بھارت کی جانب سے چھوڑا گیا بڑا سیلابی ریلہ پاکستانی حدود میں داخل
اشاعت کی تاریخ: 16th, August 2025 GMT
بہاولنگر(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔16 اگست ۔2025 ) بھارت کی جانب سے دریائے ستلج میں پانی چھوڑنے سے ضلع بہاولنگر میں نچلے درجے کے سیلاب کے باعث دریائی بیلٹ میں فصلیں، ڈیرے زیرآب آگئے تفصیلات کے مطابق بھارت کی جانب سے چھوڑا گیا بڑا سیلابی ریلہ پاکستانی حدود میں داخل ہوگیا، جس کے باعث دریائے ستلج میں نچلے درجے کا سیلاب آ گیا ہے اور گنڈا سنگھ والا کے مقام پر پانی کا اخراج 70 ہزار کیوسک تک پہنچ گیا.
(جاری ہے)
سیلابی ریلے سے قصور کی سیکڑوں ایکڑ فصلیں زیرآب آگئیں جبکہ درجنوں آبادیاں متاثر ہوئیں اور مقامی آبادی کی نقل مکانی جاری ہے ضلعی انتظامیہ نے دفعہ 144 نافذ کرکے وارننگ جاری کردی ہے اور دریائی بیلٹ سے لوگوں کو فوری انخلا کی ہدایت کی گئی ہے. ریسکیو 1122 نے متاثرہ علاقوں میں بوٹ سروس شروع کر دی ہے جبکہ متاثرہ خاندانوں کو دو وقت کا کھانا اور مویشیوں کے لیے چارہ فراہم کیا جا رہا ہے ضلعی انتظامیہ اور پی ڈی ایم اے ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے الرٹ ہیں. ڈپٹی کمشنر قصور کے مطابق متاثرین کی ہر ممکن مدد اور حفاظتی اقدامات کیے جا رہے ہیں تلوار پوسٹ پر ریسکیو، پولیس، ریونیو اور محکمہ انہار کے کیمپ بھی قائم کر ئدیے گئے ہیں تاکہ امدادی سرگرمیوں کو موثر بنایا جا سکے. دوسری جانب پی ڈی ایم اے پنجاب نے کہا ہے کہ بالائی پنجاب میں طوفانی بارشوں اور کلاڈ برسٹنگ کے خدشات ہیں پی ڈی ایم اے پنجاب نے مون سون فلڈ کی صورتحال بارے فیکٹ شیٹ جاری کر دی ہے گزشتہ 24 گھنٹوں میں مری، راولپنڈی، سیالکوٹ اور بہاولپور میں بارش ریکارڈ کی گئی. ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق آئندہ 24 گھنٹوں میں پنجاب کے بیشتر اضلاع میں شدید بارشوں کی پیشگوئی ہے بالائی پنجاب کے اضلاع میں طوفانی بارشوں اور کلاڈ برسٹنگ کے خدشات ہیں. ڈی جی پی ڈ ی ایم ا ے عرفان علی کاٹھیا نے کہا کہ مون سون بارشوں کا ساتواں اسپیل قدرے زیادہ مضبوط ہے طوفانی بارشوں کی پیشگوئی ہے انہوں نے انتظامیہ کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایات جاری کی ہیں ڈی جی عرفان علی کاٹھیا نے کہا کہ ولنرایبل اضلاع کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں دریائے سندھ میں تربیلا اور تونسہ کے مقام پر نچلے درجے کی سیلابی صورتحال ہے جبکہ کالاباغ اور چشمہ کے مقام پر درمیانے درجے کی سیلابی صورتحال ہے. انہوں نے بتایاکہ دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ہے دریائے چناب، جہلم اور راوی میں پانی کا بہاﺅ نارمل سطح پر ہے رودکوہیوں اور بڑے دریاں سے ملحقہ ندی نالوں میں بھی پانی کا بہا نارمل سطح پر ہے انہوں نے کہا کہ تربیلا ڈیم 98 فیصد جبکہ منگلا ڈیم 68 فیصد تک بھر چکا ہے، بھارتی ڈیمز میں پانی کی سطح 70 فیصد تک ہے ڈی جی پی ڈی ایم اے نے شہریوں سے گزارش کی کہ موسم برسات میں احتیاطی تدابیر اختیار کریں.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے پی ڈی ایم اے کے مقام پر نچلے درجے نے کہا
پڑھیں:
موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل
لاہور میں رات گئے شروع ہونے والی موسلادھار بارش کے بعد اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی، جس کے باعث متعدد رہائشی علاقوں اور اہم شاہراہوں پر کئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا جبکہ نشیبی علاقوں میں گھروں میں پانی داخل ہونے، ٹریفک جام اور سیوریج نظام مفلوج ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔شہر میں رات گئے شروع ہونے والی بارش وقفے وقفے سے جاری ہے، جس کے باعث شہر کے مختلف علاقوں میں اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ کینٹ، ڈیفنس اور والٹن سمیت متعدد علاقوں میں سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں جبکہ کئی مقامات پر گھروں میں بھی پانی داخل ہوگیا۔لاہور کینٹ میں موسلادھار بارش کے باعث سیوریج سسٹم جواب دے گیا، جس سے علی ویو گارڈنز، علی پارک، نادرا آباد اور دیگر علاقوں میں کئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا۔ مقامی افراد کے مطابق بیشتر علاقے ندی نالوں کا منظر پیش کر رہے ہیں۔دوسری جانب ڈیفنس فیز تھری کے اے، بی اور سی بلاکس میں بھی بارش کا پانی گھروں میں داخل ہوگیا جبکہ والٹن روڈ اور کیولری گراؤنڈ میں سڑکیں مکمل طور پر زیر آب آگئیں۔ کیولری گراؤنڈ کی مرکزی شاہراہ بھی پانی میں ڈوب گئی، جس کے باعث آمدورفت شدید متاثر رہی۔بارش کے بعد مین ڈیفنس روڈ پر بھی پانی جمع ہونے سے سڑک دریا کا منظر پیش کرنے لگی جبکہ ڈیفنس انڈر پاس بھی پانی سے بھر گیا۔ شہر کے مختلف حصوں میں پانی کھڑا ہونے کے باعث ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی، گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں اور شہریوں کو گھنٹوں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔مسلسل بارش کے باعث لاہور کی بیشتر شاہراہیں جل تھل ہوگئیں جبکہ روزمرہ زندگی بری طرح متاثر رہی۔ شہریوں نے متعلقہ اداروں سے نکاسی آب کے مؤثر انتظامات اور فوری ریلیف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔محکمہ موسمیات کے مطابق آج دن پر وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری رہے گا، مون سون کی بارشوں کے باعث لاہور میں حبس اور گرمی کی شدت میں کمی آگئی ہے۔لاہور میں کم سے کم درجہ حرارت 27 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ زیادہ سے زیادہ 29 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کا امکان ہے۔لاہور میں سب سے زیادہ بارش ایئرپورٹ پر 262 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ مناواں میں 200، تاجپور میں 151، کاہنہ میں 142، شادی پورہ میں 129 اور مغل پورہ میں 127 اور اپر مال پر 111 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔جوہر ٹاؤن میں 80، چوک ناخدا میں 60، نشتر ٹاؤن میں 54، اقبال ٹاؤن میں 51، گلبرگ میں 49، ڈیفنس روڈ 45، سمن آباد میں 29، جیل روڈ اور پانی والا تالاب 26، لکشمی چوک اور فرخ آباد میں 24، سگیاں میں 21 اور گلشن راوی میں 17 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ایم ڈی واسا لاہور غفران احمد نکاسی آب آپریشن کی مسلسل مانیٹرنگ کر رہے ہیں۔علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں شدید بارش کا سلسلہ جاری ہے جس کے سبب اندرون اور بیرون ملک جانے اور آنے والی پروازیں متاثر ہوگئیں۔لاہور سے کراچی، دبئی، جدہ، ابو ظہبی، استنبول جانے اور آنے والی 6 پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں۔ شدید بارش سے پروازوں کی آمد و رفت میں تاخیر ہوئی۔ایئرپورٹ حکام نے مسافروں کو اپنی پروازوں کے بارے میں معلومات لیکر آنے کی ہدایت کی ہے۔