آزادی کی حفاظت ہماری قومی ذمے داری
اشاعت کی تاریخ: 16th, August 2025 GMT
آزادی بہت بڑی نعمت ہے اور اس کی حفاظت ہماری اجتماعی اور قومی ذمے داری ہے۔ آزادی کی قدر و قیمت مقبوضہ کشمیر اور فلسطین کے مسلمانوں سے پوچھنی چاہیے جو بھارت اور اسرائیل کے ظلم کا شکار ہیں۔
آزادی کا جشن مناتے ہوئے ہمیں عہد کرنا چاہیے کہ پاکستان کی ترقی کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے، وطن عزیز کی سالمیت پر کبھی آنچ نہیں آنے دیں گے، یومِ آزادی پاکستان صرف ایک تاریخی دن نہیں بلکہ ہمارے قومی اتحاد، یکجہتی اور حب الوطنی کی تجدید کا دن ہے آزادی ایک عظیم نعمت ہے اور آزای کی زندگی کا ایک دن غلام کی ہزار سالہ زندگی سے بہتر ہے۔
بڑی خوش قسمت ہیں وہ اقوام جو آزاد فضا میں سانس لے رہی ہیں اور بد قسمت ہیں وہ عوام جو آج غلامی کی زندگی سے نجات حاصل نہیں کر سکیں۔ آزادی ایک ایسی بیش بہا نعمت ہے جس کا جتنا شکر ادا کیا جائے کم ہے۔
شاید عقیدے کے بعد آزادی ہی ایک ایسی چیز ہے جس کی خاطر انسان اپنا سب کچھ قربان کر سکتا ہے۔ اگست کا مہینہ شروع ہوتے ہی ملک بھر میں ہر طرف سبز ہلالی پرچم دیکھنے کو ملتے ہیں۔
یومِ آزادی کی جڑیں تحریکِ پاکستان سے جڑی ہوئی ہیں۔ 23 مارچ 1940 کو آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں قراردادِ لاہور منظور کی گئی، جسے بعد میں قراردادِ پاکستان کا نام دیا گیا۔ اس قرارداد میں پہلی مرتبہ برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک علیحدہ ریاست کے قیام کا واضح مطالبہ کیا گیا۔
یہی قرارداد 1947 میں آزادی کے قیام کا پیش خیمہ ثابت ہوئی۔ اس دن کی تاریخی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے ملک بھر میں تقریبات منعقد کی جاتی ہیں تاکہ نئی نسل کو اپنی تاریخ سے روشناس کرایا جا سکے۔ نوجوان نسل کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اگر آج ہم آزاد ملک میں سانس لے رہے ہیں تو ان شہیدوں کی وجہ سے جنھوں نے اپنا کل ہمارے آج کے لیے قربان کیا۔
پاکستان کی بنیادوں میں لاکھوں شہداء کا خون شامل ہے۔ ایک آزاد مملکت کے لیے مسلمانوں نے بے شمار قربانیاں دیں۔ تاریخ گواہ ہے بھارت سے آنے والی ٹرین مسلمانوں کی لاشوں سے بھری ہوئی لاہور پہنچی تو بھی یہاں کے مسلمانوں نے پاکستان میں رہنے والے ہندو اور دیگر مذاہب کے لوگوں کو تحفظ فراہم کیا۔
ہندوستان میں آج بھی مسلمانوں پر مظالم ڈھائے جا رہے ہیں، مقبوضہ کشمیر بھی ہندوستان کے مظالم کی داستانوں میں سے ایک داستان ہے۔ آج جب ہم مقبوضہ کشمیر میں بھارتی بربریت دیکھتے ہیں تو ہمیں احساس ہوتا ہے کہ آزادی ایک نعمت ہے۔
قائد اعظم محمد علی جناح نے ہم پر جو احسان کیا ہے ہم وہ احسان کبھی نہیں اتار سکتے مگر ہم پاکستان کو جناح کا پاکستان بنا کر قائد اعظم محمد علی جناح کی روح کو تسکین پہنچا سکتے ہیں۔ بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح نے 11اگست 1947 کی تقریر میں واضح کردیا تھا کہ لوگ اپنی عبادت گاہوں میں جانے کے لیے آزاد ہیں اور کسی کے مذہب سے ریاست کو کوئی سروکار نہیں ہوگا۔
آپ آزاد ہیں، آپ آزاد ہیں اپنے مندروں میں جانے کے لیے۔ آپ آزاد ہیں اپنی مسجدوں میں جانے کے لیے اور ریاست پاکستان میں اپنی کسی بھی عبادت گاہ میں جانے کے لیے۔ آپ کا تعلق کسی بھی مذہب ذات یا نسل سے ہو۔ ریاست کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں۔
بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح کی 11 اگست کی تقریر سے اقتباس آزادی ایک بڑی نعمت ہے اس سے بڑھ کر دنیا میں کوئی چیز نہیں۔آزادی کا دن منانا بھی ہم سب پر لازم ہے۔ صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ غیر مسلم بھی یوم آزادی پاکستان جوش و جذبے سے مناتے ہیں کیونکہ یہ جناح کا پاکستان ہے جہاں تمام مذاہب کے ماننے والوں کو مکمل مذہبی آزادی حاصل ہے، ملک کلمہ توحید کی بنیاد پر وجود میں آیا۔
قائداعظم اور دوسرے رہنماؤں نے خطہ اس لیے حاصل کیا کہ اس میں مسلمان پوری آزادی کے ساتھ اپنے مذہبی فرائض انجام دے سکے اور اللہ کے پسندیدہ دین اسلام کو نافذ کر سکیں بلا شبہ پاکستان کا 27 رمضان کو قیام نہ صرف اللہ تعالیٰ کی جانب سے برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کے لیے ایک نایاب تحفہ تھا بلکہ تمام عالم اسلام کے لیے ایک معجزہ بھی تھا۔
اس امر میں بھی کوئی شک نہیں کہ انگریزوں کے برصغیر پاک و ہند پر غالب آجانے کے بعد مسلمانوں پر زمین اس قدر تنگ کرنے کی کوشش کی گئی کہ پورے ہندوستان کے مسلمان یہ سمجھ گئے کہ مخالف قوتیں خاص کر ہندو انھیں ہر ممکن طریقے سے غلام بنانے اور دین اسلام کو خیر باد کرنے پر مصر ہیں اور اس کی وجہ ان حالات و واقعات کا تسلسل تھا جو کہ مسلمانوں کے ساتھ جاری تھا مثلا بنکم چیفر جی نے بندے ماترم کا ترانہ اس تصور کے ساتھ پیش کیا کہ بھارت ماتا اور ہم تیرے بندے ہیں۔
یہ ترانہ قیام پاکستان کے بعد بھی مسلمانوں کو پڑھنے پر مجبور کیا جاتا رہا۔ اسی طرح برہمو سماج کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا گیا جو اکبر بادشاہ کے دین الٰہی کا دوسرا رخ کہا جاسکتا تھا۔ رام موہن رائے نے بھی اسی طرز پر ایک ادارے کی مجلس ایزوی کے نام سے داغ بیل ڈالی اس کے بعد دیانند سر سوتی نے آریہ سماج کی پر تشدد تحریک شروع کی۔
جس میں کھل کر کہا گیا کہ ہندوستان صرف ہندوؤں کا ہے۔یہاں مسلمانوں کے لیے کوئی جگہ نہیں لہٰذا مسلمان یا تو ہندو بن جائیں یا پھر ہجرت کر کے چلے جائیں اسی تحریک کے تحت آر ایس ایس بنائی گئی جو ایک انتہا پسند ہندو جماعت تھی۔ اس کے علاوہ شدھی کی تحریک شروع کی گئی جس کا مقصد مسلمانوں کو دوبارہ ہندو بنانا تھا۔
اس تحریک سے نیا پاکستان 78 سال پہلے 14 اگست کو بنا تھا۔بانی اس پاکستان کے قائد اعظم محمد علی جناح تھے۔ کوئی مہم جوکوئی فاتح اعظم کوئی سالار اعلیٰ ہرگز نہ تھا۔ قانون،قاعدے،ضابطے،آئین کی زبان میں بات کرنے والا زیرک لیکن مخلص وکیل تھا۔ جس کے پاس یقین قلب عزم صمیم کی طاقت تھی۔
قائداعظم محمد علی جناح شاندار بارُعب بااثر شخصیت کے مالک تھے جو 25دسمبر1876 میں پیدا ہوئے۔ بارایٹ لاء کیا،کانگریس میں کچھ عرصہ رہے۔مسلم لیگ میں 10اکتوبر 1913میں شامل ہوئے۔ کانپور کے جلسہ 1920میں کانگریس سے استعفیٰ دیا۔
آل انڈیا مسلم لیگ کی قیادت 1934میں سنبھالی۔سارے ہندوستان کے مسلمانوں کو دوقومی نظریہ سے روشناس کرایا اور کانگریس اور انگریز کا مقابلہ کیا۔ 14 اگست 1947 کو پاکستان حاصل کیا ، علامہ اقبال کی شاعری اور سوچ نے ہندوستان کے مسلمانوں کو آزادی کی طرف راغب کیا اور علامہ کی سیاسی سوچ مسلم لیگ تھی۔
آل انڈیا مسلم لیگ کی صدارت 30 دسمبر1930 کو الہ آباد کے مقام پرکی۔ایک طویل خطبہ مسلمانوں کے مسائل کے حل کرنے کے لیے دیا اور تجویز پیش کی کہ ہندوستان کے اندر یا باہر مسلم ہندوستان کی تشکیل کی جائے تاکہ وہ علاقے جہاں مسلمان اکثریت سے ہیں اپنی اجتماعی زندگی اپنے تمدن اور مذہبی اُصولوں کی بنا پر گزار سکیں ۔
قائداعظم محمد علی جناح نے1916میں فرمایاکہ ہم کسی قسم کی رعایت نہیں چاہتے۔ صرف ہم چاہتے ہیں کہ ہندوستان کے مسلمانوں کوبھی ان کا پورا حق دیا جائے۔ہم صاف صاف صحت مند معاشرہ میں مسلمان کمیونٹی کے لیے اچھے جذبات اور مواقعے چاہتے ہیں اور برطانوی حکومت سے توقع کرتے ہیں کہ وہ پورا پورا انصاف کرے۔
انتخاب میں مسلمانوں کی نشستیں غیر مسلمانوں سے جدا ہوں۔جداگانہ انتخاب مسلمانوں کی ڈیمانڈ نہیں ہے بلکہ ضرورت ہے۔ 23مارچ1940 کو قرار دار لاہور مسلم لیگ کے 27ویں اجلاس میں منظور ہوئی اور منزل پاکستان کی طرف آل انڈیا مسلم لیگ کی قیادت نے جدوجہد کی۔ اس طرح 3 جون 1947کے تقسیم ہند کے فارمولا کے ساتھ پاکستان 14اگست1947 کو حاصل ہوا۔ قائد اعظم کا پاکستان ہمیشہ قائم و دائم رہے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: قائد اعظم محمد علی جناح ہندوستان کے مسلمان میں جانے کے لیے کے مسلمانوں مسلمانوں کو مسلمانوں کے ا زادی ایک ا زاد ہیں ا زادی کی کے لیے ا نعمت ہے کے ساتھ ہیں اور کے بعد
پڑھیں:
خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟
پاکستان ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں ایک طرف خارجہ محاذ پر سفارتی کامیابیوں کے دعوے کیے جا رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب ملک کے اندر سیاسی، معاشی اور سیکیورٹی کے بحران گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ کسی بھی ریاست کی اصل طاقت اس کی اندرونی مضبوطی ہوتی ہے۔ اگر گھر کے اندر بے چینی، عدم استحکام اور عوامی بے اعتمادی بڑھ جائے تو دنیا میں حاصل ہونے والی سفارتی کامیابیاں بھی دیرپا ثابت نہیں ہوتیں۔
بین الاقوامی تعلقات میں ایک معروف اصول ہے کہ “All foreign policy begins at home یعنی خارجہ پالیسی کی بنیاد مضبوط داخلی استحکام پر ہوتی ہے۔ اگر بلوچستان، خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر اور ملک کے دیگر حصوں میں عوام خود کو غیر محفوظ، محروم یا نظرانداز محسوس کریں تو بیرونی دنیا میں پاکستان کا مقف بھی کمزور پڑ جاتا ہے۔بلوچستان اس وقت پاکستان کی سلامتی اور معیشت کا سب سے اہم خطہ ہے۔ سی پیک، گوادر پورٹ، ریکوڈک، معدنی وسائل اور دیگر اسٹریٹجک منصوبے اسی صوبے سے وابستہ ہیں۔ لیکن افسوس کہ یہی صوبہ بدامنی، سیاسی بے اعتمادی اور احساسِ محرومی کا شکار ہے۔ ریاست اور عوام کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کسی بھی ترقیاتی منصوبے کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
اسی طرح خیبر پختونخوا میں دہشت گردی ہو رہی ہے جبکہ آزاد کشمیر میں حالیہ سیاسی کشیدگی نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ یہ تمام مسائل محض انتظامی نہیں بلکہ سیاسی نوعیت کے ہیں جن کا حل طاقت کے استعمال سے زیادہ سیاسی مکالمے، بہتر حکمرانی اور عوامی اعتماد کی بحالی میں پوشیدہ ہے۔
اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ بلوچستان، خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر میں پیدا ہونے والے حالات کے پیچھے بھارت کا کردار موجود ہے۔ اس امکان کو یکسر مسترد نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ ہر ملک اپنے مفادات کے مطابق مخالف ریاست کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنے داخلی مسائل کا ذمہ دار ہمیشہ بیرونی قوتوں کو قرار دے کر اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ ہو سکتے ہیں؟
اگر بھارت پاکستان کے خلاف سرگرم ہے تو اس کا مقابلہ کرنے کے لیے پاکستان کے پاس مضبوط انٹیلی جنس ادارے، دفاعی صلاحیت اور قومی سلامتی کا پورا نظام موجود ہے۔خاص طور پر بلوچستان میں اصل مسئلہ سیاسی جواز کا ہے۔ جب عوام کو یہ احساس ہو کہ ان کی رائے اور ووٹ کی اہمیت کم ہو رہی ہے تو ریاست اور عوام کے درمیان فاصلے بڑھنے لگتے ہیں۔ نوجوان نسل میں احساسِ محرومی کا بڑھنا کسی بھی ملک کے لیے خطرناک رجحان ہے۔ پاکستان کو ایسی صورتحال سے ہر قیمت پر بچنا ہوگا۔
آزاد کشمیر کی صورتحال بھی قومی توجہ کی متقاضی ہے۔ یہ محض ایک انتظامی یا علاقائی معاملہ نہیں بلکہ مسئلہ کشمیر سے جڑا ہوا ایک حساس پہلو ہے۔ اگر آزاد کشمیر کے عوام میں بے چینی بڑھتی ہے تو اس کے اثرات مقبوضہ کشمیر تک بھی پہنچتے ہیں اور پاکستان کے اصولی مقف کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آزاد کشمیر کے عوام کی آواز کو سننا اور سیاسی مسائل کا آئینی و جمہوری حل تلاش کرنا ناگزیر ہے۔
پاکستان کو اس وقت الزام تراشی سے زیادہ خود احتسابی کی ضرورت ہے۔ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ وہ کون سی کمزوریاں ہیں جن سے ہمارے مخالف فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اگر ہم اپنے گھر کو منظم، مضبوط اور منصفانہ بنا لیں تو بیرونی سازشیں خود بخود ناکام ہو جائیں گی۔
ریاست کی طاقت صرف اس کے ہتھیاروں، اداروں یا سفارتی تعلقات سے نہیں بلکہ اپنے عوام کے اعتماد سے بنتی ہے۔ جب عوام اور ریاست ایک صفحے پر ہوں تو دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ لیکن اگر داخلی تقسیم، سیاسی کشیدگی اور احساسِ محرومی بڑھتا رہا تو بیرونی کامیابیاں بھی وقتی ثابت ہوں گی۔
آج پاکستان کو سب سے زیادہ ضرورت ایک ایسی قومی حکمت عملی کی ہے جس میں خارجہ کامیابیوں کے ساتھ ساتھ داخلی استحکام، آئینی بالادستی، بہتر حکمرانی، سیاسی مفاہمت اور عوامی اعتماد کی بحالی کو اولین ترجیح دی جائے۔ کیونکہ مضبوط پاکستان کی بنیاد اسلام آباد کے سفارتی ایوانوں میں نہیں بلکہ بلوچستان، خیبر پختونخوا، سندھ، پنجاب، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے عوام کے دلوں میں رکھی جائے گی۔
پاکستان کو اپنی علاقائی خارجہ پالیسی کا بھی غیر جانبدارانہ جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ خصوصا افغانستان کے ساتھ مسلسل کشیدہ تعلقات کے نتیجے میں ہونے والے جانی، معاشی اور سفارتی نقصانات پر سنجیدہ غور ہونا چاہیے۔ گزشتہ برسوں میں سرحدی کشیدگی، دہشت گردی، مہاجرین کے مسائل اور سرحدی بندشوں نے دونوں ممالک کو نقصان پہنچایا ہے۔ ایک وقت تھا جب پاکستان اور افغانستان کے درمیان سالانہ تجارت تقریبا پانچ سے چھ ارب ڈالر تک پہنچ چکی تھی، مگر کشیدہ تعلقات کے باعث اس میں نمایاں کمی آئی جس کا براہِ راست اثر پاکستان کی معیشت، برآمدات اور سرحدی علاقوں کے کاروبار پر پڑا۔ یہ سوال اہم ہے کہ کیا پاکستان کی معیشت ایسے نقصانات کی متحمل ہو سکتی ہے؟ کیا ہمسایہ ممالک کے ساتھ مستقل کشیدگی قومی مفاد میں ہے یا اس سے نقصان زیادہ اور فائدہ کم ہوتا ہے؟ پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی علاقائی پالیسیوں پر ازسرِنو غور کرے۔ مضبوط خارجہ پالیسی وہی ہوتی ہے جو قومی سلامتی کے ساتھ ساتھ اقتصادی مفادات، علاقائی تعاون اور پائیدار امن کو بھی ترجیح دے۔