چین اور پاکستان کے تعلقات کسی تیسرے فریق سے متاثر نہیں ہوں گے، چینی وزارت خارجہ
اشاعت کی تاریخ: 19th, August 2025 GMT
چین اور پاکستان کے تعلقات کسی تیسرے فریق سے متاثر نہیں ہوں گے، چینی وزارت خارجہ WhatsAppFacebookTwitter 0 19 August, 2025 سب نیوز
بیجنگ : چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے یومیہ پریس کانفرنس میں امریکہ پاکستان تعلقات، چین پاک تعلقات اور پاک بھارت تعلقات کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں پاکستان اور امریکہ کے تعلقات، پاکستان اور امریکہ کا آپسی معاملہ ہے ۔
منگل کے روز چین پاکستان تعلقات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ چین اور پاکستان آئرن برادرز ہیں جو ایک مضبوط دوست اور سدا بہار اسٹریٹجک پارٹنر ہیں۔ترجمان کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں چین پاک تعلقات کسی تیسرے فریق سے متاثر نہیں ہوں گے اور یہ تعلقات کسی تیسرے فریق کے خلاف نہیں ہیں ۔
پاک بھارت تعلقات کے بارے میں چینی وزارت خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ بھارت اور پاکستان چین کے اہم ہمسایہ ممالک ہیں اور چین دونوں کے ساتھ دوستانہ اور تعاون پر مبنی تعلقات کے فروغ کے لئے پرعزم ہے ۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرملک میں منکی پاکس کا کیس سامنے آگیا چینی وزیر خارجہ 21 اگست کو دورہ پاکستان پر اسلام آباد پہنچیں گے ٹرمپ زیلینسکی ملاقات، یوکرینی صدر کے لباس پر امریکی صدر نے کیا کہا؟ پی ٹی آئی نومبر احتجاج؛ مزید چار ملزمان کو سزا سنا دی گئی نو مئی مقدمات؛ چیف جسٹس پاکستان کا فریقین کو دستاویزات جلد جمع کروانے کی ہدایت چین اور بھارت کو تعلقات کی بہتری کو مستحکم کرنا ہوگا، چینی وزیر خارجہ اسلام آباد، راولپنڈی اور پشاور سمیت مختلف شہروں میں زلزلے کے جھٹکےCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: تعلقات کسی تیسرے فریق چینی وزارت خارجہ اور پاکستان تعلقات کے اور پاک چین اور
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔