آزادی کی حفاظت ہماری قومی ذمے داری
اشاعت کی تاریخ: 17th, August 2025 GMT
آزادی بہت بڑی نعمت ہے اور اس کی حفاظت ہماری اجتماعی اور قومی ذمے داری ہے۔ آزادی کی قدر و قیمت مقبوضہ کشمیر اور فلسطین کے مسلمانوں سے پوچھنی چاہیے جو بھارت اور اسرائیل کے ظلم کا شکار ہیں۔
آزادی کا جشن مناتے ہوئے ہمیں عہد کرنا چاہیے کہ پاکستان کی ترقی کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے، وطن عزیز کی سالمیت پر کبھی آنچ نہیں آنے دیں گے، یومِ آزادی پاکستان صرف ایک تاریخی دن نہیں بلکہ ہمارے قومی اتحاد، یکجہتی اور حب الوطنی کی تجدید کا دن ہے آزادی ایک عظیم نعمت ہے اور آزای کی زندگی کا ایک دن غلام کی ہزار سالہ زندگی سے بہتر ہے۔
بڑی خوش قسمت ہیں وہ اقوام جو آزاد فضا میں سانس لے رہی ہیں اور بد قسمت ہیں وہ عوام جو آج غلامی کی زندگی سے نجات حاصل نہیں کر سکیں۔ آزادی ایک ایسی بیش بہا نعمت ہے جس کا جتنا شکر ادا کیا جائے کم ہے۔
شاید عقیدے کے بعد آزادی ہی ایک ایسی چیز ہے جس کی خاطر انسان اپنا سب کچھ قربان کر سکتا ہے۔ اگست کا مہینہ شروع ہوتے ہی ملک بھر میں ہر طرف سبز ہلالی پرچم دیکھنے کو ملتے ہیں۔
یومِ آزادی کی جڑیں تحریکِ پاکستان سے جڑی ہوئی ہیں۔ 23 مارچ 1940 کو آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں قراردادِ لاہور منظور کی گئی، جسے بعد میں قراردادِ پاکستان کا نام دیا گیا۔ اس قرارداد میں پہلی مرتبہ برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک علیحدہ ریاست کے قیام کا واضح مطالبہ کیا گیا۔
یہی قرارداد 1947 میں آزادی کے قیام کا پیش خیمہ ثابت ہوئی۔ اس دن کی تاریخی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے ملک بھر میں تقریبات منعقد کی جاتی ہیں تاکہ نئی نسل کو اپنی تاریخ سے روشناس کرایا جا سکے۔ نوجوان نسل کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اگر آج ہم آزاد ملک میں سانس لے رہے ہیں تو ان شہیدوں کی وجہ سے جنھوں نے اپنا کل ہمارے آج کے لیے قربان کیا۔
پاکستان کی بنیادوں میں لاکھوں شہداء کا خون شامل ہے۔ ایک آزاد مملکت کے لیے مسلمانوں نے بے شمار قربانیاں دیں۔ تاریخ گواہ ہے بھارت سے آنے والی ٹرین مسلمانوں کی لاشوں سے بھری ہوئی لاہور پہنچی تو بھی یہاں کے مسلمانوں نے پاکستان میں رہنے والے ہندو اور دیگر مذاہب کے لوگوں کو تحفظ فراہم کیا۔
ہندوستان میں آج بھی مسلمانوں پر مظالم ڈھائے جا رہے ہیں، مقبوضہ کشمیر بھی ہندوستان کے مظالم کی داستانوں میں سے ایک داستان ہے۔ آج جب ہم مقبوضہ کشمیر میں بھارتی بربریت دیکھتے ہیں تو ہمیں احساس ہوتا ہے کہ آزادی ایک نعمت ہے۔
قائد اعظم محمد علی جناح نے ہم پر جو احسان کیا ہے ہم وہ احسان کبھی نہیں اتار سکتے مگر ہم پاکستان کو جناح کا پاکستان بنا کر قائد اعظم محمد علی جناح کی روح کو تسکین پہنچا سکتے ہیں۔ بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح نے 11اگست 1947 کی تقریر میں واضح کردیا تھا کہ لوگ اپنی عبادت گاہوں میں جانے کے لیے آزاد ہیں اور کسی کے مذہب سے ریاست کو کوئی سروکار نہیں ہوگا۔
آپ آزاد ہیں، آپ آزاد ہیں اپنے مندروں میں جانے کے لیے۔ آپ آزاد ہیں اپنی مسجدوں میں جانے کے لیے اور ریاست پاکستان میں اپنی کسی بھی عبادت گاہ میں جانے کے لیے۔ آپ کا تعلق کسی بھی مذہب ذات یا نسل سے ہو۔ ریاست کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں۔
بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح کی 11 اگست کی تقریر سے اقتباس آزادی ایک بڑی نعمت ہے اس سے بڑھ کر دنیا میں کوئی چیز نہیں۔آزادی کا دن منانا بھی ہم سب پر لازم ہے۔ صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ غیر مسلم بھی یوم آزادی پاکستان جوش و جذبے سے مناتے ہیں کیونکہ یہ جناح کا پاکستان ہے جہاں تمام مذاہب کے ماننے والوں کو مکمل مذہبی آزادی حاصل ہے، ملک کلمہ توحید کی بنیاد پر وجود میں آیا۔
قائداعظم اور دوسرے رہنماؤں نے خطہ اس لیے حاصل کیا کہ اس میں مسلمان پوری آزادی کے ساتھ اپنے مذہبی فرائض انجام دے سکے اور اللہ کے پسندیدہ دین اسلام کو نافذ کر سکیں بلا شبہ پاکستان کا 27 رمضان کو قیام نہ صرف اللہ تعالیٰ کی جانب سے برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کے لیے ایک نایاب تحفہ تھا بلکہ تمام عالم اسلام کے لیے ایک معجزہ بھی تھا۔
اس امر میں بھی کوئی شک نہیں کہ انگریزوں کے برصغیر پاک و ہند پر غالب آجانے کے بعد مسلمانوں پر زمین اس قدر تنگ کرنے کی کوشش کی گئی کہ پورے ہندوستان کے مسلمان یہ سمجھ گئے کہ مخالف قوتیں خاص کر ہندو انھیں ہر ممکن طریقے سے غلام بنانے اور دین اسلام کو خیر باد کرنے پر مصر ہیں اور اس کی وجہ ان حالات و واقعات کا تسلسل تھا جو کہ مسلمانوں کے ساتھ جاری تھا مثلا بنکم چیفر جی نے بندے ماترم کا ترانہ اس تصور کے ساتھ پیش کیا کہ بھارت ماتا اور ہم تیرے بندے ہیں۔
یہ ترانہ قیام پاکستان کے بعد بھی مسلمانوں کو پڑھنے پر مجبور کیا جاتا رہا۔ اسی طرح برہمو سماج کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا گیا جو اکبر بادشاہ کے دین الٰہی کا دوسرا رخ کہا جاسکتا تھا۔ رام موہن رائے نے بھی اسی طرز پر ایک ادارے کی مجلس ایزوی کے نام سے داغ بیل ڈالی اس کے بعد دیانند سر سوتی نے آریہ سماج کی پر تشدد تحریک شروع کی۔
جس میں کھل کر کہا گیا کہ ہندوستان صرف ہندوؤں کا ہے۔یہاں مسلمانوں کے لیے کوئی جگہ نہیں لہٰذا مسلمان یا تو ہندو بن جائیں یا پھر ہجرت کر کے چلے جائیں اسی تحریک کے تحت آر ایس ایس بنائی گئی جو ایک انتہا پسند ہندو جماعت تھی۔ اس کے علاوہ شدھی کی تحریک شروع کی گئی جس کا مقصد مسلمانوں کو دوبارہ ہندو بنانا تھا۔
اس تحریک سے نیا پاکستان 78 سال پہلے 14 اگست کو بنا تھا۔بانی اس پاکستان کے قائد اعظم محمد علی جناح تھے۔ کوئی مہم جوکوئی فاتح اعظم کوئی سالار اعلیٰ ہرگز نہ تھا۔ قانون،قاعدے،ضابطے،آئین کی زبان میں بات کرنے والا زیرک لیکن مخلص وکیل تھا۔ جس کے پاس یقین قلب عزم صمیم کی طاقت تھی۔
قائداعظم محمد علی جناح شاندار بارُعب بااثر شخصیت کے مالک تھے جو 25دسمبر1876 میں پیدا ہوئے۔ بارایٹ لاء کیا،کانگریس میں کچھ عرصہ رہے۔مسلم لیگ میں 10اکتوبر 1913میں شامل ہوئے۔ کانپور کے جلسہ 1920میں کانگریس سے استعفیٰ دیا۔
آل انڈیا مسلم لیگ کی قیادت 1934میں سنبھالی۔سارے ہندوستان کے مسلمانوں کو دوقومی نظریہ سے روشناس کرایا اور کانگریس اور انگریز کا مقابلہ کیا۔ 14 اگست 1947 کو پاکستان حاصل کیا ، علامہ اقبال کی شاعری اور سوچ نے ہندوستان کے مسلمانوں کو آزادی کی طرف راغب کیا اور علامہ کی سیاسی سوچ مسلم لیگ تھی۔
آل انڈیا مسلم لیگ کی صدارت 30 دسمبر1930 کو الہ آباد کے مقام پرکی۔ایک طویل خطبہ مسلمانوں کے مسائل کے حل کرنے کے لیے دیا اور تجویز پیش کی کہ ہندوستان کے اندر یا باہر مسلم ہندوستان کی تشکیل کی جائے تاکہ وہ علاقے جہاں مسلمان اکثریت سے ہیں اپنی اجتماعی زندگی اپنے تمدن اور مذہبی اُصولوں کی بنا پر گزار سکیں ۔
قائداعظم محمد علی جناح نے1916میں فرمایاکہ ہم کسی قسم کی رعایت نہیں چاہتے۔ صرف ہم چاہتے ہیں کہ ہندوستان کے مسلمانوں کوبھی ان کا پورا حق دیا جائے۔ہم صاف صاف صحت مند معاشرہ میں مسلمان کمیونٹی کے لیے اچھے جذبات اور مواقعے چاہتے ہیں اور برطانوی حکومت سے توقع کرتے ہیں کہ وہ پورا پورا انصاف کرے۔
انتخاب میں مسلمانوں کی نشستیں غیر مسلمانوں سے جدا ہوں۔جداگانہ انتخاب مسلمانوں کی ڈیمانڈ نہیں ہے بلکہ ضرورت ہے۔ 23مارچ1940 کو قرار دار لاہور مسلم لیگ کے 27ویں اجلاس میں منظور ہوئی اور منزل پاکستان کی طرف آل انڈیا مسلم لیگ کی قیادت نے جدوجہد کی۔ اس طرح 3 جون 1947کے تقسیم ہند کے فارمولا کے ساتھ پاکستان 14اگست1947 کو حاصل ہوا۔ قائد اعظم کا پاکستان ہمیشہ قائم و دائم رہے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: قائد اعظم محمد علی جناح ہندوستان کے مسلمان میں جانے کے لیے کے مسلمانوں مسلمانوں کو مسلمانوں کے ا زادی ایک ا زاد ہیں ا زادی کی کے لیے ا نعمت ہے کے ساتھ ہیں اور کے بعد
پڑھیں:
جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا ؛علیمہ خانم
سٹی 42: علیمہ خانم نے فیکٹری ناکہ پر میڈیا ٹاک کرتے ہوئے کہا آج بھی بانی سے ملاقات کے لئے آئے ہیں یہ ہمارا آئینی قانونی حق ہے
علیمہ خانم نے کہااگر آج ملاقات نہ ہوئی تو دیکھیں گے ،اگر بانی کے لئے کھڑے نہ ہوں تو کیا کریں آپکا خیال ہے یہاں کچھ قانون کی مطابق چل رہا ہے،کونسا قانون ہے۔ہم عدلیہ اور آزاد میڈیا کے لئے کھڑے ہیں۔ہم اپنے دفاع میں آپ لوگوں(میڈیا)کو پیش کریں گے۔انکو تو جیل میں ڈالنے کا بہانہ چاہیئے،کس کس کو ڈالیں گے جیل میں۔بانی کہہ چکے کہ پاکستان اسی طرف جا رہا ہے جس طرف نیپال،بنگلہ دیش اور سری لنکا گئے۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
بانی سے سابق آرمی چیف کی ملاقات کے بارے میں بیرسٹر گوہر سے پوچھا تھا ۔بانی سے ملنے کوئی نہیں گیا،یہ فیک ہے،جان بوجھ کر دیا انفارمیشن پھیلا رہے ہیں ۔
جب انکو لگتا ہے ٹمپریچر اوپر جا رہا ہے،اسکو ٹھنڈا کرنے کے لئے یہ باتیں شروع ہو جاتی ہیں ڈیل کی ۔میں نے بیرسٹر گوہر سے محسن نقوی کی ملاقات کا پوچھا تھا تو انھوں نے کہا تھا کہ ملے ہیں ۔
بیرسٹر گوہر ن نے کہا محسن نقوی کہتے ہیں کہ کل آپ کی ملاقات کروا دیتے ہیں ۔میں نے کہا وہ جھوٹ بولتے ہیں آپ ان کو کہیں کہ وہ بانی کو اسپتال میں علاج کروائیں۔بیرسٹر گوہر کو کہا تھا کہ آپ نے ملاقات کرنی ہوتو ہم سب کو بتا دو،اسی طرح ہونا چاہیئے ۔کچھ نہیں ہو رہا،اپکو نظر آرہا ہے کہ کچھ ہو رہا ہے ۔یہ خوف سے بھرے ہوئے ہیں،یہ خوف نظر نہیں آرہا،اج سڑک پر کرفیو لگا دیا ہے ۔وہ کہتے ہیں بشری بی بی کی بیٹی سے ملاقات کے بعد سوال میں پوچھنا ۔انکا مطلب یہ ہے کہ بانی کی صحت کے بارے میں نہیں پوچھنا ۔مجھے نہیں پتہ یہ ملاقاتیں کس مقصد کے لئے ہوتی ہیں۔ہمیں یہ پتہ ہے یہ ڈرے ہوئے ہیں،حکومت یہ چیزیں کرکے اپنا خوف دکھا رہی ہے ۔نئی سیاست بانی کو رہا کروانا ہے،جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
جب آپ ووٹ چوری کرو گے تو اسکے نتائج کیا ہوں گے؟جب وہ بے بسی محسوس کریں گے آپ جان جان کے جھوٹے الیکشن کروا گے،لاٹھی چارج کرو،یہ ڈرامہ کر رہے ہو،ظلم کر رہے ہیں۔آپ انکے امیدواروں کو مار رہے ہو یہ خوفزدہ لوگ کرتے ہیں ۔یہ پی ٹی آئی کا نہیں لوگوں کا حق ہے،آپ نے کسی کو گرفتار کرلیا،کسی کو جہاز نہیں چڑھنے دیا کیا فرق پڑا ۔ان کے پیچھے عوام نہ کھڑی ہو وہ یہی کرتے ہیں ۔ظلم وہ کرتا ہے جسکے ساتھ عوام نہیں ہوتی ۔وہ بانی کو کہہ رہے ہیں منہ بند رکھو،
نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ
ایران کو دیکھ لیں لیڈر قربانیاں دے رہے یہ انکے لئے نارمل چیز ہے ۔بانی اپنی جان کی قربانی دینے کو تیار ہے،وہ ان لوگوں کے ساتھ کیا ڈیل کرکے نکلے گا ۔ڈیل ایک ہی ہے آزاد عدلیہ،ازاد اور منصفانہ انتخابات ۔آپ عدلیہ ازاد کریں،ازاد منصوبہ انتخابات کون یقینی بناتا ہے آزاد عدلیہ۔
افغانستان اور پاکستان کے دونوں اطراف رشتے دار ہیں ،بانی کہتے ہیں یہ حکومت انکے فیور میں ہے،یہ جان جان کر اس حکومت سے چھیڑا چھاڑی کررہے ہیں ۔اپنے ہمسائے کے ساتھ بہت اچھا بنا کر رکھنی چاہیئے۔
آزاد کشمیر:تعلیمی اداروں میں گرمیوں کی چھٹیوں کا اعلان
افغانستان اپنی زاد خارجہ پالیسی کے تحت روس،چین کے ساتھ معاہدے کرکے ملک کر ترقی کی جانب لیکر جا رہے ہیں ۔آپ نے بارڈر اور ایکسپورٹ بند کرکے ملک بلین ڈالرز کا نقصان کردیا۔ ہم انکے ساتھ ایکسپورٹ بند کریں گے وہ ایران سے لے لیں گے،ایران کی ایکسپورٹ بڑھ جائے گی ۔وہ پارٹیاں نہیں لوٹ مار کی کمپنیاں ہیں،
ہم بھائی کے لئے کھڑے ہیں ہر چیز کریں گے ۔اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کو بانی سے سلیکٹ کیا،کہ وہ میچور سیاستدان ہیں ۔سیدھی سے بات ہے جو انکا قانونی حق ہے وہ دے دیں ۔ بانی کو بھی پتہ ہے ان پر پریشر ڈالیں گے تو میز پر بیٹھیں گے
لاہور بورڈ کا بڑا فیصلہ، داخلہ فارم مکمل طور پر آن لائن کرنے کی تجویز