پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان توانائی و معدنی شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق
اشاعت کی تاریخ: 19th, August 2025 GMT
پاکستان اور بنگلہ دیش نے معاشی وتوانائی تعلقات کو مزید فروغ دینے پراتفاق کیا ہے، دونوں ممالک نے توانائی اور معدنی شعبوں میں دوطرفہ ترقی کے نئے مواقع تلاش کرنے پر زور دیا ہے جن میں کوئلہ، چونا اور پیٹرولیم مصنوعات شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان بنگلہ دیش کو چاول برآمد کرے گا
یہ پیشرفت وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم علی پرویز ملک اور پاکستان میں تعینات بنگلہ دیش کے ہائی کمشنر محمد اقبال حسین کے درمیان وزارتِ پٹرولیم میں ہونے والی ملاقات کے دوران سامنے آئی۔
Federal Minister for Petroleum, Mr.
The meeting explored potential avenues for partnership in the exploration sector, trade of limestone, coal, and petroleum products. pic.twitter.com/9Fvpgj8llv
— Petroleum Division, Ministry of Energy (@Official_PetDiv) August 19, 2025
منگل کو جاری بیان کے مطابق بات چیت میں دوطرفہ تعاون کو مضبوط بنانے پر توجہ دی گئی، خاص طور پر چونے کے پتھر، کوئلے اور پیٹرولیم مصنوعات کے شعبوں میں، تاکہ دونوں ممالک کی معاشی ترقی اور توانائی کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔
اس موقع پر وفاقی وزیر علی پرویز ملک کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم شہباز شریف اپنے بنگلہ دیشی بھائیوں کی حمایت اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے خواہاں ہیں، پاکستان بنگلہ دیش کے ساتھ اپنے تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور مشترکہ منصوبوں میں دلچسپی رکھتا ہے جو دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ہوں۔
مزید پڑھیں:پاکستان، بنگلہ دیش ویزا فری معاہدہ، بھارت کو پریشانی کیوں لاحق ہوئی؟
ملاقات میں معدنی وسائل کی تلاش، چونے کے پتھر، کوئلے اور پیٹرولیم مصنوعات کی تجارت میں شراکت داری کے امکانات پر بھی غور کیا گیا، دونوں ممالک نے علم کے تبادلے اور سرمایہ کاری کے مواقع کی اہمیت پر زوردیا تاکہ ان شعبوں کی مکمل صلاحیت کو استعمال میں لایا جا سکے۔
بنگلہ دیشی ہائی کمشنر نے پاکستان کی جانب سے معاشی اور توانائی تعاون بڑھانے کے جذبے کو سراہا اور کہا کہ ایسا تعاون خطے کے استحکام اور خوشحالی میں مددگار ہوگا، انہوں نے پاکستان کے ساتھ تجارتی و سرمایہ کاری روابط کو وسعت دینے میں گہری دلچسپی کا اعادہ کیا۔
یہ ملاقات پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات کو مزید گہرا کرنے اور توانائی و معدنی شعبوں میں نئے مواقع تلاش کرنے کے عزم کی عکاس ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بنگلہ دیش کے دونوں ممالک
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری
8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔
وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔
مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم
وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔
????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States
????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026
آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔
مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے
بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی