لاہور، چہلم امام حسینؑ کا مرکزی جلوس کربلا گامے شاہ پہنچ کر اختتام پذیر
اشاعت کی تاریخ: 16th, August 2025 GMT
مرکزی جلوس اندرون شہر حویلی الف شاہ سے برآمد ہوا۔ جو مقررہ راستوں سے ہوتا بھاٹی چوک پہنچا، جہاں سے کربلا گامے شاہ پہنچ کر اختتام پذیر ہوگیا۔ جلوس کے شرکاء نے علامہ سید جواد موسوی کی اقتداء میں مسجد کشمیریاں چوک میں نماز ظہرین ادا کی۔ جلوس کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ عزاداری جلوسوں اور مجالس کی سکیورٹی کیلئے پنجاب پولیس ہائی الرٹ رہی۔ اسلام ٹائمز۔ لاہور میں چہلم حضرت امام حسین علیہ السلام کا جلوس کربلا گامے شاہ پہنچ کر اختتام پذیر ہوگیا۔ مرکزی جلوس اندرون شہر حویلی الف شاہ سے برآمد ہوا۔ جو مقررہ راستوں سے ہوتا بھاٹی چوک پہنچا، جہاں سے کربلا گامے شاہ پہنچ کر اختتام پذیر ہوگیا۔ جلوس کے شرکاء نے علامہ سید جواد موسوی کی اقتداء میں مسجد کشمیریاں چوک میں نماز ظہرین ادا کی۔ جلوس کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ عزاداری جلوسوں اور مجالس کی سکیورٹی کیلئے پنجاب پولیس ہائی الرٹ رہی۔ آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے کہا کہ پولیس اہلکاروں نے چہلم حضرت امام حسین علیہ السلام کے مقدس پروگراموں کا پرامن اور محفوظ انعقاد یقینی بنایا، تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد مذہبی ہم آہنگی، بین المسالک اتحاد اور رواداری کو فروغ دیا۔ انہوں نے کہا کہ مجالس، عزاداری جلوسوں، عرس تقریبات کو بھرپور سکیورٹی انتظامات فراہم کی گئی، چہلم حضرت امام حسین علیہ السلام کے موقع پر 644 مجالس منعقد، 392 عزاداری جلوس برآمد ہوئے جن کیلئے 37 ہزار سے زائد پولیس افسران اور اہلکار سکیورٹی پر تعینات تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: عزاداری جلوس جلوس کے
پڑھیں:
نمائندہ یورپی یونین کایا کالاس وفد کے ہمراہ پاکستان پہنچ گئیں
یورپی یونین کی نمائندہ کایا کالاس—فائل فوٹویورپی یونین کی نمائندہ کایا کالاس وفد کے ہمراہ پاکستان پہنچ گئیں۔
یورپی یونین کا وفد پاکستان میں وزیرِ اعظم شہباز شریف اور نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار سمیت اعلیٰ حکومتی عہدیداران سے ملاقات کرے گا۔
کایا کالاس نے پاکستان پہنچنے کے بعد اسلام آباد سے ایک انسٹا اسٹوری شیئر کی ہے۔
انہوں نے اپنی انسٹا اسٹوری میں لکھا ہے کہ میں آج اسلام آباد میں ہوں۔
یورپی یونین کی نمائندہ نے مزید لکھا ہے کہ پاکستان ایک بڑی علاقائی طاقت ہے اور یورپی یونین کے لیے ایک اہم شراکت دار ہے۔
انہوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ یہ دورہ ایک ایسے اہم موقع پر ہوا ہے جب دنیا اور اس خطے نے گہری تبدیلیوں کا تجربہ کیا ہے۔