پیوٹن کے سامنے امریکی طاقت کا مظاہرہ، ویڈیو وائرل
اشاعت کی تاریخ: 16th, August 2025 GMT
الاسکا(انٹرنیشنل ڈیسک) الاسکا میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی ملاقات کے دوران امریکی بی-2 اسٹیلتھ بمبار اور فائٹر جیٹس آسمان پر نمودار ہوئے۔
Trump just flew a B-2 stealth bomber over Putin’s head…
Absolutely incredible. pic.twitter.com/2bsnssRv9f
— Geiger Capital (@Geiger_Capital) August 15, 2025
22 سیکنڈ کی وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ دونوں صدور ریڈ کارپٹ پر چل رہے تھے کہ اچانک بمبار طیارہ اوپر سے گزر گیا، جس پر پوٹن نے آسمان کی طرف دیکھا۔
اس مظاہرے کو امریکی فوجی طاقت کا واضح پیغام قرار دیا جا رہا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب یوکرین جنگ پر دونوں رہنماؤں کی اہم ملاقات جاری تھی۔
پیوٹن کے استقبال میں امریکی فوجی گھٹنے ٹیک گئے
الاسکا ایئر بیس پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے استقبال کے لیے ریڈ کارپٹ بچھایا۔ سوشل میڈیا پر وائرل تصویر میں امریکی فوجی گھٹنوں کے بل بیٹھے کارپٹ سیدھا کرتے دکھائی دیے۔
Why was Trump clapping for Putin? pic.
— Pekka Kallioniemi (@P_Kallioniemi) August 15, 2025
یوکرینی عہدیدار مصطفی نایئم نے طنزیہ تبصرہ کیا: ’Make kneeling great again.‘
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔