UrduPoint:
2026-07-24@09:19:50 GMT

چینی وزیر خارجہ وانگ ژی 21 اگست کو پاکستان کا دورہ کریں گے

اشاعت کی تاریخ: 19th, August 2025 GMT

چینی وزیر خارجہ وانگ ژی 21 اگست کو پاکستان کا دورہ کریں گے

اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔19 اگست ۔2025 )چینی وزیر خارجہ وانگ ژی 21 اگست کو پاکستان کا دورہ کریں گے، ان کے دورے کے دوران چھٹا پاک چین وزرائے خارجہ اسٹریٹجک ڈائیلاگ اسلام آباد میں ہوگا نجی ٹی وی کے مطابق ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی دعوت پر وانگ ژی دورہ پاکستان پر آئیں گے، پاک چین اسٹریٹجک ڈائیلاگ کی مشترکہ صدارت وانگ ژی اور اسحاق ڈار کریں گے.

(جاری ہے)

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ چینی وزیر خارجہ کا یہ دورہ اعلیٰ سطح کے روابط اور تعلقات کو مزید گہرا کرنے کا ذریعہ ہے چینی وزیر خارجہ کے دورے کے دوران پاک چین تجارتی و معاشی تعاون مزید بڑھانے پر اتفاق کیا جائے گا ترجمان کے مطابق وزیرخارجہ نے چینی ہم منصب وانگ ژی سے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ اجلاس کے موقع پر ملاقات کی تھی اور اس موقع پر چین کی قیادت کی جانب سے دی گئی پرخلوص مہمان نوازی پر شکریہ ادا کیا تھا.

دونوں رہنماو¿ں کے درمیان باہمی دلچسپی کے اہم امور پر جامع تبادلہ خیال کیا گیا تھا جن میں چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) اور کثیرالجہتی تعاون شامل تھے انہوں نے پاکستان اور چین کی ہر موسم کی تذویراتی شراکت داری کی مضبوطی پر زور دیا اور مختلف شعبوں میں جاری قریبی تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا تھا. واضح رہے کہ گزشتہ روزچینی وزیرخارجہ نے نئی دہلی میں بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر سے ملاقات کی ‘چینی وزیر خارجہ پیر کے روز دوروزہ دورے پر بھارتی دارالحکومت پہنچے وہ انڈیا کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول کے ساتھ سرحدی مذاکرات کے 24ویں دور میں شریک ہوں گے اور وزیر اعظم نریندر مودی سے بھی ملاقات کریں گے.

بھارتی وزیرخارجہ نے چینی ہم منصب سے ملاقات کے موقع پر کہا کہ پڑوسیوں کے درمیان تعلقات میں گرمجوشی صرف اسی صورت میں پیدا سکتی ہے جب ان کی سرحد پر امن ہو جے شنکر نے کہا کہ سرحدی مسائل پر بات چیت بہت اہم ہے کیونکہ ہمارے تعلقات میں کسی بھی مثبت رفتار کی بنیاد سرحدی علاقوں میں مشترکہ طور پر امن و سکون کو برقرار رکھنے کی صلاحیت ہے. انڈین وزیر خارجہ جے شنکر نے کہا کہ دونوں ممالک کے لیے یہ بھی اہم ہے کہ وہ 2020 میں ایک خونی سرحدی جھڑپ کے بعد سے مغربی ہمالیہ میں اپنی متنازع سرحد پر جمع اپنی فوجوں کو واپس بلا لیں خیال رہے کہ وانگ ژی کا یہ دورہ مودی کے چین کے سفر سے چند دن پہلے ہوا ہے یہ ان کا سات برس میں پہلا دورہ ہے جس کا مقصد شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس میں شرکت کرنا ہے واضح رہے کہ یہ ایک علاقائی سیاسی اور سکیورٹی گروپ جس کا روس بھی حصہ ہے دونوں بڑے ممالک میں تعلقات میں برف اس وقت پگھلنے لگی جب اکتوبر میں نئی دہلی اور بیجنگ کے سربراہان نے روس میں بات چیت کے بعد اپنی ہمالیائی سرحد پر فوجی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ایک اہم معاہدہ کیا. 

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے چینی وزیر خارجہ وانگ ژی کریں گے

پڑھیں:

شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کا دوٹوک مؤقف، یکطرفہ طاقت کے استعمال پر سخت تنقید کردی

چولپون آتا (کرغزستان): ایران نے شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ اجلاس میں یکطرفہ پالیسیوں، بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی اور طاقت کے غیر قانونی استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کثیرالجہتی تعاون کو موجودہ عالمی حالات میں ناگزیر قرار دیا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کرغزستان کے سیاحتی شہر چولپون آتا میں جاری اجلاس کے موقع پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ایران شنگھائی تعاون تنظیم اور اس جیسے دیگر کثیرالجہتی فورمز کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا میں بڑھتی ہوئی یکطرفہ پالیسیاں، ریاستوں کے درمیان طے پانے والے معاہدوں کی خلاف ورزیاں اور طاقت کا غیر قانونی استعمال بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے منشور اور عالمی قانونی نظام کی بنیادوں کو کمزور کر رہے ہیں۔

اگرچہ اسماعیل بقائی نے کسی ملک کا نام نہیں لیا، تاہم انہوں نے ماضی میں بھی اسی نوعیت کے بیانات میں امریکا کی خارجہ پالیسی اور اس کے اقدامات پر تنقید کی ہے۔

ایران 2023 میں شنگھائی تعاون تنظیم کا باقاعدہ رکن بنا تھا۔ یہ تنظیم چین اور روس کی قیادت میں قائم ایک اہم یوریشیائی سیاسی، اقتصادی اور سکیورٹی فورم ہے، جس میں پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک شامل ہیں۔

وزرائے خارجہ کا یہ اجلاس تنظیم کے آئندہ سربراہی اجلاس کی تیاریوں کا حصہ ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آئندہ سربراہ اجلاس میں علاقائی سلامتی، تجارتی روابط، اقتصادی تعاون اور رکن ممالک کے درمیان شراکت داری کے فروغ جیسے اہم موضوعات پر غور کیا جائے گا۔

We are in Cholpon-Ata, Kyrgyzstan, to participate in the meeting of the Council of Foreign Ministers of the Shanghai Cooperation Organization (SCO) Member States.

Iran attaches great importance to the SCO and similar multilateral arrangement, which represent a vital force for… pic.twitter.com/CCGd7mxcL8

— Esmaeil Baqaei (@IRIMFA_SPOX) July 24, 2026

تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ عالمی کشیدگی کے تناظر میں شنگھائی تعاون تنظیم کے پلیٹ فارم پر ہونے والی یہ ملاقاتیں خطے میں سفارتی تعاون اور مشترکہ حکمت عملی کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایس سی او اجلاس: اسحاق ڈار کا علاقائی امن اور تعاون کے فروغ کے عزم کا اعادہ
  • ایس سی او اجلاس کے موقع پر پاک چین وزرائے خارجہ کی ملاقات، علاقائی امن اور تعاون پر تبادلۂ خیال
  • شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کا دوٹوک مؤقف، یکطرفہ طاقت کے استعمال پر سخت تنقید کردی
  • عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
  • ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کا آغاز، اسحاق ڈار کی شرکت
  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان