بھارت میرے والد یاسین ملک کو اگلے ماہ پھانسی دینا چاہتا ہے، بیٹی کی عالمی رہنماؤں سے مدد کی اپیل
اشاعت کی تاریخ: 16th, August 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)حریت رہنما یاسین ملک کی بیٹی رضیہ سلطان نے عالمی رہنماؤں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ بھارت میرے والد یاسین ملک کو اگلے ماہ پھانسی دینا چاہتا ہے، ان کی جان بچائیں۔
اپنے ویڈیو بیان میں رضیہ سلطان نے کہا کہ چین، امریکا، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں میرے والد یاسین ملک کی جان بچائیں۔رضیہ سلطان نے کہا کہ بھارت میرے والد کو سچ بولنے اور کشمیر کی آزادی کی بات کرنے پر سزا دینا چاہتا ہے۔حریت رہنما کی بیٹی نے کہا کہ میرے والد نے اپنی ساری زندگی کشمیر کاز کے لیے وقف کی۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار 3 روزہ دورے پر برطانیہ پہنچ گئے
Raziyah Sultan's Urgent Plea:
Stop Her Father Mohammad Yasin Malik’s Hanging .
The 13-year-old daughter of Kashmiri leader Mohammad Yasin Malik, Raziyah Sultan, has made a desperate… pic.twitter.com/YpCHE7MswB — Mushaal Hussein Mullick (@MushaalMullick) August 16, 2025
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: یاسین ملک میرے والد کہا کہ
پڑھیں:
کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
سپریم کورٹ آف پاکستان نے 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے مجرم سنی مسیح کی اپیل مسترد کرتے ہوئے اس کی سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ سنا دیا۔
عدالت عظمیٰ نے اپنے اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اپنی مرضی سے نشہ کرکے جرم کا ارتکاب کرنے والا شخص اپنے مجرمانہ عمل سے استثنیٰ کا دعویٰ کرنے کا حق نہیں رکھتا۔
3 رکنی بینچ، جس میں جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے، نے مجرم کی اپیل پر فیصلہ جاری کیا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ صرف اس صورت میں کیا جا سکتا ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا اس کے علم میں لائے بغیر نشہ آور چیز دی گئی ہو۔
عدالتی فیصلے کے مطابق مجرم سنی مسیح کے خلاف 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے اور قتل کرنے کا مقدمہ 22 جنوری 2014 کو سبی میں درج کیا گیا تھا۔
ٹرائل کورٹ نے جرم ثابت ہونے پر مجرم کو سزائے موت سنائی تھی، جسے بعد ازاں ہائیکورٹ نے بھی برقرار رکھا اور اب سپریم کورٹ نے بھی اس فیصلے کی توثیق کردی ہے۔
دوران سماعت مجرم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیاکہ وقوعہ کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، اس لیے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔
تاہم سپریم کورٹ نے اس استدعا کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ کسی شخص کو ایسے عمل کی سزا نہیں دی جا سکتی جس کے ارتکاب کا اس کا ارادہ نہ ہو، لیکن رضاکارانہ طور پر نشہ کرکے اسے اپنے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیاکہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
عدالت نے واضح کیاکہ جو شخص اپنی مرضی سے شراب نوشی کرتا ہے وہ بعد میں مجرمانہ ذمہ داری سے استثنیٰ کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مجرم نے بے دردی کے ساتھ کمسن بچی کو قتل کیا، لہٰذا اس کی اپیل خارج کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھی جاتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews سزائے موت برقرار قتل کیس کمسن بچی وی نیوز