چین کی جانب سے تبت میں دنیا کا سب سے بڑا پن بجلی ڈیم بنانے کے اعلان نے بھارت میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ نئی دہلی کو خدشہ ہے کہ یہ ڈیم دریائے برہم پتر (چینی نام: یارلنگ زانگبو) کے قدرتی بہاؤ کو بری طرح متاثر کر سکتا ہے، خاص طور پر خشک موسم میں جب پانی کی قلت خود ایک بحران بن جاتا ہے۔
بین الاقوامی رپورٹس اور بھارتی حکومتی تجزیے کے مطابق، یہ چینی ڈیم پانی کا بہاؤ 85 فیصد تک کم کر سکتا ہے، جو بھارت، بنگلہ دیش اور چین کے کئی کروڑ لوگوں کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔
جوابی حکمت عملی: بھارت نے اپنے ڈیم منصوبے تیز کر دیے
اس خطرے کے پیشِ نظر بھارت نے بھی جوابی قدم اٹھانے شروع کر دیے ہیں۔ مئی میں بھارت نے اپر سیانگ ملٹی پرپز اسٹوریج ڈیم کے لیے سروے کا آغاز کیا، جسے سخت سکیورٹی میں مکمل کیا گیا۔ اگر یہ منصوبہ مکمل ہوتا ہے تو یہ بھارت کا سب سے بڑا ڈیم بنے گا، جو تقریباً 14 ارب مکعب میٹر پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہوگا — تاکہ خشک موسم میں پانی چھوڑ کر آسامی علاقوں کو ریلیف دیا جا سکے۔
وزیراعظم مودی کے دفتر میں جولائی میں اس منصوبے پر پیش رفت تیز کرنے کے لیے اعلیٰ سطح اجلاس بھی بلایا گیا۔
مقامی آبادی کی شدید مزاحمت
تاہم بھارت کو صرف بیرونی نہیں بلکہ اندرونی چیلنجز کا بھی سامنا ہے۔ اروناچل پردیش کی آدی کمیونٹی نے اس منصوبے کی بھرپور مخالفت کی ۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ ان کی زمینیں اور طرزِ زندگی اس ڈیم سے تباہ ہو جائیں گے۔ احتجاج کے دوران کئی بار پولیس کیمپ نذرِ آتش کیے گئے، مشینری توڑی گئی اور سڑکیں بند کی گئیں۔
ان کے مطابق یہی زمینیں ان کے بچوں کی تعلیم اور مستقبل کا واحد سہارا ہیں، اور وہ انہیں کسی قیمت پر قربان نہیں کریں گے۔
چین کی وضاحت اور ماہرین کی وارننگ
چینی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ ان کا منصوبہ سائنسی تحقیق اور ماحولیاتی تحفظ کے عالمی معیارات پر پورا اترتا ہے اور نیچے کے ممالک کو نقصان نہیں پہنچائے گا۔ مگر ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ تبت اور اروناچل پردیش زلزلہ خیز علاقے ہیں، اور بڑے ڈیمز یہاں خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔
پس منظر میں بڑھتا جیوپولیٹیکل دباؤ
چین کا دعویٰ ہے کہ یہ منصوبہ ماحولیاتی تحفظ کے اصولوں کے مطابق ہے، لیکن بھارت کو خدشہ ہے کہ بیجنگ اسے سفارتی دباؤ اور علاقائی اثر و رسوخ کے لیے بطور ہتھیار استعمال کر سکتا ہے۔ بھارتی تجزیے کے مطابق چین ہر سال 40 ارب مکعب میٹر پانی موڑنے کی صلاحیت حاصل کر لے گا، جو کہ ایک تہائی سے بھی زیادہ ہے۔

Post Views: 7.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کے مطابق کے لیے

پڑھیں:

آسام میں سیلاب سے 50 افراد ہلاک، 7 لاکھ بےگھر

بھارت کی ریاست آسام میں شدید مون سون بارشوں اور سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے۔

تازہ اطلاعات کے مطابق شدید سیلابی صورتحال سے کم از کم 50 افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور تقریباً 7 لاکھ افراد بے گھر ہوگئے ہیں۔

دریائے برہم پترا کے پانی میں اضافے سے تقریباً 900 دیہات زیرِ آب آ گئے ہیں۔ تقریباً 3 لاکھ افراد کو سرکاری ریلیف کیمپوں میں منتقل کیا گیا ہے، جبکہ کئی علاقوں میں خوراک اور امدادی سامان ہیلی کاپٹروں کے ذریعے پہنچایا جا رہا ہے۔

ریاستی دارالحکومت گوہاٹی سمیت متعدد علاقوں میں سڑکیں زیرِ آب آنے سے آمدورفت شدید متاثر ہوئی ہے، جبکہ امدادی اور ریسکیو کارروائیاں جاری ہیں۔ حکام کے مطابق مسلسل بارشوں اور دریا کی بلند سطح کے باعث صورتحال بدستور تشویشناک ہے اور متاثرہ علاقوں میں مزید امدادی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ٹانک: پولیس چیک پوسٹ پر خوارج کا بزدلانہ حملہ، 15 بہادر جوان شہید، جوابی کارروائی میں 12 دہشتگرد ہلاک
  • دہلی:سیکیورٹی فورسز نے احتجاجی مظاہرین پر پیلٹ گنز کا استعمال کیا، بھارتی اخبار کی رپورٹ
  • آسام میں سیلاب سے 50 افراد ہلاک، 7 لاکھ بےگھر
  • چینی چڑیا گھر میں جانور گرمی کی شدید لہر سے کیسے محفوظ رہتے ہیں؟
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف