نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی سابق بنگالی وزیراعظم خالدہ ضیا سے ملاقات، باہمی دلچسپی کے امور پر گفتگو
اشاعت کی تاریخ: 24th, August 2025 GMT
پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اپنے دورۂ بنگلہ دیش کے دوران سابق بنگالی وزیراعظم خالدہ ضیا سے ملاقات کی۔
وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی چیئرپرسن اور سابق وزیراعظم بیگم خالدہ ضیا سے ڈھاکا میں ملاقات کی جس میں باہمی تعلقات، سیاسی و اقتصادی تعاون اور خطے کی صورتحال پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔
یہ بھی پڑھیے: میرے اور شہباز شریف کے ویژن میں مطابقت، خطے میں تعاون کے دروازے کھولنے چاہییں، پروفیسر یونس
ملاقات میں بی این پی کے سیکرٹری جنرل مرزا فخرالاسلام بھی شریک تھے۔ اسحاق ڈار نے وزیراعظم پاکستان اور عوام کی جانب سے بیگم خالدہ ضیا کی صحت و عافیت کے لیے نیک خواہشات بھی پہنچائیں۔
اس سے قبل ڈپٹی وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے اتوار کو اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس جمنہ میں چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس سے بھی ملاقات کی۔
اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کے فروغ، تجارت میں اضافے، نوجوانوں کے مابین تبادلوں، تعلیمی و ثقافتی روابط کو مضبوط بنانے اور علاقائی تعاون خصوصاً سارک کو فعال کرنے پر تبادلہ خیال کیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسحاق ڈار بنگلہ دیش خالدہ ضیا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسحاق ڈار بنگلہ دیش خالدہ ضیا اسحاق ڈار نے خالدہ ضیا
پڑھیں:
پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
روم: پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم کر دی گئی۔پاکستان کے سفیر علی جاوید اور اٹلی کی وزارتِ خارجہ کے سیکرٹری جنرل، عزت مآب سفیر ریکارڈو گوارِیلیا نے حال ہی میں ایک ایسے معاہدے پر دستخط کئے ہیں. جس کے تحت سفارتی پاسپورٹ رکھنے والے افراد کیلئے ویزا کی شرط ختم کر دی گئی ہے. معاہدے پر دستخط کی پُروقار تقریب اٹلی کی وزارتِ خارجہ میں روم میں منعقد ہوئی۔تقریب سے قبل دونوں اعلیٰ حکام کے درمیان ون آن ون ملاقات ہوئی. دونوں فریقوں نے پاکستان اور اٹلی کے درمیان تزویراتی تعاون کی مضبوطی، وسعت اور مسلسل ترقی پر اطمینان کا اظہار کیا۔اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان روایتی طور پر دوستانہ اور تعمیری دوطرفہ تعلقات کا جامع جائزہ لیا گیا، جبکہ اقوامِ متحدہ اور یورپی یونین سمیت مختلف بین الاقوامی فورمز پر جاری تعاون پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔دونوں جانب سے اس معاہدے کو باہمی اعتماد اور دوستی کی عکاسی قرار دیا گیا اور اسے موجودہ دوطرفہ تعاون کے نظام میں ایک اہم اضافہ قرار دیا گیا. معاہدے سے سفارتی وفود کے تبادلوں میں آسانی پیدا ہوگی اور دونوں ممالک کے درمیان روابط مزید مستحکم ہوں گے۔پاکستان اور اٹلی کے درمیان اس وقت متعدد نئے معاہدوں پر غور جاری ہے. اس کے علاوہ دونوں ممالک کی جامعات اور تحقیقی اداروں کے درمیان 21 مفاہمتی یادداشتیں (MoUs) موجود ہیں، جبکہ سیاحت، ثقافت، سائنس و ٹیکنالوجی، کھیل، اعلیٰ دفاعی مطالعات اور منشیات کی سمگلنگ کے خلاف تعاون سمیت مختلف شعبوں میں دونوں حکومتوں کے درمیان 15 معاہدے طے پا چکے ہیں۔دفاعی تعاون کا معاہدہ 2009 میں طے پایا، جبکہ 2013 میں دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان سٹریٹجک انگیجمنٹ پلان قائم کیا گیا، اسی طرح مشترکہ اقتصادی کمیشن 2005 میں تشکیل دیا گیا، سرمایہ کاری کے تحفظ کا معاہدہ 1997 میں طے پایا، دوہری شہریت کا معاہدہ 1983 میں جبکہ حوالگیِ ملزمان (Extradition) کا معاہدہ 1972 میں دستخط کیا گیا تھا۔اس سے قبل 7 مئی 2025 کو اسلام آباد میں پاکستان اور اٹلی کے درمیان ’’لیبر موبیلٹی اینڈ مائیگریشن‘‘ کے موضوع پر ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے تھے، جو کسی یورپی ملک کے ساتھ پاکستان کا پہلا باقاعدہ لیبر معاہدہ ہے، اس معاہدے کے تحت پاکستانی افرادی قوت کو اٹلی میں پاکستانی شہریوں کیلئے مختص 10,500 ملازمتوں کے کوٹے سے فائدہ اٹھانے کا موقع حاصل ہوگا۔پاکستانی سفیر نے سیکرٹری خارجہ کی جانب سے سیکرٹری جنرل کو ساتویں دورِ دوطرفہ سیاسی مشاورت میں شرکت کیلئے پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی، انہوں نے 2026 کی آخری سہ ماہی میں اس اجلاس کے انعقاد کیلئے پاکستان کی آمادگی سے آگاہ کیا اور اسلام آباد میں اٹلی کے نئے سفارت خانے کے افتتاح کی خواہش کا اظہار کیا، جو اٹلی کا بیرونِ ملک سب سے بڑا سفارتی مشن ہوگا. اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیا۔