خیبرپختونخوا: تباہ ہوئے سرکاری ہیلی کاپٹر کا بلیک باکس مل گیا
اشاعت کی تاریخ: 17th, August 2025 GMT
خیبر پختونخوا حکومت کے تباہ ہونے والے ہیلی کاپٹر کا ملبہ جائے حادثہ پر بکھرا ہوا ہے—فوٹو: اے ایف پی
خیبرپختونخوا میں حادثے کا شکار ہونے والی سرکاری ہیلی کاپٹر کا بلیک باکس مل گیا ہے۔
سرکاری حکام کے مطابق بلیک باکس جائے حادثہ سے تقریب 100 میٹر کے فاصلے پر پڑا تھا، پولیس نے اسے متعلقہ حکام کے حوالہ کر دیا ہے۔
حکام کے مطابق بلیک باکس کا ڈیٹا حادثہ کی وجوہات جاننے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
خیبر پختون خوا حکومت نے ہیلی کاپٹر حادثے کی تحقیقات کرانے کا فیصلہ کر لیا۔
اس بلیک باکس سے پائلٹس کی گفتگو سمیت دیگر اہم معلومات حاصل کی جائیں گی۔
سرکاری حکام کے مطابق ہنگامی حالات میں ہیلی کاپٹر میں سائرن بجے یا نہیں یہ بھی تفصیل بلیک باکس سے لی جائے گی۔
واضح رہے کہ 15 اگست کو خیبر پختون خوا حکومت کا امدادی کارروائیوں کے لیے جانے والا ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہو گیا تھا جس میں سوار 2 پائلٹس سمیت 5 افراد شہید ہو گئے تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ہیلی کاپٹر بلیک باکس حکام کے
پڑھیں:
توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔
دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔
اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔
دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔