماع ہے جو حسینی شعائر کی سب سے بڑی علامت ہے، یہ یزیدی قوتوں کے منہ پر تھپڑ اور حسینی کارواں کے لیے حوصلے کی تھپکی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اربعین دراصل حق و باطل کے درمیان خطِ فاصل ہے اور اس نے ثابت کیا کہ امتِ مسلمہ کی واضح اکثریت حسینی ہے جبکہ یزیدی ایک ناقابلِ اعتناء اقلیت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اربعین کے موقع پر آل رسول ﷺ شام کی قید سے رہا ہو کر کربلا پہنچے، اربعین سید الساجدین زین العابدین اور حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا کی سنت ہے، صحابیٔ رسول حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ اپنے شاگرد عطیہ عوفی کے ساتھ امام حسین علیہ السلام کا چہلم منانے کے لیے کربلا پہنچے، جو پیادہ روی اور زیارتِ اربعین کی سنت کی بنیاد ہے، آج دنیا کے کروڑوں انسان ہر نسل، رنگ اور مذہب سے بالاتر ہو کر عشقِ خدا میں سرشار کربلا کی طرف رواں دواں ہیں، کیونکہ کربلا اب عالمِ بشریت کا قبلہ بن چکی ہے۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے مزید کہا کہ جیسے دنیا میں صحت واک، امن واک، اور مختلف مقاصد کے لیے پیدل مارچ ہوتے ہیں، ویسے ہی اربعین واک مظلوم کی حمایت، ظالم کی مخالفت، اور اہل بیتؑ رسول کی محبت کا سب سے پرانا اور باوقار طریقہ ہے، یہ کوئی نیا رجحان نہیں بلکہ 1400 سال پرانی سنتِ ہے، جسے ہمیشہ زندہ، منظم، باوقار اور پرجوش رکھنا چاہیئے، پنجاب حکومت کی جانب سے چہلم شہدائے کربلا کے موقع پر ناجائز پابندیوں کے خاتمے کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت عزاداروں کے خلاف درج تمام مقدمات ختم کرے اور عزاداروں کو مکمل تعاون فراہم کرے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کہ اربعین نے کہا کہ کا نام ہے
پڑھیں:
’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
معروف بھارتی گلوکار سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے میڈیا نمائندوں سے کہا کہ اس معاملے پر ان سے مزید سوال نہ کیے جائیں۔
سونو نگم سے ایک حالیہ میڈیا گفتگو کے دوران مبینہ نیٹ پرچہ لیک اور تعلیمی اصلاحات کے مطالبے پر جاری احتجاج کے حوالے سے سوال کیا گیا، تاہم انہوں نے اس موضوع پر اپنی رائے دینے سے گریز کیا۔
رپورٹرز کی جانب سے مسلسل سوالات کیے جانے پر سونو نگم نے واضح کیا کہ وہ اس معاملے پر بات نہیں کرنا چاہتے۔ بار بار سوالات کیے جانے پر وہ کچھ برہم دکھائی دیے اور مختصراً کہا، ’’ابھی ہو گیا، بس۔‘‘ اس جملے کے ذریعے انہوں نے اشارہ دیا کہ وہ اس موضوع پر مزید گفتگو نہیں کرنا چاہتے۔
رپورٹس کے مطابق، یہ میڈیا گفتگو کہاں اور کس موقع پر ہوئی، اس حوالے سے کوئی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
View this post on Instagram
نیٹ احتجاج پر متعدد شوبز شخصیات کا ردِعمل
سونو نگم کی خاموشی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بھارتی فلم انڈسٹری کی کئی معروف شخصیات نیٹ احتجاج پر اپنے خیالات کا اظہار کر رہی ہیں۔
اداکار سلمان خان، عالیہ بھٹ، دُلکر سلمان، وجے ورما، نصیرالدین شاہ، انوپم کھیر، ہیما مالنی، پریتی زنٹا اور عمران خان سمیت متعدد فنکار اس معاملے پر مختلف رائے کا اظہار کر چکے ہیں۔ بعض نے طلبہ کی حمایت کرتے ہوئے مذاکرات اور تعلیمی اصلاحات کا مطالبہ کیا جبکہ دیگر نے مختلف مؤقف اختیار کیا۔
واضح رہے کہ نیٹ امتحان میں مبینہ پرچہ لیک کے بعد ملک بھر میں طلبہ کی جانب سے احتجاج جاری ہے۔ مظاہرین امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی اور احتساب کا مطالبہ کر رہے ہیں۔