لاہور؛ 12 سالہ بچی کو بازار میں ہراساں کرنے والا دکاندار گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 25th, August 2025 GMT
لاہور:
ہنجروال پولیس نے 15 کال پر بروقت کارروائی کرتے ہوئے 12 سالہ بچی کو ہراساں کرنے والے دکاندار کو گرفتار کر لیا۔
ترجمان پولیس کے مطابق 12 سالہ بچی اپنی خالہ کے ساتھ خریداری کے لیے اتوار بازار گئی تھی، دکاندار ملزم ثناء اللہ نے اریبہ کا ہاتھ پکڑ لیا اور چھیڑ چھاڑ کرنے لگا۔
ایس پی ڈاکٹر محمد عمر نے بتایا کہ ملزم ثناء اللہ نے بچی کو فزیکلی اور جنسی طور پر ہراساں کیا۔
ترجمان پولیس کے مطابق ملزم ثناء اللہ کے خلاف بچی کے والد مشتاق کی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا گیا، ہنجروال پولیس نے ملزم کو ہیومین ریسورس اور جدید ٹیکنالوجی سے فوری گرفتار کر لیا۔
ایس پی ڈاکٹر محمد عمر نے ایس ایچ او ہنجروال عدیل انجم اور پولیس ٹیم کو شاباش دی۔ انہوں نے کہا کہ خواتین اور بچیوں کو حراساں کرنے والوں کے خلاف کوئی کسر نہ چھوڑی جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔