بھارت: جگر عطیہ کرنے کی کوشش، ٹرانسپلانٹ سرجری کے دوران شوہر سمیت بیوی بھی چل بسی
اشاعت کی تاریخ: 25th, August 2025 GMT
پونے(انٹرنیشنل ڈیسک) بھارتی شہر پونے میں شوہر کو جگر کا ٹکڑا بطور عطیہ دینے والی خاتون نجی اسپتال میں جگر کی پیوندکاری کے بعد شوہر سمیت جان کی بازی ہار گئی۔
بھارتی میڈیا کے مطابق شوہر کو جگر کا ٹکڑا عطیہ کرنے والی خاتون، کامنی اپنی جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھی، چند روز قبل ہی کامنی نے اپنے شوہر، بپو کومکر کو جگر کا ٹکڑا عطیہ کیا تھا، اس کے شوہر کی بھی موت واقع ہو گئی ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق رواں ماہ 15 اگست کو بپو کمار نامی مریض کا جگر ٹرانسپلانٹ ہوا جس کے لیے اس کی اہلیہ، کامنی کومکر نے اپنا جگر عطیہ کیا تھا۔
سرجری کے دو دن بعد بپو کومکر کی طبیعت بگڑ گئی اور وہ چل بسا، اس کے کچھ دن بعد ہی کامنی کومکر کو بھی انفیکشن ہو گیا اور وہ 21 اگست کو دورانِ علاج دم توڑ گئی۔
بھارتی میڈیا کے مطابق بپو اور کامنی کے اہل خانہ نے نجی اسپتال پر الزام عائد کیا کہ معاملہ طبی لاپروائی کا ہے۔
دوسری جانب نجی اسپتال کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا کہ دونوں آپریشنز ’طبی اصولوں کے مطابق‘ انجام دیے گئے تھے اور متاثرہ خاندان کو پہلے ہی خطرات سے متعلق تفصیل سے آگاہ کیا گیا تھا۔
اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ بپو کومکر ایک ہائی رسک مریض تھا جسے کئی طبی پیچیدگیاں لاحق تھیں۔
اسپتال کی انتظامیہ نے اپنے بیان میں مزید بتایا کہ بپو کومکر کو سرجری کے بعد ’کارڈیو جینک شاک‘ ہوا اور انہیں بچایا نہ جا سکا۔
کامنی کومکر ابتدائی طور پر بہتر ہو رہی تھیں لیکن بعد میں انہیں ’سیپٹک شاک‘ اور ’ملٹی آرگن ڈس فنکشن‘ ہو گیا جس پر قابو پانا ناممکن تھا۔
اسپتال نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم کومکر خاندان کے غم میں برابر کے شریک ہیں اور مکمل تعاون فراہم کر رہے ہیں۔
دوسری جانب اس واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے مہاراشٹرا کے محکمۂ صحت نے نجی اسپتال کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مکمل تفصیلات طلب کر لی ہیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق محکمۂ صحت کے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر ناگناتھ یمپلے نے نجی اسپتال کو مریض اور ڈونر سے متعلق تمام معلومات، ویڈیو ریکارڈنگز اور علاج کی تفصیلات جمع کروانے کی ہدایت دی گئی ہے۔
Post Views: 9.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: بھارتی میڈیا کے مطابق نجی اسپتال بپو کومکر
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :