پاکستان کے مختلف دریائوں میں سیلابی صورتحال سنگین رخ اختیار کر رہی ہے، ستلج اور جناح بیراج پر پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہو رہا جس کے پیش نظر انتظامیہ ہائی الرٹ ہے۔ہری پور میں تربیلا ڈیم میں سیلابی ریلا داخل ہوگیا، پانی کی آمد 4 لاکھ 5 ہزار کیوسک جبکہ اخراج 3 لاکھ 70 ہزار 300 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ، ڈیم میں پانی کی سطح 1547.

96 فٹ تک پہنچ گئی جبکہ فل لیول 1550 فٹ ہے۔سپل ویز کھولنے کے بعد دریائے سندھ میں درمیانے درجے کا سیلاب پیدا ہوگیاجس کے باعث تربیلا ٹی فائیو پراجیکٹ پر کام بند کر دیا گیا جبکہ ضلعی انتظامیہ نے شہریوں کو ندی نالوں اور دریائوں کے قریب جانے سے گریز کی ہدایت کی ہے۔ادھر قصور میں دریائے ستلج کے کنارے ولے والا گائوں کا حفاظتی بند مختلف مقامات سے ٹوٹ گیا، پانی گائوں کے راستوں اور کھیتوں میں داخل ہو گیا جس کے باعث مقامی افراد نقل مکانی پر مجبور ہیں، ہیڈ گنڈا سنگھ والا کے مقام پر پانی کی سطح 19.30 فٹ جبکہ بہا ئو66 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔دوسری جانب کالاباغ میں جناح بیراج کے مقام پر بھی دریائے سندھ میں پانی کی سطح بڑھ رہی  اور درمیانے درجے کی سیلابی کیفیت ہے۔فلڈ کنٹرول روم کے مطابق بیراج پر پانی کی آمد 3 لاکھ 99 ہزار 608 اور اخراج 3 لاکھ 91 ہزار 608 کیوسک ریکارڈ کیا گیا، صورتحال پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: پانی کی سطح

پڑھیں:

پائیڈ کی کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش

پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (Pakistan Institute of Development Economics) نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے لیے ملک میں کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش کر دی ہے، جسے موجودہ معاشی حالات اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے تناظر میں ایک اہم پالیسی تجویز قرار دیا جا رہا ہے۔

پائیڈ کی جانب سے جاری کردہ شواہد پر مبنی فریم ورک کے مطابق کم از کم اجرت میں اضافہ صرف ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ ایک وسیع معاشی اور سماجی ضرورت ہے، جو گھریلو سطح پر قوتِ خرید، غربت میں کمی، غیر رسمی روزگار کے رجحانات اور مجموعی معاشی استحکام پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر مالی سال 2026-27 کے لیے کم از کم اجرت 45 ہزار روپے ماہانہ مقرر کی جاتی ہے تو یہ موجودہ 40 ہزار روپے کی سطح کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافہ ہوگا۔ اس اضافے کو محنت کش طبقے کی مالی مشکلات میں کمی اور ان کی معاشی استعداد بہتر بنانے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

پائیڈ کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ کم از کم اجرت کی پالیسی کو محض لیبر ڈپارٹمنٹ تک محدود نہیں رکھا جا سکتا، کیونکہ اس کا تعلق براہ راست عام شہریوں کی روزمرہ زندگی، مہنگائی کے دباؤ اور مقامی مارکیٹ کی طلب سے جڑا ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اجرت میں مناسب اضافہ نہ صرف مزدور طبقے کے معیارِ زندگی کو بہتر بنا سکتا ہے بلکہ پیداواری عمل میں بھی مثبت اثر ڈال سکتا ہے۔

مزیدپڑھیں:حکومت کا ریئل اسٹیٹ پیکیج تیار، فروخت پر ٹیکس 4.5 فیصد سے 1.5 فیصد تک لانے کی تجویز

اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2026 کے جولائی سے اپریل تک اوسط مہنگائی کی شرح تقریباً 6.19 فیصد رہی، تاہم اپریل 2026 میں سالانہ بنیاد پر مہنگائی بڑھ کر 10.9 فیصد تک پہنچ گئی، جس نے عام شہریوں کی قوتِ خرید کو مزید متاثر کیا۔

 موجودہ معاشی صورتحال میں اجرتوں میں اضافہ ایک متوازن پالیسی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاہم اس کے ساتھ ساتھ کاروباری لاگت اور روزگار کے مواقع پر بھی اس کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لینا ضروری ہوگا۔

پائیڈ کی سفارش کے بعد اب یہ معاملہ حکومتی سطح پر غور کے لیے پیش کیا جائے گا، جہاں حتمی فیصلہ بجٹ پالیسی کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پہاڑوں پر برف پگھلنے سے دریا کمراٹ کے بہاؤ میں اضافہ، صورتحال خطرناک ہونے لگی
  • پائیڈ کی کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش
  • سونے کی قیمت میں پھر ہوشربا اضافہ
  • ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
  • پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
  • 5 جون تک پنجاب کے متعدد اضلاع میں آندھی، شدید ژالہ باری کا امکان، الرٹ جاری