راجیش کھنہ کی موت کے 13 سال بعد، خفیہ بیوی منظر عام پر آگئی
اشاعت کی تاریخ: 19th, August 2025 GMT
بالی ووڈ کے لیجنڈ اداکار راجیش کھنہ کی ذاتی زندگی سے جڑے کئی پہلو آج بھی مداحوں کے لیے پردۂ راز ہیں۔ اداکارہ انیتا اڈوانی نے ایک حالیہ انٹرویو میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے راجیش کھنہ سے خفیہ طور پر شادی کی تھی۔
راجیش کھنہ نے مجھے سندور لگایا اور منگل سوتر پہنایاانیتا نے ایک انڈین میگزین سے گفتگو میں بتایا کہ ’ہمارے گھر میں ایک چھوٹا سا مندر تھا۔ ایک رات انہوں نے میرے لیے منگل سوتر بنوایا، مجھے سونے اور سیاہ رنگ کا چوڑا پہنایا اور ماتھے پر سندور لگاتے ہوئے کہا کہ آج سے تم میری ذمہ داری ہو۔ بس یوں ہماری شادی ہوگئی۔‘
شادی کو خفیہ رکھنے کی وجہانیتا نے کہا ’فلم انڈسٹری میں کوئی اپنی نجی زندگی کھل کر بیان نہیں کرتا۔ ہر کوئی یہی کہتا ہے کہ ہم دوست ہیں یا رشتے میں ہیں۔ چونکہ میڈیا میں پہلے ہی یہ خبر آ چکی تھی کہ میں راجیش کھنہ کے ساتھ ہوں، اس لیے ہم دونوں نے کبھی عوامی سطح پر شادی کا اعلان ضروری نہیں سمجھا۔‘
دِمپل کپاڈیا سے پہلے میری زندگی میں آئیںانیتا کا دعویٰ ہے کہ وہ راجیش کھنہ کی زندگی میں دِمپل کپاڈیا سے پہلے آئی تھیں لیکن اس وقت ان کی عمر بہت کم تھی، اسی وجہ سے شادی نہ ہو سکی۔ یاد رہے کہ راجیش کھنہ نے 1973 میں صرف 16 سالہ دِمپل کپاڈیا سے شادی کی تھی۔ دونوں کی 2 بیٹیاں ہوئیں — ٹوئنکل کھنہ اور رِنکے کھنہ۔ تاہم یہ جوڑا 1982 میں الگ ہوگیا تھا لیکن کبھی طلاق نہیں لی۔
راجیش کھنہ کے آخری لمحات اور انیتا کا شکوہانیتا کا کہنا ہے کہ وہ تقریباً 8 برس تک راجیش کھنہ کے ساتھ ’لِو-اِن ریلیشن شپ‘ میں رہیں۔ اداکار 2011 میں کینسر میں مبتلا ہوئے اور 18 جولائی 2012 کو چل بسے۔ انیتا نے الزام لگایا کہ راجیش کھنہ کے اہل خانہ نے انہیں آخری رسومات میں شریک نہیں ہونے دیا۔
انیتا اڈوانی کا کیریئرواضح رہے کہ انیتا نے 1978 میں فلم شالیمار میں ایک ڈانسر کے طور پر فلمی دنیا میں قدم رکھا، جس میں دھرمیندر اور زینت امان نے مرکزی کردار نبھائے۔ اس کے بعد وہ داسی، چورنی، آؤ پیار کریں اور سازش جیسی فلموں میں نظر آئیں۔ 2013 میں وہ سلمان خان کے شو بگ باس 7 کا بھی حصہ رہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انٹرٹینمنٹ انیتا ایڈوانی راجیش کھنہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انٹرٹینمنٹ راجیش کھنہ راجیش کھنہ کے انیتا نے
پڑھیں:
بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں علامہ اقبال ٹاﺅن مین بلیوارڈکی سروس روڈپربھیکے وال کے نزدیک 10فٹ گہرا شگاف پڑگیا ہے‘اسی طرح جوہر ٹاﺅن مصروف ترین شاہراہ خیابان فردوسی پر ایک اورگڑھا پڑ گیاہے گزشتہ تین روز کے دوران مذکورہ سڑک پریہ دوسرا گڑھا پڑا. بارش کے بعد مرکزی شاہراہ پر گڑھنے پڑنے سے حادثات کا خدشہ بڑھ گیا حکام کے مطابق سڑک کی مرمت کا کام شروع ہوگیا گڑھا پڑنے سے ٹریفک کی روانی جزوی طور پر متا ثر ہوئی دوسری جانب اقبال ٹاﺅن میں بھیکے والے موڑ جانب فاروق ہسپتال سروس روڈ پر 10 فٹ گہرا شگاف پڑ گیا.(جاری ہے)
سڑک کے درمیان پڑنے والے گہرے شگاف کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے شگاف پڑنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، متعلقہ افسران اور واسا کی ٹیمیں موجود ہیں ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکموں نے سروس روڈ پر شگاف پر کرنے کیلئے کام شروع کردیا. واضح رہے کہ 17جولائی کو ہونے والی بارش سے فیروزپور روڈ پرنشتر کالونی کے قریب سروس روڈ کا ایک حصہ بیٹھ گیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کھڑی تین موٹر سائیکلیں گڑھے میں جا گریں تھیں. شہریوں کا کہنا ہے کہ پورے شہر کے اندر یہی حال ہے بارشوں میںمتوسط آبادیوںکے اندر سڑکوں کے بیٹھ جانے کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں مگر انہیں کوریج نہیں ملتی‘نجی یونیورسٹی کے لیکچرار معاذالاسلام سول انجینئرنگ پڑھاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں سب سے زیادہ بدعنوانی اس شعبے میں ہے ناقص میٹریل اور زمین کی کمپریشن عالمی لیول کی نہیں کی جاتی . ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکے دار اب کئی دن مٹی کو کمپریس کرنے میں نہیں لگا اور نہ ہی میٹریل ڈالنے کے بعد ٹھیک طریقے سے اسے کمپریس کیا جاتا ہے ‘مٹی نرم ہونے سے اگر پانی راستہ بنالے تو چند ہفتوں میں ہی اس ایریا کے نیچے زمین کھوکھلی ہوجاتی ہے اور بارشوں کے دوران شگاف پڑنے لگتے ہیں. انہوں نے بتایا کہ لاہور فیصل آباد موٹر وے کو جب تجرباتی طور پرچھوٹی گاڑیوں کے لیے کھولا گیا تھا تو لاہور سے فیصل آباد کے سفر کے دوران انہوں نے نوٹ کیا تھا کہ کئی سو ارب کی لاگت سے بنی اس سڑک میں لیول کا بھی خیال نہیں رکھا تھا اور یہ موٹروے مکمل طور پر ناہموار تھا جس پر انہوں نے کچھ دیگر انجینئرز کے ساتھ مل کر ایک تجزیاتی رپورٹ این ایچ اے اور پنجاب حکومت کو ارسال کی تھی تاہم آج تک ہمیں اس پر کوئی جواب نہیں ملا.