مون سون سیزن کا ایک اسپیل ختم ہو گیا جس نے کے پی کے، بلوچستان، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور پنجاب و سندھ کے بیشتر علاقوں کو سیلابی ریلوں میں ڈبو دیا۔
600 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے، مکانات کی چھتیں گرنے، کرنٹ لگنے، ملبے تلے دبنے، سیلابی پانی میں ڈوب جانے اور آسمانی بجلی گرنے سمیت مختلف حادثات میں اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کی اموات سے نہ صرف متاثرہ خاندانوں کے دکھوں اور مسائل میں اضافہ ہوا بلکہ کئی گھرانے اپنے سرپرستوں کی محرومی سے مستقبل کے گہرے صدمات و خدشات اور وسوسوں کی دلدل میں اتر گئے ہیں۔ کراچی تا خیبر ہونے والی شدید بارشوں، سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور حادثات میں ہونے والے جانی و مالی نقصانات کی تلافی کے لیے وفاقی حکومت سے لے کر صوبائی حکومتوں نے جو بھی امداد فراہم کی اور چیک کی صورت میں متاثرین کو چند لاکھ کی جو امداد فراہم کی گئی وہ یقینی طور پر ان کے نقصانات کی مکمل تلافی نہیں کر سکتی ہے۔
بارش اور سیلاب کی تباہ کاریوں کی بازگشت بیرون ملک میں سنی گئی اور غیر ممالک کی جانب سے بھی امداد آ رہی ہے، کاش وہ پوری کی پوری امداد حق دار متاثرین اور مستحقین تک پہنچ جائے ورنہ ماضی کی تاریخ گواہ ہے کہ زلزلوں، سیلابوں اور بارشوں کی تباہی کے حوالے سے بیرون ملک سے آنے والی امداد میں بدعنوانی اور خورد برد کے قصے اخبارات کی زینت بنتے رہے ہیں۔
وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف نے کے پی کے متاثرین کو امدادی چیک تقسیم کرتے وقت بڑے دل دوز انداز میں بارشوں، سیلابوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے اسباب و عوامل پر روشنی ڈالتے ہوئے جن انسانی غلطیوں، کوتاہیوں اور لغزشوں کا تذکرہ کیا ہے اور آیندہ ایسے سانحات کے سدباب کے لیے پاکستان کو ایک سخت ریاست بننے کا جو پیغام دیا ہے اس میں غور و فکر کا بڑا سامان موجود ہے۔
وزیر اعظم نے بالکل درست نشان دہی کی کہ آبی گزرگاہوں کے عین بیچ اور کناروں پر ہوٹل، مکانات اور دیگر تجاوزات قائم کرنے سے نقصانات کا دائرہ وسیع ہو گیا۔ لوگوں نے غیر قانونی طور پر ازخود اور تجاوزات کی حوصلہ افزائی کرنے والے سرکاری اہلکاروں اور مافیا کی سرپرستی میں دریاؤں کے اندر تعمیرات کر رکھی ہیں جو تفریح کے لیے ان خوب صورت مقامات پر آنے والوں سے ان کے لیے پیسہ کمانے کا ذریعہ بن گئی ہیں۔
المیہ یہ کہ کوئی متعلقہ حکومتی ادارہ ان تجاوزات کو روکنے کے لیے اقدامات کرتا اور ایسے لوگوں کی حوصلہ شکنی کی جاتی بلکہ رشوتوں کے طفیل ایسے مافیاز کی حوصلہ افزائی کی گئی جس کا نتیجہ آج ہمارے سامنے ہے کہ لوگ اپنی جانوں سے بھی گئے اور مال و اسباب بھی تباہ ہو گیا۔ غیر قانونی کان کنی اور اسٹون کرشنگ کے پہلو بہ پہلو جنگلات کی کٹائی کرکے ٹمبر مافیا نے بھی اس تباہی میں اپنا حصہ ڈالا ہے اور وزیر اعظم نے اس جانب اشارہ کرتے ہوئے دو ٹوک لفظوں میں ماحولیاتی قانون سازی کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہوئے شجرکاری کی ضرورت پر زور دیا ہے تاکہ آنے والے کل میں ہمیں آج جیسے خطرناک مسائل اور مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ چار روز بعد دوسرا اسپیل بھی شروع ہونے والا ہے۔ محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کے مطابق بارشوں کا دوسرا اسپیل پہلے کے مقابلے میں زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
صرف پاکستان نہیں بلکہ دنیا کے بیشتر ممالک میں بارشیں اور سیلاب اور گلیشیئر کا پگھلنا ایک معمول کا عمل ہے۔ دور اندیش حکمران آنے والے کل کے خطرات سے نمٹنے کے لیے پہلے ہی اقدامات اٹھا لیتے ہیں۔ بڑے بڑے سونامی سے بھی وہ آسانی سے گزر جاتے ہیں۔ بنگلہ دیش سے لے کر جاپان تک، ناروے اور سوئیڈن سے لے کر فن لینڈ اور کینیڈا تک اور امریکا و برطانیہ سے لے کر روس تک بارشیں، سیلاب، سونامی، آندھیاں اور طوفان سب اپنا رنگ دکھاتے ہیں۔
اس کے باوجود وہاں زندگی رواں دواں رہتی ہے۔ نہ اسکول بند ہوتے ہیں، نہ مارکیٹیں اور نہ ہی کارخانے اور ٹریفک، بلکہ سب چلتا رہتا ہے۔ نہ کہیں پانی کھڑا ہوتا ہے اور نہ سیکڑوں ہزاروں لوگ لقمہ اجل بنتے ہیں لیکن ہمارے وطن عزیز میں چند ملی میٹر بارش پورے شہر کو ڈبو دیتی ہے۔ ایک سیلابی ریلا گاؤں اور دیہاتوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دیتا ہے۔ ہمارے ہاں نہ کوئی ٹھوس منصوبہ بندی ہے اور نہ ہی کوئی ایسا سسٹم اور نہ ہی کوئی ایسا ادارہ جو آنے والے خطرات سے قبل از وقت آگاہی دے سکے اور لوگ اپنی جان و مال کی حفاظت کا کوئی سامان کر سکیں۔
ابھی چار روز پیشتر گلگت بلتستان کے ضلع غذر کے علاقے گوپی میں گلیشیئر پھٹنے سے آنے والے سیلابی ریلوں نے کئی دیہات کو ڈبو دیا، حسب سابق پاک فوج نے یہاں بھی بروقت امدادی کارروائیاں کرکے لوگوں کو محفوظ مقامات تک پہنچایا۔ اخباری اطلاعات کے مطابق پہاڑ پر موجود ایک چرواہے نے ٹیلی فون پر گلیشیئر پھٹنے کی اطلاع گاؤں والوں کو دی جس کے بعد فوری طور پر لوگوں کو محفوظ مقامات تک پہنچا دیا گیا۔ ورنہ بڑا جانی نقصان ہو سکتا تھا۔
کیا ہم اس چرواہے سے بھی گئے گزرے ہیں، جو ملک میں ہر شعبہ زندگی میں کرپشن و بدعنوانی کو فروغ دینے کا سبب بن رہے ہیں؟ سخت ریاست بننے کے لیے چرواہے سے ہی کوئی سبق سیکھ لیں تو اس ملک کی تقدیر بدل سکتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: آنے والے سے لے کر سے بھی اور نہ ہے اور
پڑھیں:
پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
راولپنڈی (آئی پی ایس )فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا۔راولپنڈی میں جنرل ہیڈ کوارٹرز میں 20ویں قومی ورکشاپ کے دوران بلوچستان سے تعلق رکھنے والے شرکا سے گفتگو کرتے ہوئے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز کی کوششیں اور عوامی حمایت بلوچستان میں دیرپا امن کے قیام کا باعث بنیں گی، جبکہ امن و استحکام کے لیے فورسز اور عوام کا تعاون ناگزیر ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل نے کہا کہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، انہوں نے دہشتگردی کے بنیادی ڈھانچے کے خاتمے اور پاکستان کے خلاف سرگرم عناصر کے مکمل سدباب کے عزم کا اعادہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ غیر ملکی سرپرستی میں سرگرم پراکسیز بلوچستان کے امن کو خراب کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، تاہم مسلح افواج عوامی حمایت کے ساتھ دشمن کے تمام مذموم عزائم ناکام بنائیں گی۔ فیلڈ مارشل نے دہشتگردی کے خلاف جاری اقدامات اور قومی سلامتی کے لیے اجتماعی کوششوں کی اہمیت پر زور دیا۔ اس موقع پر ورکشاپ کے شرکا نے پاکستان کے استحکام، ترقی اور خودمختاری کے لیے اپنے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبرصدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ اگلی خبرپاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیاCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم