حماد اظہر کا این اے 129 سے الیکشن نہ لڑنے کا اعلان، ٹکٹ بھانجے کو دینے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 25th, August 2025 GMT
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما حماد اظہر نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 129 سے ضمنی انتخاب نہ لڑنے کا باضابطہ اعلان کر دیا ۔ انہوں نے اس فیصلے کے تحت پارٹی ٹکٹ اپنے بھانجے چوہدری ارسلان ظہیر کو دینے کا اعلان کیا ہے۔
حماد اظہر کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں ان کے لیے انتخابی مہم میں حصہ لینا اور کامیابی کے بعد حلف اٹھانا ممکن نہیں۔ ان کا کہنا تھا: “یہ فیصلہ سوچ سمجھ کر کیا ہے، چوہدری ارسلان ظہیر نوجوان، باصلاحیت اور متحرک ہیں، اور وہ حلقے کے عوام کی نمائندگی بھرپور طریقے سے کریں گے۔”
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ چوہدری ارسلان ظہیر پر 9 مئی کے واقعات سے متعلق کوئی جعلی مقدمہ بھی نہیں، جس کی وجہ سے ان کی انتخابی مہم کو قانونی یا سیاسی مسائل کا سامنا نہیں ہوگا۔ حماد اظہر نے یہ بھی بتایا کہ انتخابی مہم کی نگرانی ان کی ہمشیرہ کریں گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔