لاہور میں آئندہ ہفتے سے کچرا اٹھانے کے بل بھیجے جائیں گے
اشاعت کی تاریخ: 25th, August 2025 GMT
لاہور(نیوز ڈیسک) پنجاب کے دارالحکومت کے شہریوں کو آئندہ ہفتے لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی (ایل ڈبلیو ایم سی) کی جانب سے کچرا اٹھانے کے بل موصول ہونا شروع ہو جائیں گے۔
ترجمان ایل ڈبلیو ایم سی کے مطابق ابتدائی مرحلے میں پوش علاقوں اور کمرشل مارکیٹس کو فی مرلہ کے حساب سے بل بھیجے جائیں گے، جبکہ 9 ٹاؤنز میں مرحلہ وار سینی ٹیشن بل تقسیم کیے جائیں گے۔ یہ بل ریونیو اور آپریشنل فیلڈ سپروائزرز کے ذریعے شہریوں تک پہنچائے جائیں گے۔
بل کی تفصیلات
لاہور میں 5 تا 40 مرلہ عمارتوں کو 300 سے 5000 روپے تک بل ملے گا۔
دیہی علاقوں میں اسی سائز کی عمارتوں پر 200 سے 400 روپے بل وصول کیا جائے گا۔
شہری بل بینک اور آن لائن کیش ایپلی کیشنز کے ذریعے بھی ادا کر سکیں گے۔
ترجمان کے مطابق سینی ٹیشن بلوں کی پرنٹنگ جاری ہے اور اگلے ہفتے سے ان کی ترسیل شروع ہو جائے گی۔ یہ بل پنجاب کابینہ کی منظوری کے بعد نافذ کیے گئے ہیں۔
پس منظر
حکومت پنجاب نے 7 اگست کو صوبے بھر میں ماہانہ صفائی فیس عائد کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
رہائشی علاقوں میں فیس 200 روپے سے شروع ہوگی۔
کمرشل علاقوں میں زیادہ سے زیادہ 5000 روپے ماہانہ فیس لی جائے گی۔
شہری اور دیہی علاقوں میں فیس کی شرح مختلف ہوگی۔
محکمہ بلدیات پنجاب کے مطابق بلنگ کا عمل بتدریج ڈیجٹائز کیا جائے گا تاہم ابتدائی طور پر 2 ماہ کے بل پرنٹ کرکے دیے جائیں گے۔
Post Views: 4.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: علاقوں میں جائیں گے
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔