ایشیا کپ ہاکی: پاکستان اور عمان کی جگہ بنگلہ دیش اور قازقستان شامل
اشاعت کی تاریخ: 19th, August 2025 GMT
بھارت میں 29 اگست سے شروع ہونے والے ایشیا کپ مردوں کے ہاکی ٹورنامنٹ کے لیے پاکستان اور عمان کی جگہ بنگلہ دیش اور قازقستان کو شامل کر لیا گیا ہے۔ یہ اعلان منگل کے روز جاری کیے گئے شیڈول میں کیا گیا۔
میزبان بھارت کو پول اے میں چین، جاپان اور قازقستان کے ساتھ رکھا گیا ہے، جبکہ پول بی میں ملیشیا، کوریا، چائنیز تائپے اور بنگلہ دیش شامل ہیں۔
مزید پڑھیں: پاکستان ہاکی ٹیم بھارت کی مہمان بنے گی یا نہیں؟ پی ایچ ایف عدم شرکت کے ’مبینہ‘ حکومتی فیصلے سے لاعلم
افتتاحی میچ 29 اگست کو ملیشیا اور بنگلہ دیش کے درمیان کھیلا جائے گا، جبکہ اسی روز بھارت اپنا پہلا میچ چین کے خلاف کھیلے گا۔ فائنل، تیسری پوزیشن اور پانچویں/چھٹی پوزیشن کے میچز 7 ستمبر کو ہوں گے۔
بھارتی حکومت نے اعلان کیا تھا کہ پاکستانی کھلاڑیوں کو ویزے جاری کیے جائیں گے، تاہم پاکستان ہاکی فیڈریشن (PHF) نے سیکیورٹی خدشات کے باعث بھارت آنے سے انکار کر دیا۔ ٹورنامنٹ منتظمین نے پیشگی طور پر پاکستان کی جگہ بنگلہ دیش سے رابطہ کر رکھا تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایشیا کپ ہاکی بنگلادیش بھارت پاکستان عمان قزاقستان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایشیا کپ ہاکی بنگلادیش بھارت پاکستان قزاقستان بنگلہ دیش
پڑھیں:
بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
بھارتی شہر کولکتہ کے علاقے لیک ٹاؤن میں نصب فٹبال لیجنڈ لیونل میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ مقامی رہائشیوں کی شکایات کے بعد ہٹا دیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شہریوں کا کہنا تھا کہ تیز ہواؤں کے دوران یہ دیوقامت ڈھانچہ ہلتا محسوس ہوتا تھا جس سے حفاظتی خطرات پیدا ہو رہے تھے۔
میسی کا یہ مجسمہ گزشتہ سال دسمبر میں نصب کیا گیا تھا اور اسے 2022 فیفا ورلڈ کپ کے فاتح کپتان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
مجسمے میں ارجنٹائن کے سپر اسٹار کو ورلڈ کپ ٹرافی تھامے ہوئے دکھایا گیا تھا جو ان کی تاریخی کامیابی کی یادگار کے طور پر بنایا گیا تھا۔
یہ یادگار میسی کے مداحوں کی جانب سے ان کے بھارت کے دورے کے موقع پر وی آئی پی روڈ کے کنارے قائم کی گئی تھی۔
View this post on Instagramتاہم حالیہ دنوں میں مقامی افراد نے انتظامیہ کو آگاہ کیا کہ تیز ہوا چلنے پر مجسمہ معمولی طور پر جھولتا نظر آتا ہے جس سے راہگیروں اور قریبی آبادی کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
حکام نے عوامی تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے مجسمے کو عارضی طور پر ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اس کے مستقبل کے بارے میں تاحال کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔