بھارت کی میزبانی میں ایشیا ہاکی کپ، پاکستان کے بعد عمان کا بھی شرکت سے انکار
اشاعت کی تاریخ: 19th, August 2025 GMT
پاکستان کے بعد عمان نے بھی بھارت کی میزبانی میں ہونے والے ایشیا ہاکی کپ میں شرکت سے انکار کردیا۔
ذرائع کے مطابق عمان نے تحریری طور پر منتظمین کو آگاہ کردیا ہے۔
ایشیا ہاکی کپ 29 اگست سے بھارتی ریاست بہار کے شہر راج گیر میں کھیلا جانا ہے جو ورلڈکپ کا کوالیفائنگ راؤنڈ بھی ہے۔
پاکستان کی ٹیم سیکیورٹی وجوہات کی بناء پر بھارت نہیں جارہی ہے۔
پاکستان کی جگہ بنگلہ دیش ایشیا ہاکی کپ میں حصہ لینے کو تیار ہے۔ بنگلہ دیش ٹیم کا تربتی کیمپ بھی ڈھاکہ میں شروع ہوچکا ہے۔
عمان کی دستبرداری کے بعد قازقستان کی ہاکی ایشیا کپ میں شمولیت کا امکان ہے۔
ایشن ہاکی فیڈریشن اور بھارت ہاکی فیڈریشن حکام کی جانب سے دو روز میں ایشیا ہاکی کپ کا شیڈول سامنے آسکتاہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایشیا ہاکی کپ
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔