چینی درآمد کرنے کیلئے کم بولی کی پیشکش مسترد، مہنگی پیش کش قبول کرلی گئی
اشاعت کی تاریخ: 16th, August 2025 GMT
اسلام آباد:
ملک میں دو لاکھ میٹرک ٹن چینی درآمد کرنے کے لیے کم بولی کی پیش کش مسترد کرتے ہوئے مہنگی پیش کش کو قبول کرلیا گیا ہے۔
ٹریڈنگ کارپوریشن نے مسترد کی جانے والی دونوں کمپنیوں کے متعلقہ دستاویزات مکمل نہ ہونے کا اعتراض اٹھایا تھا تاہم مجموعی طور پر 5 کمپنیوں میں سے 2کمپنیوں کی کم قیمتوں کی پیش کش کو مسترد کیا گیا، دو کمپنیوں کی جانب سے چینی درآمد کرنے کی مہنگی پیش کش کو قبول کیا گیا جبکہ ٹینڈر کے دوران ایک متحدہ عرب امارات کی کمپنی نے بولی لگانے سے معذرت کرتے ہوئے کاغذات واپس لےلیے تھے۔
چینی درآمد کرنے کے ٹینڈر میں مجموعی طور پر5 کمپنیوں نے بولی جمع کروائی جس میں سے صرف دو بولیوں کو قابل قبول قراردیا گیا۔
ٹی سی پی ٹینڈر دستاویز کے مطابق لندن کی کمپنی میسرز ای ڈی اینڈ ایف مین شوگر لمیٹڈ نے چینی درآمد کرنے کے لیے سب سے کم پیش کش جمع کرائی۔
لندن کی اس کمپنی نے ایک لاکھ میٹرک ٹن چینی کراچی بندرگاہ تک پہنچانے کے لیے539 ڈالر فی میٹرک ٹن بولی لگائی تھی۔
ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان نے لندن کمپنی کی بولی پر اعتراض لگا کر مسترد کر دیا۔
ٹینڈر نوٹیفکیشن کے مطابق جرمنی کی کمپنی نے چھوٹے اور درمیانے دانے والی سفید چینی درآمد کے لیے دوسری سب سے کم بولی لگائی، جرمن کمپنی بیئر سینڈیکیٹ ایف زی سی او نے 555 ڈالر فی میٹرک ٹن چینی درآمد کی بولی لگائی لیکن ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان نے جرمنی کی کمپنی کی بولی کو بھی اعتراض لگاکر واپس کردیا۔
نوٹیفکیشن میں بتایا گیا کہ لندن اور جرمن کمپنیوں کی بولی کو دستاویزات اور شرائط کی وجہ سے مسترد کیا گیا، سوئٹزرلینڈ کمپنی لوئس ڈریفس نےچھوٹے دانے والی چینی درآمدکرنے کی 580.
اسی طرح دبئی کی کمپنی الخلیج شوگر نے 586ڈالر فی میڑک ٹن درمیانے دانےوالی چینی درآمد کرنے کی پیش کش کی۔
ٹینڈر نوٹیفیکیشن میں بتایا گیا کہ ٹی سی پی نے دبئی اور سوئٹزرلینڈ کی کمپنیوں کی بولیوں کو منظور کرتے ہوئے فاتح قرار دے دیا۔
نوٹیفکیشن میں مزید بتایا گیا کہ دبئی کی کمپنی سکڈن مڈل ایسٹ نے بولی جمع کرانے سے معذرت کرتے ہوئے کاغذات واپس لےلیے تھے۔
ٹینڈر کے مطابق 25 ہزار میڑک ٹن چینی کی دو شپمنٹس یا ایک 50ہزار میڑک ٹن کی شپمنٹ 5 سے 20 ستمبر تک ہوگی،د دو لاکھ میڑک ٹن چینی کی درآمد 5 ستمبر سے 15اکتوبر تک بتدریج کی جائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: چینی درآمد کرنے بولی لگائی کمپنیوں کی کرتے ہوئے کی کمپنی میٹرک ٹن کرنے کی کی بولی ٹن چینی کی پیش پیش کش
پڑھیں:
دُنیا کی مہنگی ترین طلاق، جنوبی کوریا کی اہم ترین کاروباری شخصیت کو 944 ارب وون سابق اہلیہ کو ادا کرنے کا حکم
جنوبی کوریا کی سیئول ہائیکورٹ نے ملک کے بڑے صنعتی و کاروباری ادارے ایس کے گروپ کے چیئرمین چے تے وون کو اپنی سابقہ اہلیہ روہ سوہ یونگ کو 944 ارب جنوبی کوریائی وون (تقریباً 644 ملین امریکی ڈالر) ادا کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ اس مقدمے کو ‘ صدی کی طلاق’ قرار دیا جا رہا ہے۔
عدالتی فیصلہ ابھی حتمی نہیں اور اس کے خلاف اپیل کی جا سکتی ہے۔ یہ رقم اس سے پہلے سنائے گئے 1.38 کھرب وون کے فیصلے سے کم ہے، جو 2024 میں عدالت نے سابقہ اہلیہ کے حق میں دیا تھا۔
چے تے وون نے عوام سے معذرت کر لیفیصلے کے بعد چیئرمین چے تے وون کے وکلا نے ایک بیان میں کہا کہ وہ طلاق کی کارروائی کے باعث عوام میں پیدا ہونے والی تشویش پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:جنوبی کوریا میں ہر شہری کی عمر اچانک ایک یا 2 برس کم کیسے ہوگئی؟
وکلا کے مطابق ‘چیئرمین چے تے وون اس بات پر گہرا افسوس کرتے ہیں کہ طلاق کی کارروائی نے بہت سے لوگوں کو تشویش میں مبتلا کیا۔ عدالتی فیصلے کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد آئندہ کا لائحہ عمل اور ردعمل سامنے لایا جائے گا۔
3 دہائیوں پر محیط شادی کیسے ٹوٹی؟چے تے وون اور روہ سوہ یونگ کی شادی 3 دہائیوں سے زیادہ عرصے تک قائم رہی۔ یہ رشتہ اس وقت شدید بحران کا شکار ہوا جب روہ سوہ یونگ کو معلوم ہوا کہ ان کے شوہر نے ایک دوسری خاتون سے تعلقات کے نتیجے میں ایک بچے کو جنم دیا ہے۔ اس انکشاف کے بعد دونوں کے درمیان اختلافات شدت اختیار کر گئے اور معاملہ عدالت تک پہنچ گیا۔
روہ سوہ یونگ جنوبی کوریا کے سابق صدر روہ تے وو کی صاحبزادی ہیں، جس کے باعث یہ مقدمہ ابتدا ہی سے ملکی میڈیا اور عوامی توجہ کا مرکز بنا رہا۔
عدالت نے کیا قرار دیا؟ابتدائی فیصلے میں عدالت نے قرار دیا تھا کہ سابق صدر روہ تے وو نے اپنے داماد چے تے وون کو 30 ارب وون فراہم کیے تھے، جنہیں خاندانی کاروبار کی ترقی میں استعمال کیا گیا۔ اسی بنیاد پر عدالت نے چے تے وون کو اپنی سابقہ اہلیہ کو 1.38 کھرب وون ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔
مزید پڑھیں:’چین نے ہمارے ساتھ سخت رویہ اپنایا‘ ٹرمپ نے چینی درآمدات پر 155 فیصد ٹیرف عائد کردیا
بعد ازاں سپریم کورٹ نے اس فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ سابق صدر کے مبینہ خفیہ فنڈ اور غیر ظاہر شدہ رقوم کو قانونی طور پر ازدواجی اثاثے قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اسی قانونی جائزے کے بعد ہائی کورٹ نے نظرثانی کرتے ہوئے ادائیگی کی رقم کم کر کے 944 ارب وون مقرر کی۔
ایس کے گروپ اور عالمی کاروباری اہمیتچے تے وون جنوبی کوریا کے دوسرے بڑے کاروباری گروپ ایس کے گروپ کے چیئرمین ہیں، جبکہ گروپ کی ذیلی کمپنی ایس کے ہائنکس دنیا کی نمایاں سیمی کنڈکٹر کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے۔
ایس کے ہائنکس مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے لیے استعمال ہونے والی جدید میموری چپس تیار کرتی ہے اور امریکی ٹیکنالوجی کمپنی اینویڈیا سمیت عالمی اداروں کو سپلائی فراہم کرتی ہے۔
مصنوعی ذہانت کی بڑھتی ہوئی طلب کے باعث کمپنی کی مارکیٹ ویلیو میں نمایاں اضافہ ہوا اور اس نے جنوبی کوریا کی اسٹاک مارکیٹ میں ریکارڈ قائم کیے۔
یہ بھی پڑھیں:جنوبی کوریا کے سابق صدر یون سک یول کو شمالی کوریا میں ڈرون بھیجنے پر 30 سال قید کی سزا
رپورٹس کے مطابق، کمپنی نے امریکی مارکیٹ میں اپنی لسٹنگ کے ذریعے 26.5 ارب ڈالر جمع کیے، جسے امریکی اسٹاک مارکیٹ میں کسی نمایاں غیر ملکی کمپنی کی تاریخ کی بڑی پیشکشوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔
یہ مقدمہ کئی برسوں سے جنوبی کوریا کی عدالتی تاریخ کے اہم ترین خاندانی تنازعات میں شامل ہے۔ ایک جانب یہ ملک کے طاقتور کاروباری خاندان سے متعلق ہے، جبکہ دوسری جانب سابق صدر کے خاندان کی شمولیت نے اسے غیر معمولی اہمیت دی۔ اسی وجہ سے مقامی میڈیا نے اسے ‘طلاق کی صدی’ کا نام دیا۔
تازہ عدالتی فیصلہ اگرچہ سابق حکم کے مقابلے میں کم مالیت کا ہے، تاہم 944 ارب وون کی رقم اب بھی دنیا کے مہنگے ترین طلاقی تصفیوں میں شمار کی جا رہی ہے۔ چونکہ فیصلے کے خلاف اپیل کا حق موجود ہے، اس لیے امکان ہے کہ یہ قانونی جنگ ابھی مزید جاری رہے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
تقریباً 644 ملین امریکی ڈالر جنوبی کوریا چے تے وون روہ سوہ یونگ سپریم کورٹ۔ سیئول ہائیکورٹ صاحبزادی صدر روہ تے وو عدالت